سوال
کیا فرماتے ہیں علماء ِ دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ عید الاضحٰی کے دوران ادارے نے قصاب سے معاہدہ کیا جس کے مطابق بکرا ذبح سے لے کر بوٹی بنانے کا کام شامل تھا ۔ فی بکرا 422 روپے طے ہوا۔بقر عید کے موقع پر ایک مسئلہ یہ پیش آیا کہ ایک ٹیم کے کام میں خلل آیا جسکی وجہ سے وہ مقررہ ٹارگٹ تک نہیں پہنچ پا رہے تھے ۔ پھر ادارے نے اس ٹیم کو فارغ کرکے ایک دوسری ٹیم (عبدالسلام قصائی) کو کام دے دیا گیا ۔ عبدالسلام قصائی کی ٹیم نے 94 زائد بکروں کی صرف بوٹیاں بنائی جبکہ ذبح اور چھلائی پہلی ٹیم کرچکی تھی۔اب سوال یہ ہے کہ ادارہ عبدالسلام کو کس اعتبار سے پیسے دے گا۔ جبکہ عبدالسلام سے ان 94 بکروں کے علاوہ دیگر سالم بکروں کا معاہدہ فی بکرا 422 روپے ہوا تھا۔
سائل:اسماعیل:کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مستفسرہ میں ادارے کو چاہئے تھا کہ عبدالسلام سے زائد بکروں کی کٹائی (بوٹیاں بنانے)کا پہلے ہی اجارہ کرلیتا، تاکہ اسے طے شدہ اجرت مل جاتی، تاہم اب حکم یہ ہے کہ جب عبدالسلام سے زائد بکروں کا کوئی اجارہ طے نہ ہوا تو یہ اجارہ فاسدہ ہوا ،لہذا اس صورت میں ادارے پر اجرتِ مثل لازم ہوگی یعنی مارکیٹ میں ان ایام میں بکرے کی صرف بوٹیاں بنانے کی جو اجرت طے کی جاتی ہے وہ اسے فی بکرا کے حساب سے دی جائے گی۔
بدائع میں ہے:فإذا فسدت الإجارة وجب أجر مثل عمله۔ترجمہ:جب اجارہ فاسد ہوجائے تو اس کے کام کے مطابق اجرت مثل لازم ہے۔(بدائع الصنائع، جلد 6 ص 183)
محیط برہانی میں ہے:وللعامل أجر مثل عمله؛ لأنه ابتغى لعمله عوضاً فيكون له أجر مثل عمله لما فسدت الإجارة.ترجمہ:اور کام کرنے والے کے لئے اسکے کام کے مطابق اجرتِ مثل ہے کیونکہ اس نے اپنے کام کے ذریعے عوض تلاش کیا ہےتو اس کے لئے اسکے عمل کے مطابق اجرت مثل ملے گی کیونکہ اسکا اجارہ فاسد ہوگیا ہے۔(المحیط البرہانی،جلد 7 ص 474،475،بیروت لبنان)
الاختیار لتعلیل المختار میں ہے: (وَإِذَا فَسَدَتِ الْإِجَارَةُ يَجِبُ أَجْرُ الْمِثْلِ) لِأَنَّ التَّسْمِيَةَ إِنَّمَا تَجِبُ بِالْعُقُودِ الصَّحِيحَةِ۔ترجمہ:اور جب اجارہ فاسد ہوجائے تو اجرت مثل لازم ہوتی ہے کیونکہ تسمیہ صرف عقودِصحیحہ سے واجب ہوتا ہے۔( الاختیار لتعلیل المختار، جلد 2 ص 57)
سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں: ایسا اجارہ ہی شرعا فاسد ہے،غایت یہ کہ اس عقد اجارہ کی صورت میں اپنی محنت کی اجرت مثل لے لیں۔(فتاوٰی رضویہ ،جلد 19 ص 423 )
واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
کتبہ :محمد زوہیب رضا قادری
02 صفر المظفر 1443 ھ/09 ستمبر2021 ء