اسٹاک ایکسچینج کے کام کا حکم
    تاریخ: 17 اکتوبر، 2025
    مشاہدات: 123
    حوالہ: 12

    سوال

    ایک پرانے کا روباری مسئلے کے بارے میں آپ سے رہنمائی چاہیے، ایک صاحب نے اسٹاک ایکسچینج یعنی شیئرز کے کاروبار میں ایک خطیر رقم لگائی ۔ اور میں نے اپنی محنت سے اس رقم میں کافی اضافہ کیا ۔ بعد ازاں انہوں نے یہ مال دوسرے بروکر کے ذریعے فروخت کیا اور رقم حاصل کرلی اور مجھے طے شدہ 15 فیصد منافع سے محروم کردیا۔ اب ان صاحب کا انتقال ہوگیا ہے، کیا میں ان کے بچوں سے اس رقم کا مطالبہ کرسکتا ہوں یا نہیں ؟اور یہ کہ تاخیر پر ہرجانہ لے سکتا ہوں یا نہیں ؟کام کا دورانیہ تیس ماہ ہے۔

    سائل: صلاح الدین :کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اسٹاک ایکسچینج میں حصص کی خرید و فروخت کا اکثر کاروبار غیر شرعی معاملات پر مبنی ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے مثلاً ڈے ٹریڈنگ، فیوچر، بدلہ وغیرہ ۔تو جب یہ کاروبار ہی ناجائز ہے تو اس کاروبار کا نفع بھی ناجائز ہوگا ۔ لہٰذا طے شدہ منافع کا تقاضہ شرعا درست نہیں ہے۔

    البتہ بعض کمپنیاں جو شرعیہ کمپلائنس ہوتی ہیں انکے حصص کی خرید وفروخت کوعلماء نے جائز قرار دیا ہے۔لیکن احتیاط یہی ہے کہ ایسی کمپنیوں کے ساتھ بھی کاروبار سے اجتناب کیا جائے، کیونکہ مارکیٹ میں اُن شرائط کو ملحوظ رکھ کر شیئرز کا کاروبار نہایت مشکل ہے، جن کا اعتبار شرعا لازم و ضروری ہے۔

    لہٰذا مالکان (انوسٹر)کے ورثاء پرلازم ہے کہ اصل رقم نکال کر کل منافع کسی فقیر شرعی پر بغیر نیت ثواب صدقہ کردے کہ یہ ملکِ خبیث ہے، اسکے ساتھ سائل پر اللہ کی بارگاہ میں صدقِ دل سے توبہ کرنا لازم ہے ،کہ یہ ایک امرِ ناجائز کے مرتکب ہوئے ہیں ۔ نیز یہ بھی لازم ہے کہ آئندہ یہ کام نہ کرنے کا پختہ ارادہ کریں۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:09 صفر المظفر 1443 ھ/18 ستمبر 2021 ء