سوال
میں ایک سنیہ عورت ہوں میرے شوہر نے بنوری ٹاؤن سے یہ بول کے فتویٰ لیا کہ میری بیوی نے مجھ سے طلاق کا مطالبہ کیا تو میں نے غصہ میں آکر اسکو تین طلاق دے دیں انہوں نے فتوی دیا کہ تین طلاقیں ہوگئی ہیں ۔لیکن انہوں نے جھوٹ بول کر یہ فتوی لیا ہے کیونکہ نہ میں نے ان سے طلاق کا مطالبہ کیا اور نہ ہی اس نے مجھے تین طلاقیں دی ہیں۔پھر میں خود گئی اور ان سے یہی بات کہی تو بھی ان کا یہی جواب تھا کہ تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں ، لیکن میرا دل مطمئن نہیں ہورہا مجھے اس ساری صورت حال کا اپنے مسلک کے علماء کا فتویٰ درکار ہے۔ برائے مہربانی مجھے اسکا حل بتادیں۔
سائل: سائرہ بانو
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ سوال میں مذکور ہواکہ شوہر اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اس نے بیوی کو تین طلاقیں دی ہیں تو اس صورت میں بیوی کو قضاءََ (یعنی ظاہری صورت حال کے مطابق دنیاوی اعتبار سے )تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ،لیکن دیانۃََ (یعنی بندے اور خدا کے درمیان جو معاملہ ہے اسکے مطابق طلاقیں )نہیں ہوئیں ,شامی میں ہے :وَلَوْ أَقَرَّ بِالطَّلَاقِ كَاذِبًا أَوْ هَازِلًا وَقَعَ قَضَاءً لَا دِيَانَةً. ترجمہ: اور اگر شوہر طلاق کا اقرار کرے خواہ جھوٹ میں کرے یا مذاق میں کرے قضاء طلاق واقع ہوجائے گی دیانۃ واقع نہیں ہوگی۔
مفتی امجد علی اعظمی بہار شریعت حصہ آٹھ ص 117 میں رقمطراز ہیں عورت کو طلاق نہیں دی ہے مگر لوگوں سے کہتا ہے میں طلاق دے دی تو قضاءً ہوجائے گی اور دیانۃً نہیں، اور اگر ایک طلاق دی ہے اور لوگوں سے کہتا ہے تین دی ہیں تو دیانتہً ایک ہوگی قضاءً تین، اگرچہ کہے کہ میں نے جھوٹ کہا تھا۔۔(بحوالہ الفتاوی الخیریہ ص 37)
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح: ابوالحسنین مفتی وسیم اخترالمدنی
تاریخ اجراء:11محرم الحرام 1440 ھ/22ستمبر 2018 ء