سوال
میں ایک مسجد میں خادم رہ چکا ہوں ، وہاں میں نے تفسیر صراط الجنان کی 10 جلدیں لے کر اس مسجد کے لیے وقف کردی کہ جو بھی مسلمان چاہے اسکو پڑھ سکے ۔ جب میں وہاں مسجد سے معزول ہوا تو مسجد کے کچھ لوگوں نے اس تفسیر کو اٹھا کر اوپر حجرے میں رکھ دیا جو کہ مسجد کے اوپر ہے ۔ جواب طلب امر یہ ہے کہ
مسجد والوں کا ایسا کرنا کیسا ؟واقف اس تفسیر کو یا قرآن کو واپس اٹھا سکتا ہے یا کسی اور مسجد میں رکھ سکتا ہے یا نہیں؟اگر مسجد میں قرآن یا تفسیر رکھنے کی جگہ نہ ہوتو ایسا کرسکتے ہیں یعنی کہیں اور رکھ سکتے ہیں ؟
سائل: محمد عالم : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر وقت وقف واقف نے کچھ شرط نہ کی اور یہ تفسیر اس مسجد کے لیے خاص کردی تاکہ لوگ اسے پڑھ سکیں تو اس کو کہیں اور لے جانا یا رکھنا قطعا جائز نہیں ہے۔ اور نہ ہی واقف اس کو واپس لے سکتا ہے ، اور نہ ہی کسی اور مسجد میں منتقل کرسکتا ہے۔اور اگر مسجد میں بالکل جگہ نہ رہے کہ کتابیں رکھنے کی وجہ سے نمازیوں کو تنگی ہوتی ہو یا نماز کی جگہ کم پڑتی ہو یا ان کتابوں کی بے ادبی ہوتی ہو تو اس صورت میں مسجد سے ہی ملحق کسی ایسی جگہ رکھنا جائز ہے جہاں سب لوگوں کی رسائی ہو ۔کیونکہ جو چیز جس کے لیے جس جہت میں وقف ہوجائے اسکو اس کے علاوہ سے بدلنا جائز نہیں ہے ۔
عالمگیری میں ہے:وَلَا يَجُوزُ تَغْيِيرُ الْوَقْفِ عَنْ هَيْئَتِهِ :ترجمہ:۔ اور وقف کو اسکی حالت سے تبدیل کرنا جائز نہیں ہے ۔( عالمگیری کتاب الوقف الباب الرابع عشر فی المتفرقات جلد 2ص 365)
یوں ہی شامی میں ہے : الْوَاجِبَ إبْقَاءُ الْوَقْفِ عَلَى مَا كَانَ عَلَيْهِ :ترجمہ: وقف کو اسی حالت پر رکھنا واجب ہے جس حالت پر وہ فی الحال موجود ہے۔( رد المحتا علی الدر المختار مع تنویرالابصار کتاب الوقف مطلب فی استبدال الوقف وشروطہ 4ص388)
رد المحتار میں ہے :ظاہرہ انہ یکون مقصوراعلٰی ذٰلک المسجد وھذاھو الظاہر حیث کان الواقف عین ذٰلک المسجدا ترجمہ: ظاہر اس کا یہی ہے کہ وہ اسی مسجد کے لئے مختص ہے اور یہی ظاہر ہے جبکہ خود واقف نے اسی مسجد کے لئے معین کردیا تھا۔ (رد المحتار مع الدر المختار ،کتاب الوقف جلد 3ص376 داراحیاء التراث العربی بیروت)
اسی میں چند سطور بعد مذکور ہے:فِي الْقُنْيَةِ: سَبَّلَ مُصْحَفًا فِي مَسْجِدٍ بِعَيْنِهِ لِلْقِرَاءَةِ لَيْسَ لَهُ بَعْدَ ذَلِكَ أَنْ يَدْفَعَهُ إلَى آخَرَ مِنْ غَيْرِ أَهْلِ تِلْكَ الْمَحَلَّةِ لِلْقِرَاءَةِترجمہ: قنیہ میں ہے کہ کسی شخص نے قرآن مجید ایک خاص مسجد میں تلاوت کےلئے صدقہ کیا تو اب اس کو اختیار نہیں کہ وہ اس مسجد کے اہل محلہ کے علاوہ کسی دوسرے کو پڑھنے کےلئے دے۔(ایضا)
سیدی اعلیٰ حضرت سے اسی طرح کا سوال کیا گیا:کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک شخص نے عرصہ دس سال سے اپنی کتابیں جامع مسجد بڑودہ میں فی سبیل اﷲ وقف کردی ہیں، عرصہ دس سال سےا نجمن اصلاح اہلسنت وجماعت کے قبضے میں ہیں اب وہ شخص رافضی کی طرفداری میں ہوکر کتب خانہ موقوف کو واپس اپنے قبضہ میں کرنا چاہتا ہے تو وہ شخص اس بات کا مستحق ہے کہ انجمن اہل سنت وجماعت کا قبضہ چھڑ ا کر اپنا قبضہ کرے یا کتابوں کو دوسری مسجد یا مدرسہ کی طرف منتقل کردے۔ بینواتوجروا
آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں:اگر اس نے کتابیں مسجد جامع پر وقف کیں تو جائز نہیں کہ وہ کسی مدرسہ یا دوسری مسجد کی طرف منتقل کی جائیں۔۔۔واقف کتب اگر کتابیں اسی مسجد میں رکھنا چاہتا اور قبضہ انجمن سے نکال کر اپناقبضہ متولیانہ رکھتا تو اس کے جواز کی طرف راہ تھی، امام ابویوسف کے نزدیک جائز تھا، اشباہ میں فرمایا بہ یفتی(اس پر فتوٰی ہے)، اور امام محمد کے نزدیک ناجائز تھا جب تک وقت وقف یہ شرط نہ کرلیتا کہ متولی کے بدلنے کا مجھے اختیار ہے۔ صاحب ہدایہ نے تجنیس میں فرمایا: الفتوی علی قول محمد (فتوی امام محمد کے قول پر ہے)اور اسی پر علامہ قاسم نے تصحیح القدوری اور خود صاحب اشباہ نے اپنے رسائل میں جزم فرماکہ یا ناجائزہے ، لیکن اگر وہ قبضہ اس لئے چاہتا ہے کہ کتابیں دوسری جگہ منتقل کردے تو اس کی اجازت نہ دیں گے ۔ملخصاََ(فتاویٰ رضویہ ،کتاب الوقف ،جلد 16 ص 518،519 رضا فاؤنڈیشن ،لاہور)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
تاریخ اجراء:11 ربیع الثانی 1440 ھ/19 دسمبر 2018 ء