دھوکے کی وجہ سے شوہر کو جماع سے روکنا کیسا

    dhoke ki wajah se shohar ko jima se rokna kaisa

    تاریخ: 28 ستمبر، 2026
    مشاہدات: 89
    حوالہ: 1807

    سوال

    میرے شوہر نے مجھے تین دفعہ دھوکہ دیا ہے۔ اس وجہ سے میرا ان پر سے اعتماد بالکل اٹھ گیا ہے اور مجھے بہت تکلیف اور دل کا بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ اب اگر میرے شوہر مجھ سے ازدواجی تعلق کا حق مانگیں اور میں اپنی اس جذباتی تکلیف اور بے اعتمادی کی وجہ سے منع کر دوں، تو کیا اسلام میں میرے لیے گناہ ہوگا؟ کیا شوہر کی بار بار دھوکہ دہی کی وجہ سے بیوی کو منع کرنے کا کوئی شرعی عذر مل سکتا ہے؟ اور شوہر پر اس صورتحال میں کیا حقوق اور ذمہ داریاں ہیں؟ مہربانی فرما کر قرآن و سنت کی روشنی میں واضح جواب دیں۔ جزاک اللہ خیر۔

    سائل: پوچھا گیا از Ahsan shahbaz | تاریخ 14/8/2026


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب تک شوہر اپنی بیوی کے واجب حقوق ادا کرتا ہے، عام حالات میں بیوی کو ہمبستری سے منع کرنا حرام ہے۔ اب دھوکا چاہے کسی غیر عورت سے غیر شرعی تعلق ہو یا کوئی عام دھوکہ، بغیر کسی شرعی عذر کے ہمبستری سے انکار حرام ہے کہ شوہر کا گنہگار ہونا بیوی کو انکارِ جماع کا اختیار نہیں دیتا۔ ہاں اگر غیر عورت سے جسمانی تعلق کی وجہ سے کوئی حقیقی ضرر یا مہلک بیماری لگنے کا اندیشہ ثابت ہو تو رخصت ہوگی، لیکن اس میں بھی توہمات کا دخل نہیں ہوگا (مثلاً بیوی سوچے کہ ممکن ہے اس نے کسی اور عورت سے تعلق رکھا ہو معاذ اللہ، جب کہ اس کا کوئی شرعی ثبوت نہ ہو)۔

    تفصیل مسئلہ:

    واضح رہے کہ شریعت نے بیوی کے لیے جماع سے انکار کرنے یا روکنے کے جو معتبر اسباب اور شرعی عذر مقرر کیے ہیں، اگر ان میں سے کوئی عذر پایا جائے تو بیوی کو شوہر کو ہمبستری سے روکنے کا مکمل حق حاصل ہوتا ہے، خواہ شوہر بظاہر اپنے دوسرے عمومی حقوق ہی کیوں نہ ادا کر رہا ہو۔ ان معتبر اسباب و عذر کا دائرہ مخصوص ہے، جن کی تفصیل یہ ہے:

    (۱) حیض یا نفاس کی حالت؛ (۲) حیض و نفاس رکنے کے بعد غسل یا عادت پوری ہونے تک کا وقفہ؛ (۳) رمضان کے فرض روزے کا دن؛ (۴) فرض نماز کا وقت (۵) بیوی یا شوہر کی حالتِ احرام؛ (۶) واجب اعتکاف؛ (۷) ظہار کے بعد کفارہ ادا ہونے تک کا وقفہ؛ (۸) دبر (پیچھے کے راستے) میں جماع کا مطالبہ؛ (۹) مسجد، عام راستے، بے پردہ جگہ؛ (۱۰) کسی دوسری بیوی (سوکن) یا کسی قابلِ شعور تیسرے شخص کی موجودگی؛ (۱۱) بیوی کو کوئی حقیقی بیماری، جسمانی رکاوٹ یا ایسا جماع ہونا جس سے اسے قابلِ اعتبار ضرر پہنچے؛ (۱۲) کم سنی یا ایسی جسمانی کمزوری جس میں جماع کی طاقت نہ ہو؛ (۱۳) فوری ادا کیے جانے والے مہرِ معجل کی عدم ادائیگی میں دخول سے پہلے؛ (۱۴) غاصبانہ و غیر محفوظ گھر میں منتقل ہونے کا مطالبہ؛ (۱۵) حرمتِ مصاہرت کا طاری ہونا یا نکاح کا ٹوٹ جانا ؛ (۱۶) طلاقِ بائن یا ثلاثہ واقع ہونے پر عورت کو یقینی علم ہونے کی صورت میں خود کو بچانا ؛ اور (۱۷) شوہر کے مرتد ہو جانے کی وجہ سے نکاح ختم ہونا ۔ (ماخوذ: الهداية في شرح بداية المبتدي ، بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، رد المحتار ،الفتاوی الرضویۃ)

    پس جب ان میں سے کوئی عذر موجود ہو تو بیوی کو روکنے کا حق مل جاتا ہے، لیکن پوچھی گئی صورت میں ایسے کسی موانع یا عذر کا کوئی ثبوت موجود نہ ہو، اور معاملہ صرف بے اعتمادی، غصے یا توہمات پر مبنی معلوم ہوتا ہے، تو اس صورت میں بیوی کو ہمبستری سے روکنے کا کوئی شرعی حق حاصل نہیں ہے؛ اور اگر وہ اس کے باوجود روکتی ہے تو سخت وعیدات کی مستحق ہوگی، العیاذ باللہ۔

    دلائل و جزئیات:

    شوہر کے بستر سے جدا رات گزارنے والی عورت پر فرشتے کی لعنت ہوتی ہے،صحیح البخاری میں روایت ہے: "إذا باتت المرأة مهاجرة فراش زوجها، لعنتها الملائكة حتى ترجع". ترجمہ: جب عورت اپنے شوہر کے بستر سے جدا ہو کر رات گزارے تو فرشتے اس پر لعنت کرتے ہیں یہاں تک کہ وہ واپس آ جائے۔ (صحيح البخاري، كتاب النكاح، رقم الحديث: 5194، دار طوق النجاة)

    اسی طرح صحیح مسلم کی روایت ہے: "إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه، فلم تأته، فبات غضبان عليها، لعنتها الملائكة حتى تصبح". ترجمہ: جب کوئی مرد اپنی بیوی کو اپنے بستر کی طرف بلائے اور وہ اس کے پاس نہ آئے، پھر وہ (شوہر) اس پر ناراض حالت میں رات گزارے، تو فرشتے اس (عورت) پر صبح ہونے تک لعنت کرتے رہتے ہیں۔ (صحیح مسلم، کتاب النکاح، رقم الحدیث: 1436، دار إحياء التراث العربي بيروت)

    سنن الترمذی کی روایت ہے : "إذا الرجل دعا زوجته لحاجته فلتأته وإن كانت على التنور". ترجمہ: جب مرد اپنی بیوی کو اپنی حاجت کے لیے بلائے تو وہ اس کے پاس فوراً آئے اگرچہ وہ تنور پر (روٹی پکا رہی) ہو۔

    (سنن الترمذی، ابواب الرضاع، رقم الحدیث: 1160، مصطفى البابي الحلبی)

    بغیر شرعی عذر کے شوہر کے بستر پر نہ آنے کو معصیت اور کبیرہ گناہ ہونے پر الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ میں ہے: "ذهب الفقهاء إلى أن للزوج أن يطالب زوجته بالوطء متى شاء إلا عند اعتراض أسباب شرعية مانعة منه كالحيض والنفاس والظهار والإحرام ونحو ذلك، فإن طالبها به وانتفت الموانع الشرعية وجبت عليها الاستجابة... وقد عد الذهبي والرافعي والنووي وابن الرفعة والهيتمي وغيرهم امتناع المرأة عن فراش زوجها إذا دعاها بلا عذر شرعي ضربا من النشوز، وكبيرة من الكبائر، وذلك لورود الوعيد الشديد فيه". ترجمہ: فقہاء اس بات کے قائل ہیں کہ شوہر کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ جب چاہے بیوی سے ہم بستری کا مطالبہ کرے، سوائے اس کے کہ ہمبستری سے مانع کوئی شرعی رکاوٹ موجود ہو، جیسے حیض، نفاس، ظہار، احرام وغیرہ۔ پھر اگر وہ عورت سے اس کا مطالبہ کرے اور شرعی رکاوٹیں نہ ہوں تو اس پر لازم ہے کہ وہ اس کی بات مانے۔امام ذہبی، امام رافعی، امام نووی، امام ابن الرفعہ، امام ہیتمی اور دیگر علماء نے شوہر کے بلانے پر عورت کے بغیر کسی شرعی عذر کے شوہر کے بستر سے انکار کرنے کو نافرمانی اور کبیرہ گناہوں میں شمار کیا ہے، کیونکہ اس بارے میں سخت وعید وارد ہوئی ہے۔ (الموسوعۃ الفقھیۃ الکویتیۃ، 44/38، دار السلاسل)

    شوہر کے گنہگار ہونے کے باوجود بیوی کو جماع سے روکنے کا حق نہیں، امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’خاوند کے شراب پینے کا وبال اس پر ہے، عورت اسے جماع سے منع نہیں کر سکتی‘‘۔ (فتاوی رضویہ، 29/93، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    اسی طرح قاضی فقیہ النفس شمس الآئمہ علامہ فخر الدین حسن بن منصور قاضی خان(المتوفی:592ھ) فرماتے ہیں: "وسئل بعض العلماء عن امرأة لها زوج لا يصلي والمرأة تأبى أن تكون معه قال ليس لها ذلك كرجل عليه دين لرجل وعلى رب الدين حقوق الله تعالى من الزكاة والحج والعشر وهو لا يؤدي حقوق الشرع ليس للمديون أن يمتنع عن قضاء الدين ويقول إنه لا يؤدي حقوق الشرع فلا أؤدي حقه" . ترجمہ: اور بعض علماء سے ایک ایسی عورت کے بارے میں سوال کیا گیا جس کا شوہر نماز نہیں پڑھتا اور وہ عورت اس کے ساتھ رہنے سے انکار کرتی ہے، تو عالم صاحب نے فرمایا: عورت کے لیے ایسا کرنا جائز نہیں ہے۔ (اس کی مثال) اس شخص کی طرح ہے جس پر کسی انسان کا قرض ہو اور قرض خواہ (قرض دینے والے) پر زکوٰۃ، حج اور عشر جیسے اللہ تعالی کے حقوق واجب ہوں لیکن وہ شرعی حقوق ادا نہ کرتا ہو، تو مقروض کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ قرض کی ادائیگی سے روک جائے اور یہ کہے کہ چونکہ وہ شرعی حقوق ادا نہیں کرتا اس لیے میں بھی اس کا حق ادا نہیں کروں گا۔ (فتاوي قاضي خان، كتاب النكاح ، فصل في حقوق الزوجية، 1/383، قدیمی کتب خانہ) ۔

    واللہ تعالی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:2 ربیع الثانی 1448ھ/15 ستمبر 2026ء