Dadi Ke Warasa Maloom Na Hon To Warasat Ka Hukum
سوال
میرے دادا ( محمد اسماعیل )کااننقال 2002ءمیں ہوا ۔ان کی وفات کے بعد وراثت تقسیم نہ ہوئی تھی پھر 2024ء میں دادی( فاطمہ ) کا انتقال ہو گیا اب وراثت کی تقسیم کرنی ہے داداکی اولاد ابو (محمد عارف )اور پھوپھی(زینت ) ہیں ۔دادی دادا کی دوسری بیوی تھیں ابو اور پھوپھی دادا کی پہلی بیوی سے ہیں وراثت میں ایک گھر ہے جس کی قیمت 75 لاکھ ہے وراثت کی تقسیم کیسے ہوگی ؟یہ بتا دیں اگر اس میں دادی کا بھی الگ حصہ نکلتا ہے تو اس کا کیا کرنا چاہیے ؟کیونکہ دادی کے کسی بھی بھائی، بہن وغیرہ کا ہمیں نہیں پتہ شاید ایک بہن انڈیا میں ہو پر وہ بھی کنفرم نہیں کہ زندہ ہے کہ نہیں کوئی بھی رابطے میں نہیں ،دادی کے پہلے شوہر کا بھائی یہاں پر تھا پر اب اس کا بھی انتقال ہوچکا ہے صرف ان کی بیوی بچے یہاں پر ہیں رہنمائی فرما دیں کہ اگر صرف وراثت ابو اوور پھوپھی میں تقسیم ہونی ہے تو کیسے ہوگی یا اگر دادی کاحصہ بھی ہوگا تو کتنا ہوگا اسے کون رکھے واضح رہے کہ دادی ہماری سو تیلی تھی اور ابو اور پھوپھی دادا کی پہلی بیوی سے ہے اس دادی کے دادا کے ساتھ کوئی اولاد نہیں تھی ۔
سائل :احمد عارف
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہے تو ان ورثاء کے مابین شرعی تقسیم اس طرح ہوگی کہ اُمورِ متَقَدِّمَہ علی الارث (مرحوم کے ترکہ میں سے سب سے پہلے اس کی تجہیز و تکفین کے اخراجات نکالیں جائیں گے ،پھر اگر قرض ہے تو وہ ادا کیا جائے گا ،کوئی جائز وصیت کی ہے تو اس کوتہائی مال سے پور اکیا جائے) کے بعداس 75 لاکھ کے 24 حصے کیے جائیں گے جس میں دادی (محمد اسماعیل کی بیو ی )کے 3 حصے 9375000 روپے ،بیٹے کے 14 حصے4375000روپے ،بیٹی کے 7 حصے 2187500روپےہونگے ۔
دادی کا دادا کی میراث میں حصہ بنتا ہے۔ دادی کے انتقال کے بعد ان کے ورثاء کے بارے میں یہ معلوم ہوا کہ ان کی ایک بہن حیات تھیں، مگر اب ان کے زندہ ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں ہے۔ شرعی اصطلاح میں ایسے شخص کو 'مفقود الخبر' کہا جاتا ہے جو اس طرح غائب ہو جائے کہ اس کے بارے میں کچھ معلوم نہ ہو کہ وہ زندہ ہے یا فوت ہو چکا ہے۔ شرعاً، مفقود الخبر شخص کو دوسروں کی میراث کے معاملے میں مردہ، جبکہ اپنے مال کے معاملے میں زندہ شمار کیا جاتا ہے۔
چنانچہ، دادی کے ورثاء (جن کا کے بارے کوئی علم نہیں) کو شرعاً متوفی تصور کیا جائے گا، لہذا اب دادی کا کوئی وارث موجود نہیں ہے۔تو اس کے کل ترکہ کا مصرف بیت المال ہوگا، یعنی اسکا سارا مال بیت المال میں رکھا جائے گا البتہ فی زمانہ ریاستی محکموں میں رشوت، کرپشن، بدعنوانی، لوٹ کھسوٹ کے سبب بیت المال کے انتظام میں واضح فساد پایا جاتا ہے لہذا اب میت کا ترکہ جسکے قبضے میں ہے اسکی ذمہ داری ہے کہ کل ترکہ بیت المال میں نہ دے بلکہ یہ خود بیت المال کے مصارف یعنی صرف ان فقراء پرخرچ کرےجو کمانے سے عاجز ہوں اور انکا کوئی کفیل بھی نہ ہو،اپنے استعمال میں لانا قطعاً جائز نہیں ۔
دلائل وجزئیات:
قرآنِ مجید میں زوجہ کے حصے کے متعلق اللہ تبارک وتعالیٰ کا ارشاد ہے:’’ وَلَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ إِن لَّمْ يَكُن لَّكُمْ وَلَدٌ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُم مِّن بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ‘‘.ترجمہ:تمہارے ترکہ میں عورتوں کا چوتھائی ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو پھر اگر تمہارے اولاد ہو تو ان کا تمہارے ترکہ میں سے آٹھواں۔(النساء:12)
لڑکے لڑکیوں کے بارے میں ارشاد باری تعالی ہے:یُوصِیکُمُ اللَّہُ فِی أَوْلَادِکُمْ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَیَیْنِ.ترجمہ: اللہ تعالی تمہیں حکم دیتا ہے تمہاری اولاد کے بارے کہ بیٹے کا حصہ دو بیٹیوں برابر ہے۔(النساء : 11)
عصبہ باقی مال لے گا،چنانچہ علامہ سراج الدین محمد بن عبد الرشید السجاوندی (المتوفی:600ھ) فرماتے ہیں:"والعصبۃ : کل من یاخذ ما ابقتہ اصحاب الفرائض وعند الانفراد یحرز جمیع المال‘‘. ترجمہ:اور عصبہ ہر وہ شخص ہے جو اصحاب فرائض سے باقی ماندہ مال لے لے اور جب اکیلا ہو (دیگر ورثاء نہ ہوں) تو سارے مال کا مستحق ہوجائے۔(السراجیۃ مع القمریۃ،ص 13،مکتبۃ المدینۃ کراچی)
بہار شریعت میں ہے : ” اگر کوئی شخص گم ہو جائے اور اس کی زندگی یا موت کا کچھ علم نہ ہو، تو وہ شخص اپنے مال کے اعتبار سے زندہ متصور ہو گا یعنی اس کے مال میں وراثت جاری نہ ہوگی، مگر دوسرے کے مال کے اعتبار سے مردہ شمار ہو گا یعنی کسی سے اس کو وراثت نہ ملے گی۔ گمشدہ شخص کے مال کو محفوظ رکھا جائے گا، یہاں تک کہ اس کی موت کا حکم دے دیا جائے اور اس کی مقدار صاحب فتح القدیر کی رائے میں یہ ہے کہ مفقود کی عمر کے ستر برس گزر جائیں، تو قاضی اس کی موت کا حکم دے گا اور اس کی جو املاک ہیں ، ، وہ ان لوگوں پر تقسیم ہوں گی، جو اس موت کے حکم کے وقت موجود ہیں۔ مفقود کا اپنا مال تو پورا محفوظ رکھا جائے گا تاوقتیکہ اس کی موت کا حکم دیا جائے، اگر اس حکم سے پہلے وہ واپس آگیا، تو اپنے مال پر قبضہ کرلے گا اور اگر واپس نہ آیا، تو جس وقت موت کا حکم کیا جائے گا، اس وقت جو وارث موجود ہوں گے ، ان پر تقسیم کر دیا جائے گا۔ (بهار شریعت جلد 3 (ب)، حصہ 20، صفحه 1181، مكتبة المدينه)
السراجیہ فی المراث میں ہے :’’فيبدأ بأصحاب الفرائض....ثم بالعصباتمن جهة االنسب ...ثم بالعصبة من جھة السبب...ثم عصبتۃ علی الترتیبثم الردعلی ذوی الفروض النسبیة بقدر حقوقهم ثم ذوی الارحام ،ثم مولی الموالاة ثم المقرله النسب علی الغیر..ثم الموصی لهبجمیع المال ثم بیت المال . ترجمہ : "چنانچہ تقسیمِ میراث کاآغاز اصحابِ فرائض سے ہوگا، پھر عصباتِ نسبی سے، پھر عصبہ سبب سے، پھر عصبات کی ترتیب کے مطابق اس کے بعد ذوی الفروضِ نسبیہ پر ان کے حقوق کے تناسب سے رد کیا جائے گا، پھر ذوی الارحام کو، پھر مولیٰ الموالات کو، پھر اس شخص کو جس کے لیے نسب کا اقرار کیا گیا ہو جو کسی دوسرے پر متعدی نہ ہو، پھر اسے جس کے حق میں کل مال کی وصیت کی گئی ہو، اور آخر میں بیت المال ۔(السراجی فی المیراث ،ص:17تا 19،البشری)
بیت المال کے مصرف کے متعلق علامہ شامی لکھتے ہیں: (قوله: ورابعها فمصرفه جهات إلخ) موافق لما نقله ابن الضياء في شرح الغزنوية عن البزدوي من أنه يصرف إلى المرضى والزمنى واللقيط وعمارة القناطر والرباطات والثغور والمساجد وما أشبه ذلك، ولكنه مخالف لما في الهداية والزيلعي أفاده الشرنبلالي أي فإن الذي في الهداية وعامة الكتب أن الذي يصرف في مصالح المسلمين هو الثالث كما مر. وأما الرابع فمصرفه المشهور هو اللقيط الفقير والفقراء الذين لا أولياء لهم فيعطى منه نفقتهم وأدويتهم وكفنهم وعقل جنايتهم كما في الزيلعي وغيره. وحاصله أن مصرفه العاجزون الفقراء۔ ترجمہ:یہ اس کے موافق ہے جسے ابن ضیاء نے شرح غزنویہ میں بزدوی سے نقل کیا کہ اسے مریضوں ، بیماروں، لقیط اور پل ، اصطبل، سرحدوں،مساجد اور جو ان جیسی چیزیں ہیں انکی تعمیر پر صرف کیا جائے گا، لیکن یہ اس کے مخالف ہے جوکچھ ہدایہ اورزیلعی میں ہے، کیونکہ ہدایہ وعام کتابوں میں ہے کہ جوکچھ مسلمانوں کی مصلحتوں پرخرچ کیاجاتا ہے وہ تیسری قسم ہے۔ بہر حال چوتھا تواسکا مصرف مشہور لقیط فقیر اور وہ فقراء ہیں جن کے اولیاء موجود نہیں تو انہیں اس مال سے انکا نفقہ، دوائیاں کفن،اور انکی جنایت کی چٹی دی جائے گی جیساکہ زیلعی میں ہے۔(ردالمحتار، مع الدر المختار شرح تنویر الابصارجلد 2 ص 338)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: جبکہ میت کاکوئی وارث شرعی موصی لہ بجمیع المال تک نہ ہو توجوکچھ اس کی تجہیزوتکفین وادائے دیون سے بچے فقرائے بیکس وبے قدرت عاجزین مسلمین کودیاجائے۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب لافرائض جلد، 26 ص 172)
ایک اور مقام پر فرماتے ہیں: صورت مستفسرہ میں متوفیہ کاکل متروکہ خواہ اس کاذاتی مال ہو خواہ شوہرکادیاہوابعد ادائے دیون وانفاذ وصایا تمام وکمال فقرائے مسلمین کاحق ہے جوکسب سے عاجز ہوں اور ان کاکوئی کفالت کرنے والانہ ہو۔شوہرکا بیٹا اگرفقیر عاجزہے تووہ بھی اورفقرائے عاجزین کے مثل مستحق ہے ورنہ اس کا اصلاً استحقاق نہیں، نہ متوفیہ کے ذاتی مال میں نہ شوہر کے دئیے ہوئے ہیں۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب لافرائض جلد، 26 ص 208)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمدسجاد سلطانی
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:08محرم الحرام 1448 ھ/24 جون 2026ء