مسجد کی تبدیلی اور منتقلی کا حکم
    تاریخ: 14 جنوری، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 579

    سوال

    گورمنٹ کے سیکورٹی ادارے کے زیر انتظام علاقہ میں ایک مسجد واقع ہےجس میں سرکاری و غیر سرکاری لوگ نماز ادا کرتے ہیں۔سیکورٹی ادارہ حفاظتی امور کے پیش نظراس مسجد کو پہلے سے بہتر ہو سکے اور سول آبادی کا مسجد میں آنا جانا آسان اور قریب تر ہو سکے۔

    درج بالا حالات کو مد نظر رکھتے ہیں درج ذیل امور کے شرعی جوابات عطا فرمائیں:

    1:۔ سیکورٹی کے خدشات کے پیشِ نظر مسجد کودوسری جگہ منتقل کیا جا نا کیسا ہے ؟

    2:۔مسجد کی زمین کو کسی اور مقصد جیسے اسلامی تعلیمی سینٹر ،رہائشی کالونی یا کسی اور مناسب مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے ؟

    3:۔پہلی مسجد کو شہید کر کے اس کے ملبے اور اور مسجد میں استعمال ہونے والی اشیاء جیسے قالین وغیرہا کو دوسری مسجد میں دے سکتے ہیں یا اسے فروخت کر کے حاصل ہونے والی آمدنی نئی مسجد میں لگا سکتے ہیں ؟

    سائل:محمد ایاز عزیز/اسلام آباد


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب خانۂ خدا کا وقفصحیح ہو جائےتوقیامت تک وہ مقدسقطعہ مسجد ہو جاتا ہے جسے قیام و سجود،ذکر و تہلیل ،صلاۃ و سلام کے ذریعے آباد کرنا اہل علاقہ پر فرض ہو جاتا ہے ۔اور اس کے بر عکس مسجد کی مسجدیتکو ختم کرنا، اسے ویران کرنا ،یا اسے کسی اور مقصد میں تبدیل کرنا ناجائز و حرام ہے ۔

    اللہ تعالی کا فرمانِ جلی ہے: وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-لَهُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَّ لَهُمْ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ترجمہ: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون جو اللہ کی مسجدوں کو روکے ان میں نامِ خدا لیے جانے سے اور ان کی ویرانی میں کوشش کرے ان کو نہ پہنچتا تھا کہ مسجدوں میں جائیں مگر ڈرتے ہوئے ان کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور ان کے لیے آخرت میں بڑا عذاب ۔(البقرۃ:114)

    جو اللہ تعالی سے ڈرتے ہوئے اس کے احکام سے روگردانی نہ کرے ان کے لیے فرمایا :وَ مَنْ یَّتَّقِ اللّٰهَ یَجْعَلْ لَّهٗ مَخْرَجًاۙ۔ترجمہ:جو اﷲ تعالٰی سے ڈرے تو وہ اس کے لئے راہ بنادیتا ہے۔(الطلاق:02)

    وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ۠:اور جو منہ پھیرے تو اﷲ تعالٰی ہی بے نیاز اور ستو دہ صفات ہے۔ (الممتحنۃ:06)

    سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ مسجد کی منتقلی حفاظتی امور کے پیشِ نظر ہے تو اس کا حل مسجد کواپنی جگہ پر باقی رکھ کر بھی ممکن ہو سکتا ہے ۔

    تجاویز:

    1:۔مسجدکے داخلی دروازہ (gate) سے پہلے مسجد کی جانب آنے کے لیے ایک ہی گزر گاہ بنائی جائے جس کے داخلی سرے(entrance ) پر حفاظتی عملہ معمور ہو ۔

    2:۔پہلی تجویز بھی ممکن نہ ہو تو پھرحفاظتی ضرورت کے پیشِ نظر غیر متعلقہ افراد (civilians)کو روک دیا جائےجس کابہتر طریقہ ادارہ ہم سے بہتر جانتا ہےکہ (boundary) لگا کر روکناہے یا کسی اور طریقے سے۔

    منتقلی ِ مسجد،تبدیلیِ مسجد اور ویرانیِ مسجد کی بابت جزئیات:

    ردالمحتار میں ہے: لایجوز نقلہ ولانقل مالہ الی مسجد اٰخر ترجمہ :مسجد اور اس کے مال کو دوسری مسجد میں منتقل کرنا جائز نہیں۔(ردالمحتار کتاب الوقف ،جلد 03 ،صفحہ 371 دار الاحیاء التراث بیروت)

    فتاوٰی عالمگیری میں ہے:لایجوز تغییر الوقف عن ھیأتہ فلایجعل الدار بستانا ولاالخان حماما ولاالرباط دکانا الااذاجعل الواقف الی الناظر مایری فیہ مصلحۃ الوقف وقف کی ہیئت میں تبدیلی کرنا جائز نہیں، لہذا مکان کو باغ، سرائے کو حمام اور اصطبل کو دکان نہیں بنایا جا سکتا۔( فتاوٰی ہندیۃ کتاب الوقفالباب الرابع عشر فی المتفرقات جلد 02 صفحہ 490 دار الفكر)

    فتح القدیر میں ہے: الواجب ابقاء الوقف علی ماکان علیہترجمہ : وقف کو حال سابق پر برقرار رکھنا واجب ہے(فتح القدیر، کتاب الوقف،جلد 06صفحہ 228 ، دار الفكر)

    اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ الرحمہ لکھتے ہیں : مسجد نہ توڑی جاسکتی ہے نہ بدلی جاسکتی ہے، نہ اس کی لکڑی وغیرہ کوئی چیز اپنے مصرف میں لائی جاسکتی ہے۔(فتاوی رضویہ جلد 16 صفحہ 442رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    ایک اور مقام پر لکھتے ہیں : بیشک ایساکرنا حرام قطعی اور ضرور حقوقِ مسجد پر تعدی اور وقفِ مسجد میں ناحق دست اندازی ہے شرع مطہر میں بلا شرط واقف کہ اسی وقف کی مصلحت کےلئے ہو وقف کی ہیأت بدلنا بھی ناجائز ہے اگرچہ اصل مقصود باقی رہے تو بالکل مقصدوقف باطل کرکے ایک دوسرے کام کےلئے دینا کیونکر حلال ہوسکتا ہے۔(فتاوی رضویہ جلد 16 صفحہ 352رضا فاؤنڈیشن لاہور)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد یونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء:15رجب المرجب 1444 ھ/03فروری 2023 ء