کمپنی کے ناجائز کاموں پر معاونت کا حکم
    تاریخ: 14 جنوری، 2026
    مشاہدات: 7
    حوالہ: 581

    سوال

    میں نے چند دوستوں سے مل کے ایک چھوٹی سی کمپنی کی بنیاد رکھی جس کا کاغذاتی مالک میں تھا لیکن کمپنی کےطے کیے ہوئے اصولوں کے مطابق سب مالک ہیں۔ بعد میں یہ چھوٹی سی کمپنی میری انتھک محنت اور لگن سے کافی بڑی ہو گئی اور یوں ہمیں بین الاقوامی طرز کی کمپنیوں نے سراہا اور ہمارے ساتھ کام کرنے کی خواہش کا اظہار کیا ہماری آپس میں ایک بیٹھک ہوئی جس میں کافی ساری چیزوں کا اضافہ کیا گیا ۔ان میں ایک چیز یہ طے ہو رہی تھی کہ ہمیں دفتری معاملات کے لیے خواتین کو رکھنا پڑے گا اور ان کو بین الاقوامی طرز کا لباس پہننا ہوگا جس میں شرٹ اور پینٹ جو کہ ٹخنوں سے تھوڑی اوپر ہوتی ہے پہننے کو دی جائے گی ۔میرے انکار کے باوجود تمام ممبران اس بات پے بضد ہیں کہ ایسا کرنا کمپنی کو مزید ترقی کی راہ پرلے جائے گا۔اور آج کل ایسی لڑکیاں با آسانی مل جاتی ہیں،اب ساری محنت میری ہے کہ کمپنی اس حد تک ترقی کرتی گئی ۔اب اگر میں چھوڑتا ہوں تو میرے حصہ میں بس جو آتا ہے اس سے میں ایک نارمل کمپنی بھی نہیں بنا سکتا کیوں کہ جو کام مجھے ملے ہیں انکی رقم معاہدے کے مطابق 2023 دسمبر میں ملیں گے اور کمپنی کی انوسٹمنٹ کے علاوہ یہ کام میں تکمیل تک نہیں پہنچا سکتا ۔

    اب اگر جاتا ہوں تو بس اپنے حصہ کی رقم لے کر جس کا مول اوپر بتایا جا چکا ہےاور اگر اس کمپنی کو جاری رکھتا ہوں تو بھی دل مطمئن نا ہوگا،کیوں دفتر کے معاملات میں مجھے ان لڑکیوں سے بات کرنی اور سامنے بٹھانا پڑے گا۔اور اگر میں سب دوستوں کو چھوڑ کے کمپنی جیسا کہ میرے نام پہ ہے چلاتا ہوں تو کیا یہ انکے ساتھ دھوکہ نہیں ہوگا؟۔جوابعنایت فرمائیں !

    سائل: عبد السلام /اسلام آباد

    بمعرفت: محمد سفیان


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مسلمان خواتین کا ایسا بدنما وبد تہذیب لباس پہنناجس سے بے پردہ نظر آئیں اور مردوں کےلیے فتنہ اور گناہ کا سبب بنیںیہ ناجائز و حرام ہے ۔پھر اس پر طرفہ تماشا یہ ہے کہ نامحرم مردوں کے ساتھ بلاضرورت بات چیت کرنا ،ملنا جلنابے پردہ ان کے سامنے آنا ،ان کے لیے تسکینِ نفس کا سامان بننا گناہِعظیم ہے جس پر بے شمار وعیدیں ہیں اور یہ سب اسلامی احکامسے کھلم کھلی بغاوت ہے ۔نستغفر اللہ العظیم و نتوب الیہ

    گھر سے باہر عورت کا لباس

    دونوں ہاتھ کلائیوں تک اور پاؤںکا ظاہری حصہ ان کے سوا عورت کا سارا جسمستر میں شامل ہے ۔یعنی ان دوکے سوا سارا جسم( جس میں چہرہ بھی شامل ہے )سترِ ِعورت کہلاتا ہے جس کا چھپاناضروری ہے ۔

    لباس کی خصوصیات:

    1:۔ڈھیلا ڈھالالباس ہو جس سے جسم کی ہیئت نمایاں نہ ہو ۔۔لہذا وہ لباس جو جسم کے ساتھ بلکل چپکا ہوجیسے آج کل جو مروجہ پینٹ ،یاٹراؤزر ہیں کہ جسم کے ساتھ بلکل چپکے ہوتے ہیں ان کا پہنناجائز نہیں۔

    2:۔ایسا باریک کپڑا نہ ہو جس سے جسم کی رنگت تک دیکھائی دیتی ہو یا جسم کااندورنی لباس نظر آتا ہو ۔ فی زمانہ جو باریک لون یا پتلی کارٹن پہنیجاتی ہے جائز نہیں کہ اس سےجسم کا اندورنی حصہ دیکھائی دیتا ہے۔

    الغرض :

    لباس سے مقصود اعضا کو چھپانااور جسم کی رنگت کو ظاہر نہ ہونے دینا ہے۔جو لباس یہ دو مقصد پورے نہ کر سکے اس کا پہننا جائز نہیں ۔

    عورت کا نوکری کے لیے گھر سے نکلنا

    عورت کے لیے روزگار کے لیے گھر سے باہر نکلنے کے حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ گھر میں کوئی کمانے والا نہیں،یا پھر شوہر ،بیٹے،بھائی یا باپ کی کمائی پر گزر اوقات نہیں ،نہ ہی کوئی اور ایسا ذریعہ ہے جس سےگھر میں رہتے ہوئے معاشی نظام چل سکے تو اس کے لیے حلال روزگار کے لیے گھر سے باہر نکلنا درج ذیل شرائط کے ساتھ جائز ہے:

    1:۔گھر سے کام کی جگہ(working place) تک آنا جانامکمل شرعی حجاب میں ہو۔

    2:۔غیر مردوں کے ساتھ اختلاط نہ ہو۔

    3:۔کسی بھی نامحرم کے ساتھ بیٹھنا اٹھنانہ ہو ،اسی طرح بلا ضرورت بات چیت کرنے سے بھی بچے ۔

    4:۔جو کام کر رہی ہے، فی نفسہ حلال ہو۔

    5:۔وہاں کسی قسم کے فتنہ و فساد اور تہمت لگنے کا اندیشہ نہ ہو۔

    خواتین کا کمپنی میں نوکری کرنا

    مذکورہ لباساور طریقہ کار کے ساتھ کمپنی میں ملازمت کرنا ناجائز و حرام ہے ۔

    کمپنی کی بابت حکم شرعی

    پوچھی گئی صورت میں مغربی طرز کے لباس کے ساتھ خواتین کو نوکریپہ رکھنا اور ان سے اللہ و رسول کی ناراضی والے کام لیناناجائز و حرام ہے ۔آپ پر لازمہے کہ اس اقدام کو مستردکریں اور شرکائے کمپنی کو اس حرامفعل سےروکیں ۔اگر وہ بات مان لیں تو ٹھیک ورنہ ان کی جگہ ایسے صاحب ِایمان شرکا لائیں جو اللہ کی حدود کودو ٹکوںکے لیے پامال نہ کرتے ہوں ۔اور اگر ان شرکا کو خارج کرنامشکل ہو تو پھر آپ اس گناہ سے براءت کا اظہار کرتےہوئے اپنا سرمایہ معمنافع لے کر الگ ہو جائیں ۔

    جو اللہ کے لیے کسی چیز کو ترک کرے تو اللہ کریم اسے اس سے بہتر چیز عطا فرمائے گا:عن ابی قتادة وابی الدھماءقالا کانا یکثران السفر نحو ھذا البیت قالا : اتینا الی رجل من اھل البادیة فقال البدوی :اخذ بیدی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فجعل یعلمنی مما علمہ اللہ تبارک وتعالی وقال : انک لن تدع شیئا اتقاءاللہ عزوجل الا اعطاک اللہ خیرا منہ۔ترجمہ:حضرت ابو قتادہ اور ابو دھماء رحمہما اللہ بیان کرتے ہیں کہ ہم لوگ ایک صحرا نشین کے پاس آئے جس نے ہم سے بیان کیا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ کر بعض وہ باتیں سیکھانے نے لگے جو اللہ تعالی نے آپ کو سیکھائی تھیں ۔انہیں میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : "بے شک اللہ تعالی کے ڈر سے تم جوکوئی عمل ترک کروگے اللہ تعالی تمہیں اس سے بہتر چیز عطا فرمائے گا۔(مسند احمد،جلد 05 صفحہ 76)

    مَردوں اور عورتوں کو نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیتے ہوئے ارشاد فرمایا:﴿ قُلْ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ یَغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِهِمْ وَ یَحْفَظُوْا فُرُوْجَهُمْ ذٰلِكَ اَزْكٰى لَهُمْ اِنَّ اللّٰهَ خَبِیْرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوْنَ وَ قُلْ لِّلْمُؤْمِنٰتِ یَغْضُضْنَ مِنْ اَبْصَارِهِنَّ وَ یَحْفَظْنَ فُرُوْجَهُنَّ وَ لَا یُبْدِیْنَ زِیْنَتَهُنَّ اِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَ لْیَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلٰى جُیُوْبِهِنَّ ﴾ترجمۂ کنزُالعرفان :’’مسلمان مردوں کو حکم دو کہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، یہ ان کے لیے زیادہ پاکیزہ ہے، بیشک اللہ ان کے کاموں سے خبردار ہے۔اور مسلمان عورتوں کو حکم دو کہ وہ اپنی نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی پارسائی کی حفاظت کریں اور اپنی زینت نہ دکھائیں،مگر جتنا (بدن کاحصہ) خود ہی ظاہر ہے اور وہ اپنے دوپٹے اپنے گریبانوں پر ڈالے رکھیں ۔(النور :30 ، 31)

    رسول کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:صنفان من اهل النار لم ارهما: …نساء كاسيات،عاريات، مميلات،مائلات، رءوسهن كاسنمة البخت المائلة، لا يدخلن الجنة ولا يجدن ريحها وان ريحها ليوجد من مسيرة كذا وكذا‘‘ترجمہ:دوزخیوں کی دو جماعتیں ایسی ہیں،جنہیں میں نے (اپنے زمانے میں) نہیں دیکھا۔(میرے بعد والے زمانے میں ہوں گی ۔ایک جماعت )ایسی عورتوں کی ہوگی جو بظاہر کپڑے پہنے ہوئے ہوں گی،لیکن حقیقت میں بے لباس اور ننگی ہوں گی،بے حیائی کی طرف دوسروں کو مائل کرنے اور خود مائل ہونے والی ہوں گی،ان کے سر ایسے ہوں گے،جیسے بختی اونٹوں کی ڈھلکی ہو ئی کوہانیں ہوں،یہ جنت میں داخل نہ ہوں گی اور نہ ہی اس کی خوشبو سونگھیں گی، حالانکہ جنت کی خوشبو اتنی اتنی مسافت سے محسوس کی جائے گی ۔(الصحیح لمسلم،کتاب اللباس والزینۃ،باب النساء الکاسیات ۔۔الخ،جلد 2،صفحہ213،مطبوعہ لاھور )

    علامہ علی قاری حنفی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ اس کے تحت لکھتے ہیں:يسترن بعض بدنهن ويكشفن بعضه اظهارا لجمالهن وابرازا لكمالهن وقيل: يلبسن ثوبا رقيقا يصف بدنهن وان كن كاسيات للثياب عاريات فی الحقيقة ‘‘ترجمہ: وہ اپنے حسن وجمال اور اپنے (بدن کے)کمال کو ظاہر کرنے کی غرض سے کچھ بدن چھپا کر رکھیں گی اور کچھ ظاہر کریںگی۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ ایسا باریک لباس پہنیں گیں،جس سے ان کا بدن جھلکے گا،اگرچہ یہ بظاہر کپڑے پہنے ہوئے ہوں گی،لیکن در حقیقت ننگی ہوں گی۔(مرقاۃ المفاتیح شرح مشکوٰۃ المصابیح ،جلد7،صفحہ 77،مطبوعہ کوئٹہ )

    مردوں کو اجنبی عورتوں کے پاس جانے کی ممانعت کے متعلق حدیث پاک میں ہے:عن عقبة بن عامر، أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال :ایاکم والدخول علی النساء۔ترجمہ:حضرت عقبہ بن عامر رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ بیان کرتے ہیں رسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا : اجنبی عورتوں کے پاس جانے سے بچو۔ (شعب الايمان ،تحریم الفروج ، جلد 7، صفحہ309 ،مكتبة الرشد ، الرياض ) واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد یونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 08ربیع الاول ا1444 ھ/05اکتوبر2022 ء