حیاتی میں تقسیم ترکہ کا حکم
    تاریخ: 5 مارچ، 2026
    مشاہدات: 13
    حوالہ: 965

    سوال

    میری نانی کی تین اولاد ہیں۔ نانا حیات نہیں ۔ گھر میری نانی کا ہے نانا کا نہیں۔دو بیٹی ہیں ایک بیٹا، سب شادی شدہ ہیں۔آج کی بات ہے میری نانی 4 بجے میری والدہ اور میری خالہ کو بلائیں اور کہا میں پورا مکان اپنے بیٹے کے نام لکھ دی ہوں، تم لوگ کاغذ پر سائن کرو، میں نے انگوٹھا لگا دیا ہے۔ تم دونوں کو ایک ایک لاکھ دونگی۔ جبکہ گھر کی قیمت اس وقت 30 سے 32 لاکھ روپے ہے۔میری امی اور میری خالہ اپنا ورثہ لینے کیلئے تیار ہیں ، دونوں کی مالی حالات ٹھیک نہیں ۔مگر نانی ورثہ دینے سے انکار کر رہی ہیں، کہتی ہیں صرف بیٹا کو دونگی ۔

    نوٹ: سائل کے بیانیہ کے مطابق یہاں نانی کی ذاتی جائیداد کے مطابق سوال کیا گیا ہے نہ کہ نانا کے ترکے سے متعلق۔

    سائل: حسنین۔


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    جب تک نانی زندہ ہیں، ان کا مکان ان کی ذاتی ملکیت ہے۔ شرعی طور پر مالِ وراثت مرنے کے بعد تقسیم ہوتا ہے، زندگی میں نہیں۔ لہذا، نانی اپنی زندگی میں اپنی جائیداد سے جسے جتنا دینا چاہیں دے سکتی ہیں۔ تاہم بہتر اور پسندیدہ طریقہ یہی ہے کہ پہلے اپنے لئے مناسب رقم رکھیں، اس کے بعد بقیہ مال سے بیٹے اور بیٹیوں کو برابر حصہ دیں۔بلاوجہ شرعی بیٹیوں کو محروم کر کے صرف بیٹے کو سب کچھ دے دینا شرعاً نافذ تو ہوجائے گا لیکن نانی گنہگار ہونگی۔ ہمارے آقا و مولا منبعِ جود و عطا، محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیم تو یہ ہے کہ اولاد میں تحفہ دینے میں برابری کی جائے گی اور فرمایا کہ میں کسی کو فضیلت دیتا تو عورتوں یعنی بیٹیوں کو فضیلت دیتا۔ نیز بیٹا ہو یا بیٹی، کسی کو ازخود یہ حق حاصل نہیں کہ وہ والدہ کی زندگی میں ان سے جبراً حصہ طلب کرے۔ اگر اولاد کا مطالبہ نانی کے لیے اذیت کا باعث ہے، تو ایسا مطالبہ کرنا حرام ہے اور اس پر توبہ و معافی لازم ہے۔

    پھر اگر نانی نے صرف کاغذات بیٹے کے نام کیے مگر مکان پر قبضہ انہی کا ہوکہ ان کی رہائش یا ان کا سامان اس مکان میں موجود ہو، تو وہ مکان بدستور نانی ہی کی ملکیت رہےگا۔ کیونکہ یہ ہبہ (تحفہ) ہے اور ہبہ میں موہوب لہ (جسے تحفہ دیا جارہا ہے) کا قبضہ شرط ہے ، چونکہ نانی خود اس مکان میں رہائش پذیر ہیں یا ان کا سامان ہے تو اس میں بیٹے کا قبضہ ثابت نہیں ہوگا، اگرچہ اسٹامپ پیپر پر نام کریں یا اس پر انگوٹھا لگادیں۔ایسی صورت میں اس مکان سے بیٹیوں کا حقِ وراثت ختم نہیں ہوگا؛ اگر قبضہ دیے بغیر نانی کا انتقال ہو گیا تو یہ مکان بھی ترکہ شمار ہوگا اور تمام ورثاء میں تقسیم ہوگا۔

    ہاں اگر نانی اپنا سارا سامان لے کر اس مکان سے باہر آ جائیں یا مکان میں موجود اپنا تمام سامان اس بیٹے کو جسے تحفہ دیا جا رہا ہے کی ملک کر دیں اور خود اس مکان سے باہر ا ٓجائے ،تو یوں بیٹے کا قبضہ ثابت ہو جائے گا اور اس میں بیٹے کی ملکیت ثابت ہو جائی گے ۔اسی طرح اگر اس مکان کی KDA رجسٹری بیٹے کے نام کروا دی تو بھی مفتی بہ قول کے مطابق بیٹے کو ملکیت منتقل ہو جائے گی، کہ موجودہ عرف میں دیگر شرائط کے ساتھ KDA رجسٹری قبضہ حکمی کے حکم میں ہے۔ البتہ ایسا کام کرنا بیٹیوں کو محروم کرنے کے مترادف ہے، جو شرعاً ناپسندیدہ ہے۔

    دلائل و جزئیات:

    قرآن مجید میں اللہ رب العزت ارشاد فرماتا ہے: وَ قَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّاۤ اِیَّاهُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًاؕ-اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَاۤ اَوْ كِلٰهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّهُمَاۤ اُفٍّ وَّ لَا تَنْهَرْهُمَا وَ قُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِیْمًا. ترجمہ: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو ان سے ہُوں(اُف تک)نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا۔(بنی اسرائیل: 23)

    اولاد میں برابری سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: سَوُّوا بَيْنَ أَوْلَادِكُمْ فِي الْعَطِيَّةِ فَلَوْ كُنْتُ مُفَضِّلًا أَحَدًا لَفَضَّلْتُ النِّسَاءَ.ترجمہ: اپنی اولادوں میں تحفہ دینے میں برابری کرو، اگر میں کسی ایک کو فضیلت دیتا تو عورتوں (یعنی بیٹیوں) کو فضیلت دیتا۔(المعجم الکبیر للطبرانی، 11/354، الرقم: 11997، مكتبة ابن تيمية القاهرۃ)

    حیاتی میں اولاد میں تقسیمِ مال سے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”مذہبِ مفتی بہ پر افضل یہی ہے کہ بیٹوں بیٹیوں سب کو برابر دے۔یہی قول امام ابویوسف کا ہے اور”لِذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْاُنْثَیَیْنِ “دینا بھی، جیسا کہ قول امام محمد رحمہ اللہ کاہے ، ممنوع وناجائز نہیں اگر چہ ترکِ اولیٰ ہے۔ردالمحتار میں علامہ خیرالدین رملی سے ہے:” الفتوی علی قول ابی یوسف من ان التنصیف بین الذکر والانثٰی افضل من التثلیث الذی ھو قول محمد“ (فتویٰ امام ابو یوسف کے قول پر ہے یعنی لڑکے لڑکی دونوں کو برابر ، برابر دیا جائے ، یہ بہتر ہے لڑکے کو لڑکی سے دُگنا دینے والے قول سے اور یہ قول امام محمد علیہ الرحمۃ کا ہے)۔حاشیۂ طحطاوی میں فتاویٰ بزازیہ سے ہے:”الافضل فی ھبۃ البنت والابن التثلیث کالمیراث وعند الثانی التنصیف وھو المختار“(یعنی بیٹے اور بیٹی کو دینےمیں افضل وراثت والا طریقہ ہے ، جبکہ امام ابویوسف علیہ الرحمۃ کے نزدیک برابر دینا اولیٰ ہے اور یہی قول مختارہے)۔بالجملہ خلاف افضلیت میں ہے اور مذہبِ مختار پر اولیٰ تسویہ( یعنی برابر ، برابر)، ہاں اگر بعض اولاد فضل دینی میں بعض سے زائد ہو ، تو اس کی ترجیح میں اصلاً باک نہیں ‘‘۔(فتاوٰی رضویہ،19/ 231 ،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    فضلِ دینی کی وجہ سے اولاد میں سے کسی کو زیادہ مال دینا مکروہ نہیں،چنانچہ سید احمد بن محمد بن اسماعيل الطحطاوی الحنفی (المتوفی:1231ھ) فرماتے ہیں:"يكره ذلك عند تساويهم في الدرجة كما في المنح والهندية .أما عند عدم التساوي كما اذا كان احدهم مشتغلا بالعلم لا بالكسب لا باس أن يفضله على غيره كما في الملتقط أي ولا يكره وفي المنح روي عن الامام أنه لا باس به اذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين".ترجمہ:درجہ میں برابر ہونے کی صورت میں تمام اولاد کو برابر مال دینا مکروہ ہے جیسا کہ منح اورہندیہ میں ہے لیکن مساوی نہ ہوں مثلا ایک علم دین میں مشغول ہے اور کسب نہیں کرتا تو اس کو دوسروں پر فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے جیسا کہ ملتقط میں ہے یعنی مکروہ نہیں ہے۔ اورمنح میں ہے کہ امام صاحب رحمہ اللہ تعالی سے مروی ہے کہ جب دین میں فضیلت رکھتاہو تو اس کو فضیلت دینے میں کوئی حرج نہیں ہے۔(حاشیۃ الطحطاوی علی الدرالمختار، کتاب الھبۃ ،9/473،دار الکتب العلمیۃ بیروت )

    امام اہلسنت رحمہ اللہ نے فرمایا:’’جبکہ یہ لڑکا باپ کا خدمت گزار زیادہ ہے تو ان دو پر ایک طرح کا فضل دینی رکھتاہے اگر اور کوئی وجہ اس کے منافی نہ ہو تو ایسی صورت میں باتفاق روایات اس کو ترجیح دینے میں مضائقہ نہیں جبکہ دوسروں کو ضرر پہنچانے کی نیت نہ ہو، بزازیہ میں ہے: لوخص بعض اولادہ لزیادۃ رُشد لاباس بہ وان کاناسواء لایفعلہ . اگر اولاد میں سے بعض کو اس کی نیکی کی بناء پر زیادہ دینے میں خصوصیت برتے تو کوئی حرج نہیں ہے اور سب مساوی ہوں تو پھر امتیاز نہ برتے‘‘۔(فتاوی رضویہ،19/273، رضا فاؤنڈیشن لاھور)

    کسی ایک وارث کو مال دینے اور بلاوجہِ شرعی دوسروں کو بالکل محروم کردینے کے متعلق امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:”اگر کوئی شخص غیر محجور (وہ شخص جسے بیع و شراء ، صدقہ و ہبہ وغیرہا تصرفات کی اجازت ہوتی ہے)اپنی ساری جائیداد ایک ہی بیٹے کو دےد ے اور باقی اولاد کو کچھ نہ دے، تو یہ تصرف بھی قطعاً صحیح و نافذ ہے، اگرچہ عند اللہ گنہگار ہو گا،گنہگاری کو عدمِ نفاذ سے کچھ علاقہ نہیں۔درمختار میں ہے:ولووہب فی صحتہ کل المال للولد جاز واثم . اگر اپنی صحت میں تمام مال بیٹے کو ہبہ کردیا تو جائز ہے اور گنہگار ہوگا‘‘۔(فتاوی رضویہ،19/237، رضا فاؤنڈیشن لاھور)

    تحفہ مکمل قبضہ سےہی ملکیت کو ثابت کرتا ہے،چنانچہ الدرمختار میں ہے :"(وَتَتِمُّ) الْهِبَةُ (بِالْقَبْضِ) الْكَامِلِ".ترجمہ:ہبہ کامل قبضے سے تام ہوجاتا ہے۔(الدرالمختار و حاشیہ ابن عابدین،8/573،مکتبہ رحمانیہ )

    اورمبسوط للسرخسی میں حدیث پاک مذکورہے : "«لَا تَجُوزُ الْهِبَةُ إلَّا مَقْبُوضَةً» مَعْنَاهُ: لَا يَثْبُتُ الْحُكْمُ، وَهُوَ الْمِلْكُ".ترجمہ: ہبہ قبضہ کے بغیرجائزنہیں ہے،(علامہ سرخسی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں) اس کامعنی یہ ہے کہ اس (ہبہ)کاحکم ثابت نہیں ہوگااوروہ ملک ہے (یعنی قبضہ کے بغیرموہوب لہ کے لئے ملک ثابت نہیں ہوگی بلکہ وہ ہبہ کرنے والے کی ملک پر باقی ہے)۔(المبسوط للسرخسی ،12/56،رشیدیہ کوئٹہ)

    قانونی رجسٹری دلیل تملیک ہے، امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) سے سوال ہوا کہ والد نے مکان اپنے بیٹے کے نام اس طور پر کیا کہ قانونی رجسٹری میں اپنا نام خارج کراکر بیٹے کا نام داخل کروایاپھر مکان کے کرایہ ناموں پر بیٹے نے بحیثیت مالک دستخط کئے،اسی طرح دیگر قانونی معاملات میں بھی بیٹے کو مالک ظاہر کیا پھر سولہ سال بعد والد انتقال کرگئے،یہاں بیٹیاں کہتی ہیں کہ والد صاحب نے کسی مصلحت کے تحت یہ مکان بیٹے کے نام رجسٹررڈ کرایا تھا ،جواباً امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’داخل خارج کرا دینا اور وہ کاروائیاں کہ سوال میں مذکور ہیں قطعا دلیل تملیک ہیں، اور ثبوت ہبہ کے لئے کافی ووافی ہیں‘‘۔(فتاوی رضویہ،19/334،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    یہاں غور ہو کہ رجسٹری میں نام درج کروانے اور دیگر تصرفات مالکانہ کو امام اہلسنت نے دلیل تملیک قرار دیا ،اسی سے استفادہ کرتے ہوئے ہم کہتے ہیں کہ جب رجسٹری کے بعد موہوب لہ کو شے موہوب پر مالکانہ تصرف کا حق حاصل ہوجائے اور کوئی مانع بھی نہ ہو تو وہ رجسٹری بے معنی نہ ہوگی بلکہ دلیل تملیک قرار دی جائے گی۔البتہ فتاوی رضویہ شریف کے دیگر جزئیات جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بابِ تملیک میں محض تحریر کوئی معنی نہیں رکھتی،ان کا تعلق موجودہ دور کے اسٹام پیپرز سے ہے کہ جیسی پٹواری کی تحریر کی حیثیت امام اہلسنت کے عرف میں تھی وہ ہمارے عرف میں اسٹام پیپرکی ہے، جبکہ باقاعدہ رجسٹرار کے پاس جا کر کی جانے والے رجسٹری کا معاملہ ایسا نہیں۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:9 رجب المرجب 1447ھ/30 دسمبر 2025ء