چندہ کی رقم سے امام کی تنخواہ

    chanday ki raqam se imam ki tankhwah

    تاریخ: 10 جون، 2026
    مشاہدات: 21
    حوالہ: 1418

    سوال

    محترم جناب السلام علیکم

    گزارش یہ ہے کہ بندہ ایک دینی مسئلہ کے لیے آپکی رہنمائی چاہتا ہے ، بندہ اپنے محلے کی مسجد میں تقریبا 10 سال سے امامت کے فرائض انجام دے رہا ہے ، مسجد کے انتظامات کے لیے ایک کمیٹی قائم کی گئی ہے،کمیٹی کے خزانچی اور دوسرے نمائندے ہر ماہ مسجد کے لیے محلے سے گھر گھر جاکر چندہ جمع کرتے ہیں پھر اس چندہ میں سے مسجد کے اخراجات بجلی کا بل وغیرہ ادا کیے جاتے ہیں اور مجھے یعنی امام کو 4 ہزار روپے ماہوار دیتے ہیں ۔اس کے علاوہ جمعہ والے دن نمازیوں سے چندہ جمع کرکے امام مسجد کی خدمت یا تنخواہ ادا کی جاتی ہے اس سے پہلے بھی یہی طریقہ تھا جمعہ والے دن کبھی پانچ سو اور کبھی کم زیادہ چندہ جمع ہوتا ہے، یوں امام کی تنخواہ 6 ہزار ماہانہ ہوجاتی ہے۔ میرا سوال یہ ہے کہ اس طرح چندہ کرکے امام کو تنخواہ دینا درست ہے یا نہیں؟ اور امام کے لیے لینا جائز ہے یا نہیں؟

    سائل: عابد حسین شاہ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مسجد کے فنڈز یا چندہ سے مسجد کے امام ، خطیب اور خادم کو ماہانہ تنخواہ دینا جائز ہے۔ کیونکہ مسجد کے لیے جو بھی فنڈز یا چندہ جمع کیے جاتا ہے اس کا مقصد مسجدکے مصالح یعنی مسجد کی تعمیروترقی اور آبادکاری ہے۔ اور امام، خطیب اور خادم مسجد کی آباد کاری میں اہم ترین کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے مسجد کی رقم سے ان کو تنخواہ دینے میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔

    تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الوقف مطلب فی قطع الجہات لاجل العمارۃ ج 4ص 371 میں ہے:وَفِي شَرْحِهَا لِلشُّرُنْبُلَالِيِّ عِنْدَ قَوْلِهِ:وَيَدْخُلُ فِي وَقْفِ الْمَصَالِحِ قَيِّمٌ ... إمَامٌ خَطِيبٌ وَالْمُؤَذِّنُ يَعْبُرُ:ترجمہ: اور وقف کے مصالح میں قیم (متولی) امام ، خطیب اور مؤذن سب داخل ہیں ۔

    پھر اسی میں مطلب فی وقف المنقول قصدا ج 4 ص 367 میں ہے:ثُمَّ مَا هُوَ أَقْرَبُ لِعِمَارَتِهِ كَإِمَامِ مَسْجِدٍ وَمُدَرِّسِ مَدْرَسَةٍ يُعْطَوْنَ بِقَدْرِ كِفَايَتِهِمْ:ترجمہ: پھر مسجد کےفنڈ کا زیادہ حقداروہ ہے جو مسجد کی آبادی کا قریبی( سبب ) ہو جیسے امام مسجد ، مدرسہ کا مدرس انہیں ان کے اخراجات کے مطابق دیا جائے۔

    اسی میں ایک اور مقام کتاب الزکوۃ فروع فی زکوۃ العشر ج 2 ص337 پر ہے :وَيُعْطِي بِقَدْرِ الْحَاجَةِ وَالْفِقْهِ وَالْفَضْلِ فَإِنْ قَصَّرَ كَانَ اللَّهُ عَلَيْهِ حَسِيبًا زَيْلَعِيٌّ.:ترجمہ: اور انکو انکی ضرورت کے مطابق دیا جائے اگر کمی کی تو اللہ کی بارگاہ میں جوابدہ ہونگے۔

    خلاصہ یہ ہے کہ مسجد کے فنڈز یا چندہ سے مسجد کے امام ، خطیب اور خادم کو ماہانہ تنخواہ دینا جائز ہے،اور تنخواہ انکی ضرورتوں کے مطابق ہونی چاہیے ورنہ منتظمین کی اللہ کے ہاں پکڑ ہوگی۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی