لیزر سے بال ہٹوانا کیسا

    lezer se baal hatwana kaisa

    تاریخ: 18 مئی، 2026
    مشاہدات: 62
    حوالہ: 1362

    سوال

    جسم کے غیر ضروری بال ، لیزر لائٹ(جدید ٹیکنالوجی) کے استعمال کے ذریعے سے ہمیشہ کے لئے صاف کروانے کا کیا حکم ہے؟ شریعت مطہرہ کا حکم بیان فرمائیں؟

    سائل: انیس رضوی : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بغلوں اور زیرِ ناف بال (اگلی پچھلی شرمگاہ کے اطراف کے بال) چالیس دن کے اندر کاٹنا واجب ہے، چالیس دن سے تاخیر مکروہِ تحریمی و گناہ ہے، جسم کے دیگر اعضاء میں سے ہاتھ ، پاؤں پیٹ کے بال کٹواسکتے ہیں، جبکہ سینہ وپیٹھ کے بال بھی کٹوانا یا اتروانا جائز تو ہے لیکن خلاف ادب و نامناسب ہے خواہ لیزر کے ذریعے کٹوائے یا کسی اور آلہ مثلا بلیڈ یا شیور مشین کے ذریعے۔بالخصوص اس صورت میں جب کہ مستقلاً ایسا کیا کہ اس طرح مکمل پورے جسم کے بال صاف کرنا مردانہ وجاہت کے بھی خلاف ہے۔

    البتہ اس صورت میں تغییر فی خلق اللہ کا مرتکب نہ ہوگا کہ یہ بالوں کو مستقل بنیاد پر ختم کروانا ہے اور اس کو تغییر لازم نہیں کیونکہ تغییر کا معنٰی ہے کہ جو چیز جس ہیئت پر رکھنا مطلوب ہو اسے اس ہیئت سے بدل دینا ،جبکہ داڑھی ، بھنووں اور پلکوں کے علاوہ جسم کے دیگر حصوں کے بالوں کا رکھنا شرعاًمطلوب نہیں بلکہ بعض جگہوں کے بالوں کا کٹوانا مطلوب ہے کمامر آنفاً۔

    سیدی اعلٰی حضرت لکھتے ہیں: چالیس روز سے زیادہ ناخن یا موئے بغل یا موئے زیر ناف رکھنے کی اجازت نہیں، بعد چالیس روز کے گنہگار ہوں گے، ایک آدھ بارمیں گناہ صغیرہ ہوگا عادت ڈالنے سے کبیرہ ہوجائیگا فسق ہوگا،صحیح مسلم میں انس رضی اللہ تعالٰی عنہ سے ہے: وقت لنا لفظہ عنداحمد وابی داؤد و الترمذی والنسائی وقت لنا رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی قص الشارب وتقلیم الاظفار ونتف الابط و حلق العانۃ ان لانترک اکثر من اربعین لیلۃ ۔ ہمارے لئے وقت مقرر فرمایا (مسلم شریف کے الفاظ) مسند احمد، ابوداؤد، جامع الترمذی اور سنن النسائی کے الفاظ یہ ہیں وقت لنا یعنی ہمارے لئے حضور اکرم صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلم نے مونچھیں کترنے، ناخن کاٹنے، زیر بغل بال اکھاڑنے اور زیر ناف بال مونڈنے کے لئے ایک وقت مقرر فرمایا کہ ہم میں سےکوئی شخص چالیس دن سے زیادہ نہ چھوڑے۔ درمختار میں ہے: کرہ ترکہ وراء الاربعین۔ چالیس روز سے زیادہ چھوڑدینا مکروہے۔ ردالمحتار میں ہے: ای تحریما لقول المجتبٰی ولا عذر فیما وراء الاربعین ویستحق الوعید ۔ یہاں کراہت سے مکروہ تحریمی مراد ہے۔ المجتبٰی کے اس قول کی وجہ سے کہ چالس دن سے زیادہ دیر لگانے میں کوئی عذر (مقبول) نہیں، لہذا اگر ایسا کیا گیا تو پھر عذاب کی دھمکی کا مستحق ہے ۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الحظر والاباحۃ، جلد 22 ص 678)

    سینے اور پیٹھ کے بالوں سے متعلق شامی میں ہے: وفي ‌حلق ‌شعر ‌الصدر والظهر ترك الأدب كذا في القنية۔ترجمہ:سینے اور پیٹھ کے بال کاٹنا سوءِ ادب ہے ایسا ہی قنیہ میں ہے۔(ردالمحتار مع الدر جلد 6 ص 407)

    صدرالشریعہ بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں: سینہ اور پیٹھ کے بال مونڈنا یا کتروانا اچھا نہیں، ہاتھ، پاؤں، پیٹ پر سے بال دور کرسکتے ہیں۔ (بہارِ شریعت، جلد3، صفحہ585، مکتبۃ المدینہ)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء: ربیع الاول 1446ھ/ 30 ستمبر 2024 ء