سوال
میں نے تین سال پہلے غصے میں اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تھی اور اس کے بعد رجوع بھی کرلیا تھا، اور اب ایک طلاق دی ہے ہر ایک بار یہ الفاظ کہے میں تمہیں طلاق دیتا ہوں۔اب سوال یہ ہے کہ کیا میں رجوع کرسکتا ہوں یا نہیں؟ نیز یہ کہ رجوع کے بعد کیا صورتِ حال ہوگی۔
سائل:فواد احمد شمسی:کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگرشوہر نے ان دو طلاقوں سے پہلےکبھی طلاق نہیں دی توشرعًا دورانِ عدت رجوع کر سکتا ہے ۔ اور اگر عدتگزر گئی اور رجوع نہ کیا تو وہ عورت طلاق بائنہ کے ذریعے نکاح سے باہر ہو جائے گی ۔پھر اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے دوبارہ ساتھ رہنا چاہیں تو شرعی گواہان کی موجودگی میں نئے مہر کے ساتھ(بغیر حلالہ) دوبارہ نکاح کرنا پڑے گا،اور دونوں صورتوں میں(عدت میں رجوع کرے یا عدت کے بعد نکاحِ جدید کرے) شوہر کوآئندہ صرف ایک طلاق کا اختیار رہے گا۔
رجوع کرنے کامسنون طریقہ یہ ہے کہ شوہردوگواہوں کی موجودگی میں کسی لفظ کے ذریعے رجوع کرے مثلا یہ الفاظ کہہ دے کہ میں نے اپنی بیوی سے رجوع کیااوراگروقت ِ رجوع وہاں بیوی موجود نہ ہوتواسے خبرپہنچا دے کہ میں نےرجوع کر لیا ہے ۔اگرقول کے ذریعے رجوع کیامگرگواہ نہ کئے یا عورت کو خبر نہ دی یا فعل سے رجوع کیا مثلاً اُس سے وطی کی یا شہوت کے ساتھ بوسہ لیاتو ان تینوں صورتوں میں بھی رجوع ہو جائےگامگر اس طرح رجوع کرنا مکروہ و خلافِ سنت ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن مجید فرقانِ حمید میں ارشاد فرماتا ہے(الطلاق مرّتٰن فامساکم بمعروف أوتسریح باحسان)ترجمہ کنزالایمان :یہ طلاق(جس کے بعد رجعت ہو سکے )دوبار تک ہے پھربھلائی کے ساتھ روک لینا ہے یا نکوئی (اچھے سلوک )کے ساتھ چھوڑ دینا ہے ۔ان آیات کے تحت تفسیر مدارک میں ہے:(الطلاق مرّتٰن )أی الطلاق الرجعی مرتان لأنہ لا رجعۃ بعد الثلاث (فامساکم بمعروف)برجعۃٍ ،والمعنی فالواجب علیکم أمساک بمعروفٍ(أوتسریح م باحسان)بأن لا یراجعھا حتی تبین بالعدۃ۔ترجمہ:(یہ طلاق دوبار تک ہے)یعنی طلاقِ رجعی دو مرتبہ ہے کیونکہ تیسری طلاق کے بعد رجعت نہیں ہے (پھربھلائی کے ساتھ روک لینا ہے)یعنی رجوع کر کے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اے مسلمانوں تم پر واجب ہے کہ رجوع کر کے بیوی کو روک لو یا نکوئی (اچھے سلوک )کے ساتھ چھوڑ دینا ہے،یعنی اس سے رجوع نہ کرے یہاں تک کہ عدت گزر کر بائنہ ہوجائے۔ (تفسیرِ مدارک ،ج1،ص128، کراچی)
شوہر کو رجوع کا حق حاصل ہے اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے :’’وبعولتھن أحق بردھن‘‘اس کے تحت تفسیر مدارک میں ہے :’’أی أزواجھن أولی برجعتھن ،فی مدۃ ذالک التربص ‘‘یعنی عورت جب تک طلاق رجعی کی عدت میں ہو تو اس کا شوہر ہی اس سے رجوع کرنے کا زیادہ حقدار ہے ۔(تفسیر مدارک ،ج01،ص126،127،کراچی)
نقایہ میں طلاق رجعی کی عدت کے دوران رجوع کرنے کے بارے میں فرمایا :تصح الرجعۃ فی العدۃ وان أبت اذا لم تبن خفیفۃ أو غلیظۃ ۔ترجمہ: مردنے اگر عورت کو طلاق بائن خفیفہ یعنی ایک یا دو طلاق بائن یا طلاق بائن غلیظہ یعنی تین طلاقیں نہ دی ہوں تو اسے عورت سے عدت میں رجوع کرنے کا اختیار ہوتا ہے ۔(نقایہ مع شرحہ فتح باب العنایۃ ،ج2،ص129،ایچ ایم سعید کمپنی )
الفاظ رجوع کے بارے میں تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے: وَتَصِحُّ (بِنَحْوِ رَجَعْتُكِ) (وَ) بِالْفِعْلِ مَعَ الْكَرَاهَةِ(بِكُلِّ مَا يُوجِبُ حُرْمَةَ الْمُصَاهَرَةِ) كَمَسٍّ وَلَوْ مِنْهَا ، أَوْ نَائِمًا (ملخصا) ترجمہ: اور '' میں نے تجھ سے رجوع کیا''جیسے الفاظ کے ساتھ رجوع درست ہے ، اور ہر اس فعل سے بھی رجوع درست ہے جو حرمت مصاہرت ثابت کردے، لیکن مکروہ ہے جیسا چھونا(شہوت کے ساتھ)اگر چہ نیند وغیرہ میں چھوئے۔(تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الطلاق باب الرجعۃ جلد 3 ص 398)
صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کسی لفظ سے رجعت کرے اور رجعت پر دو عادل شخصوں کو گواہ کرے اور عورت کو بھی اس کی خبر کردے کہ عدت کے بعد کسی اور سے نکاح نہ کرلے اور اگر قول سے رجعت کی مگر گواہ نہ کئے یا گواہ بھی کئے مگر عورت کو خبر نہ کی تو مکروہ خلافِ سنت ہے مگر رجعت ہو جائے گی اور اگر فعل سے رجعت کی مثلاً اُس سے وطی کی یا شہوت کے ساتھ بوسہ لیا یا اُس کی شرمگاہ کی طرف نظر کی تو رجعت ہو گئی مگر مکروہ ہے ۔"آپ علیہ الرحمہ رجعت کے الفاظ کے متعلق فرماتے ہیں:"ر جعت کے الفاظ یہ ہیں میں نے تجھ سے رجعت کی یا اپنی زوجہ سے رجعت کی یا تجھ کو واپس لیا ۔ یا روک لیا یہ سب صریح الفاظ ہیں کہ اِن میں بلا نیّت بھی رجعت ہو جائیگی ۔ یاکہا تو میرے نزدیک ویسی ہی ہے جیسی تھی یا تو میری عورت ہے تو اگر بہ نیت رجعت یہ الفاظ کہے ہوگئی ورنہ نہیں اور نکاح کے الفاظ سے بھی رجعت ہو جاتی ہے ۔(بہارِ شریعت ج1،ص35مطبوعہ ضیاء القرآن ،لاہور)
اگر عدت گزر جائے تو بھی نئے نکاح اور نئے مہر کے ساتھ (بغیر حلالہ)دوبارہ ساتھ رہ سکتے ہیں، جیساکہ بدائع الصنائع میں ہے : أنها تحل في كل واحدة منهما بنكاح جديد من غير التزوج بزوج آخرترجمہ:طلاق رجعی(میں عدت گزرنے کے بعد ) اور طلاق بائن میں سے ہر ایک میں عورت دوسرے شوہر سے شادی کئے بغیر محض نکاح جدید سے ہی سابقہ شوہر کے لیے حلال ہوجائے گی۔( بدائع الصنائع کتاب النکاح فصل فی الکنایۃ فی الطلاق جلد 3 ص 108 )
عدت کی تفصیل یہ ہے کہ طلاق یافتہ کی عدت تین حیض ہے ، اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینےاور اگر عورت حاملہ ہوتو تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی۔قال اللہ تعالٰی وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء۔ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔(البقرہ 228)
اور دوسری جگہ یوں ارشاد ہوا: والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لمیَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق :4) ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني
تاريخ اجراء:25 رجب المرجب 1442 ھ/10 مارچ 2021 ء