dukanon ko bijli faraham karne ke paise lena
سوال
ہمارے گھر کے نیچے دکانیں ہیں۔ ان دکانوں کو بجلی ایک ہی واپڈا میٹر سے فراہم کی جاتی ہے، جبکہ ہر دکان میں الگ سب میٹر لگا ہوا ہے۔ کیا ہم دکانداروں سے اُن کے استعمال کردہ یونٹس کے مطابق اپنی مقرر کردہ ریٹ پر بجلی کے پیسے وصول کر سکتے ہیں؟
سائل: اسامہ ماجد۔ (دار الافتاء سیلانی ویب سائٹ)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
گھر کے نیچے واقع دکانوں کو واپڈا کے مرکزی میٹر سے سب میٹر کے ذریعے بجلی فراہم کرنا اور دکانداروں سے واپڈا کے طے شدہ ٹیرف سے زائد ریٹ پر یونٹس کے حساب سے رقم وصول کرنا جائز ہے، بشرطیکہ میٹر کمرشل ہو۔ ریزیڈنشل کنکشن پر کاروباری سرگرمی چلانا قانونی طور پر جرم ہے، جس کی وجہ سے چھاپوں پر رسوائی، بچاؤ کے لئے جھوٹ اور رشوت جیسے حرام امور میں مبتلا ہونے کا قوی اندیشہ رہتا ہے؛ لہٰذا اس جواز کے لیے میٹر کا کمرشل ہونا ضروری ہے۔
مالک مکان کی جانب سے دکانداروں کو بجلی فراہم کرنے کا یہ عمل عقدِ اجارہ یعنی کرایہ داری پر مبنی ہے، جس میں مالک مکان اپنا انفراسٹرکچر اور میٹر کا نظام استعمال کرتے ہوئے دکانداروں کو بجلی کی جو سہولت فراہم کرتا ہے، وہ ایک منفعت مقصودہ ہے، اور اس منفعت کے بدلے اجرت لینا درست ہے۔ اس عقدِ اجارہ کی صحت کے لیے چونکہ یونٹس کے حساب سے اجرت بالکل متعین ہوتی ہے اور فریقین کے مابین فی یونٹ ریٹ بھی طے شدہ ہوتا ہے، اس لیے اس میں کسی قسم کی جہالت نہیں رہتی۔ اگر مالک مکان سرکاری ٹیرف سے کچھ زائد ریٹ وصول کرتا ہے جو کہ اس کے انتظامات کا معاوضہ ہے، تو باہمی رضامندی سے اس میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ۔ البتہ اس جواز کی بنیادی شرط یہ ہے کہ بجلی کا میٹر کمرشل ہو، کیونکہ ریزیڈنشل کنکشن پر تجارتی سرگرمی چلانا قانوناً جرم ہے، اور قانون شکنی کے نتیجے میں حرام امور میں ابتلاء کا قوی اندیشہ ہے ۔
دلائل و جزئیات:
اذلال نفس سے متعلق حدیث پاک میں ہے:"عن حذيفة رضي الله تعالی عنه قال : قال رسول الله صلى الله تعالی علیه وسلم: "لا ينبغي للمؤمن أن يذل نفسه".ترجمہ: حضرت حذیفہ رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے، فرمایا: رسول اللہ صلی الله تعالی علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مومن کو نہیں چاہیے کہ وہ اپنے نفس کو ذلت پر پیش کرے۔ (ترمذی شریف جلد2، صفحه 498 مطبوعه لاهور)
مرقاۃ المفاتیح میں اس حدیث کے تحت فرمایا:"(لا ينبغي) أي لا يجوز للمؤمن أن يذل نفسه) اي باختياره".ترجمہ: حدیث پاک کا مطلب یہ ہے کہ مومن کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے اختیار سے اپنے آپ کو زلت پر پیش کرے۔ (مرقاة المفاتیح،5/416،مطبوعہ کوئٹه)
مبسوط للسرخسی میں ہے:"اذلال النفس حرام".ترجمہ: خود کو ذلت پر پیش کرنا حرام ہے۔ (المبسوط للسرخسی،5/23، مطبوعہ کوئٹه)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’ کسی ایسے امر کا ارتکاب جو قانونا ناجائز ہو اور جرم کی حد تک پہنچے شرعا بھی ناجائز ہوگا کہ ایسی بات کے لئے جرم قانونی کا مرتکب ہو کر اپنے آپ کو سزا اور ذلت کے لئے پیش کرنا شرعا بھی روا نہیں۔ قال تعالٰی لا تلقوا بایدیکم الی التہلکۃ ، وقد جاء الحدیث عنہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ینہی المومن ان یذل نفسہ ۔ اللہ تعالٰی نے فرمایا: اپنے ہاتھوں ہلاکت میں نہ پڑو، اور حدیث شریف میں حضور صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم کا ارشاد منقول ہے کہ آپ نے مومن کو اپنا نفس ذلت میں ڈالنے سے منع فرمایا ہے‘‘۔ (فتاوی رضویہ،جلد:20،ص:188،رضا فاؤنڈیشن لاہور)
اجارہ میں منفعت مقصودہ کے متعلق علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی رحمۃ اللہ علیہ (المتوفی:587ھ) فرماتے ہیں:"ومنها أن تكون المنفعة مقصودة يعتاد استيفاؤها بعقد الإجارة ويجري بها التعامل بين الناس؛ لأنه عقد شرع بخلاف القياس لحاجة الناس ولا حاجة فيما لا تعامل فيه للناس". ترجمہ: اور اجارہ کی شرائط میں سے یہ ہے کہ منفعت کا حصول عقدِ اجارہ سے عادۃً مقصود اور اس میں لوگوں کا تعامل رائج ہو کیونکہ یہ ایسا عقد ہے جو خلافِ قیاس مشروع ہوا ہے لوگوں کی حاجت کیلئے اور جس میں لوگوں کا تعامل نہ ہو اس میں حاجت متحقق نہیں (لہذا منفعتِ مقصودہ کی شرط لازم ہے)۔ (بدائع الصنائع، کتاب الاجارۃ، فصل فی شرائط رکن الاجارۃ ، 4/192، دار الكتب العلمية)
اجرت کی تعیین کے وجوب کے بیان میں سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: "عن أبي هريرة، وأبي سعيد، قالا: «من استأجر أجيرا، فليعلمه أجره»". ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ اور حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، دونوں نے فرمایا: جو شخص کسی اجیر کو اجرت پر رکھے تو اسے اس کی اجرت سے آگاہ کردے۔ (مصنف ابن أبي شيبة، 4/366، رقم الحديث: 21109، مكتبة الرشد الرياض)
اجارہ میں ہر قسم کی جہالت کے فساد کا باعث ہونے اور اجرت کی تعیین کے حکم کے بیان میں علامہ ابو الفضل عبد اللہ بن محمود الموصلی (المتوفی:683ھ) فرماتے ہیں: "وكل جهالة تفسد البيع تفسد الإجارة من جهالة المعقود عليه أو الأجرة أو المدة لما عرف أن الجهالة مفضية إلى المنازعة. والأصل قوله - عليه الصلاة والسلام -: «من استأجر أجيرا فليعلمه أجره»". ترجمہ: اور ہر وہ جہالت جو بیع کو فاسد کرتی ہے، وہ اجارہ کو بھی فاسد کر دیتی ہے، خواہ معقود علیہ کی جہالت ہو، اجرت کی ہو یا مدت کی، کیونکہ یہ بات معروف ہے کہ جہالت نزاع تک پہنچانے والی ہوتی ہے؛ اور اس کی اصل حضور علیہ الصلاۃ والسلام کا یہ فرمان ہے: جو شخص کسی اجیر کو اجرت پر رکھے تو اسے اس کی اجرت بتا دے۔ (الاختيار لتعليل المختار، كتاب الإجارة، فصل بيان ما يجب إذا فسدت الإجارة، 2/57، دار الكتب العلمية) ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب