حیض نہ آئے تو عدت کا حکم
    تاریخ: 28 فروری، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 916

    سوال

    میں نے اپنی زوجہ کو رمضان کے مہینے میں تین طلاق دے دی تھی، اب میں ان سے رجوع کرناچاہتا ہوں لیکن مسئلہ یہ ہے کہ انکو چار پانچ سال سے حیض نہیں آرہا اور میں نے میڈیکل ٹیسٹ بھی کروائے ہیں ، ڈاکٹر کی رپورٹ کے مطابق اب انکو حیض نہیں آئے گا ۔ اب مجھے یہ معلوم کرنا ہے کہ زوجہ کی عدت کا کیا حکم ہے اور رجوع کس طرح ممکن ہے؟

    نوٹ: متعلقہ شعبہ کی رہنمائی حاصل کرنے کے بعد میڈیکل رپورٹ کے مطابق اب انہیں حیض نہیں آئے گا، جبکہ عورت کی عمر 50 سال بتائی گئی ہے۔ سائل:محمد یونس : کراچی۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جس عورت کو حیض نہ آتا ہواصطلاحِ شرع میں اسے آیسہ سے تعبیر کرتے ہیں جسکی عمر کی حد مفتی بہ قول کے مطابق 55 سال ہے ،جیساکہ مراقی الفلاح شرح نور الایضاح میں ہے: سن الإياس" وهو خمس وخمسون ستة على المفتى به۔ ترجمہ: سن ایاس(حیض سے ناامیدی کی عمر) مفتی بہ قول کے مطابق پچپن سال ہے۔ (حاشیہ طحطاوی علی مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، جلد 1 ، ص 139)

    یونہی البحر الرائق میں ہے: ثم الأصح أن الحيض موقت إلى سن الإياس وأكثر المشايخ قدروه بستين سنة ومشايخ بخارى وخوارزم بخمس وخمسين فما رأت بعدها لا يكون حيضا في ظاهر المذهب وفي المجتبى والفتوى في زماننا أن يحكم بالإياس عن الخمسين ۔ ترجمہ:پھر زیادہ صحیح یہ ہے کہ حیض کا وقت سن ایاس تک ہے اور اکثر مشائخ نے اسکی عمر کی حد 60 سال مقرر فرمائی ہے جبکہ مشائخ بخارٰی و خوارزم نے پچپن سال ، ظاہر مذہب کے مطابق اسکے بعد عورت جو کچھ دیکھے وہ حیض نہیں ہے، اور مجتبٰی میں ہے ہمارے زمانے میں اس بات پر فتوٰی ہے کہ 50سال کی عمر میں آئسہ ہونے کا حکم لگایا جائے ۔(البحر الرائق شرح کنز الدقائق ، جلد 1 ص 201)

    ہماری کتبِ فقہ میں تصریح ہے کہ اگر کوئی عورت ایسی ہو جو سنِ ایاس کو نہ پہنچی ہوتو اسکی عدت حیض سے ہی شمار کی جائے گی خواہ اسے تین حیض آنے میں سالوں کیوں نہ لگ جائیں ، سو ان سالوں میں وہ عورت معتدہ ہی رہے گی حتی کہ سن ایاس کو پہنچ جائے پھر جب سنِ ایاس کو پہنچ جائے تو اب تین ماہ گزار کے عدت سے نکلے گی ، کہ اب اسکی عدت حیض نہیں بلکہ تین ماہ شمار ہوگی۔

    تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے: لو امتد طهرها تبقى عدتها حتى تبلغ سن الإياس فتح۔ترجمہ:اگر عورت کا طہر کا دورانیہ لمبا ہوجائے تو سن ایاس کو پہنچنے تک اسکی عدت باقی رہے گی۔(تنویر الابصار مع الدر المختار،جلد3 ص 513)

    اللباب فی شرح الکتاب میں ہے: قولہ (وإن كانت) ممن (لا تحيض من صغر أو كبر) بأن بلغت سن الإياس (فعدتها ثلاثة أشهر) قيدنا الكبر ببلوغ سن الإياس لأنه إذا كانت ممن تحيض فامتد طهرها فإن عدتها بالحيض مالم تدخل في حد الإياس. جوهرة۔ ۔ترجمہ:اور عورت کو صِغر یا کِبر کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو ،کبر کی وجہ سےہوں کہ وہ سن ایاس کو پہنچ جائے، تو اسکی عدت تین ماہ ہے، ہم نے کبر سن ایاس تک پہنچنے سے مقید کیا کیونکہ اگر اسے حیض آتا ہو اور اسکا طہر کا دورانیہ لمبا ہوجائے تو اسکی عدت حیض سے ہی شمار ہوگی جبکہ حد ایاس کو نہ پہنچے۔(اللباب فی شرح الکتاب، جلد 3ص80)

    قدوری میں ہے: وإن كانت لا تحيض من صغرٍ أو كبرٍ فعدتها ثلاثة أشهرٍ بالنص ،۔ترجمہ: اور عورت کو صِغر یا کِبر کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو ، تو اسکی عدت تین ماہ ہے نص کی وجہ سے ۔

    نص سے مراد باری تعالٰی کا یہ فرمان ہے: والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍ۔ترجمہ:اور تمہاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے ۔(الطلاق :4)

    پھر اگر عورت سن ایاس کوتو نہیں پہنچی لیکن ایسے قرائن و شواہد موجود ہیں مثلاً فی زمانہ میڈیکل رپورٹ وغیرہ جن سے یہ ثابت ہوجائے کہ اب اسے حیض نہ آئے گا تو ایسی عورت بھی آئسہ کے حکم میں ہے اور اسکی عدت بھی تین ماہ ہی شمار ہوگی بالخصوص اس صورت میں کہ جب اسکی عمر پچاس سال یا اسکے قریب قریب ہوکہ بعض کتب فقہ میں ہے (جیساکہ بحر کے حوالے سے گزرا) حالاتِ زمانہ کے اعتبار سے 50 سال کی عمر کو بھی آئسہ کی حد قرار دینے پر فتوٰی دیا گیا ہے۔

    لہذا صورت مسئولہ میں بھی جب میڈیکل رپورٹ اس بات کی شاہد ہے کہ اب اس عورت کو حیض نہیں آئے گا تو اسکی عدت بھی تین ماہ شمار ہوگی۔

    سو ا ب طلاق کے واقع ہونے سے تین ماہ گزرنے کے بعد عورت کی عدت ختم ہوگئی جس کے بعد وہ نکاح سے نکل گئی ،اب اگر دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم حلالہ شرعی پر عمل کرنا ہوگا ، جس کا معنیٰ ہے'' حلال کرنا '' جب کسی عورت کو اس کا شوہر تین طلاقیں دے تو وہ عورت اس مردپر ہمیشہ کےلئے حرام ہو جا تی ہے اس کے بعد یہ عورت پہلے شوہر کے ساتھ رشتہ ازدواجیت قائم کرنا چاہے تو اس کی ایک ہی صورت شریعت اسلامیہ نے رکھی ہے وہ یہ کہ یہ عورت پہلے شوہر کی طلا ق کی عدت گزارے، پھر بعد از عدت کسی اور مرد سے نکاح کرے،پھر حقوق زوجیت ادا کرے اسکے بعد وہ دوسرا شوہر اس کواپنی مرضی سے طلاق دیکر زوجیت سے خارج کرے پھر یہ عورت اس شوہرِ ثانی کی عدت گزارے، جس کے بعد زوج اول سے دوبارہ نکاح کر سکتی ہے ۔

    ارشاد باری تعالی ہے:''فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ''ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدود ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''( البقرہ 230)

    حدیث پاک میں حلالہ کابیان واضح طور پر موجود ہے، بخاری میں ہے:عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتكترجمہ: حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت رفاعہ کی بیوی نبی کریم ﷺ کےپاس آئیں اورعرض کی کہ میں پہلےرفاعہ کی بیوی تھی توانہوں نے مجھے طلاق دےدی پھرمیں نےعبدالرحما ن بن زبیرسےنکاح کیالیکن وہ نرم کپڑےکی طرح ہیں( یعنی مردانہ اعتبار سے)تونبی کریمﷺنےارشاد فرمایاکہ کیاآپ رفاعہ کےپاس واپس جاناچاہتی ہیں انہوں نےعرض کی ہاں!آپ نےکیاجب تک تم اورعبدالرحمان ایک دوسرےکےشہدسےنہ چکھ لو(یعنی ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلواس وقت تک)نہیں جاسکتی۔( صحیح البخاری کتاب الشہادات باب شہادۃ المختبی حدیث نمبر 2639)

    امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان حلالہ کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :''حلالہ کے یہ معنٰی ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی۔اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعد طلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 12ص 84 رضا فاؤنڈیشن کراچی)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:10 جمادی الثانی 1444 ھ/03 جنوری 2023 ء