اسلامک بینکنگ انشورنس اور تکافل کا حکم
    تاریخ: 17 اکتوبر، 2025
    مشاہدات: 93
    حوالہ: 10

    سوال

    ایک بیوہ خاتون کاا یک مکان ہے، جو کہ اس نے کرائے پر دیا ہوا ہے کرائے دار کئی مہینے سے کرایہ ادا نہیں کرتا ، بڑی مشکلات سے مکان خالی کرواتی ہے تو کرائے دار اس میں مرمت کا بہت سا کام چھوڑ کر چلا جاتا ہے۔بلآخروہ بیوہ ان تکلیف دہ حالات سے گزرنے کے بعد اس مکان کو بیچ کر اسلامی بینک میں رقم رکھوادیتی ہے اس طرح اسکا سرمایہ بھی محفوظ رہتا ہے اور کچھ رقم باقاعدگی سے اسے ملتی بھی رہتی ہے۔ اس صورتِ حال مین چند سوالات ہیں : 1:کیا اس طرح اسلامی بینک میں سرمایہ کاری کرنا جائز ہے؟ 2: کیا عام عوام بھی اسلامی نظام کے ذریعہ بینک میں طویل مدت کی سرمایہ کاری کرسکتے ہیں؟ 3:کیا اسی موضوع پربیمہ پالیسی لی جاسکتی ہے یا نہیں؟ 4: گاڑی یا گھر کے لئے اسلامک بینکنگ سسٹم سے قرض لیا جاسکتا ہے؟

    سائل:ڈاکٹر شعیب:کراچی ۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1: اسلامی بینک میں سرمایہ کاری کی مختلف صورتیں ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ پیسے آپکے ہوتے ہیں اور کام بینک کرتا ہے اور نفع کا ریشو فیصدمیں فکس کر لیتا ہے۔ اسکو مضاربہ کہتے ہیں ۔یا اسی طرح بعض اوقات بینک بھی پیسے لگاتا ہے اور آپ کے بھی پیسے ہوتے ہیں اوراس میں بھی نفع کاریشو فیصد میں فکس کر لیتا ہے اسکو مشارکہ کہا جاتا ہے، اسلامک بینک اگر تمام شرعی حدود و قیود کا لحاظ رکھتا ہے تو یہ دونوں صورتیں شرعا جائز ہیں ان میں کوئی حرج نہیں ہے۔

    تنویر الابصار مع الدر المختار میں مضاربہ کی تعریف یوں ہے:'' (هِيَ) شَرْعًا (عَقْدُ شَرِكَةٍ فِي الرِّبْحِ بِمَالٍ مِنْ جَانِبِ) رَبِّ الْمَالِ (وَعَمَلٍ مِنْ جَانِبِ) الْمُضَارِبِ ''ترجمہ: شریعت کے اعتبار سے مضاربہ ایسا عقد ہے جس میں نفع میں شرکت ہوتی ہے ، اس طرح کی رب المال کی جانب سے مال ہوتا ہے اور مضارب کی جانب سے کام ۔(تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب المضاربۃ جلد 5ص 645 الشاملہ)

    بدائع الصنائع میں ہے:الشَّرِكَةُ فِي الْأَصْلِ نَوْعَانِ: شَرِكَةُ الْأَمْلَاكِ، وَشَرِكَةُ الْعُقُودِ فَشَرِكَةُ الْعُقُودِ أَنْوَاعٌ ثَلَاثَةٌ: شَرِكَةٌ بِالْأَمْوَالِ، وَشَرِكَةٌ بِالْأَعْمَالِ، وَتُسَمَّى شَرِكَةَ الْأَبْدَانِ وَشَرِكَةَ الصَّانِعِ، وَشَرِكَةٌ بِالتَّقَبُّلِ، وَشَرِكَةٌ بِالْوُجُوهِ واما بیان جَوَازِ هَذِهِ الْأَنْوَاعِ الثَّلَاثَةِ فَقَدْ قَالَ أَصْحَابُنَا: إنَّهَا جَائِزَةٌ، ترجمہ:شرکت کی ابتداء دو اقسام ہیں شرکت املاک ، شرکت عقود۔ پھر شرکت عقود کی تین اقسام ہیں ،شرکت اموال، شرکت اعمال(اسکو شرکۃ الصنائع اور شرکت تقبل بھی کہتے ہیں)، اورتیسری قسم شرکت وجوہ، اور شرکت کی یہ تینوں اقسام جائز ہیں۔(بدائع الصنائع ، کتاب الشرکۃ ، انواع الشرکۃ،جلد 2 ص 56)

    تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے:(وَكَوْنُ الرِّبْحِ بَيْنَهُمَا شَائِعًا) فَلَوْ عَيَّنَ قَدْرًا فَسَدَت۔ترجمہ:اور اسکی شرط یہ ہے کہ نفع دونوں کے درمیان شائع ہو (مثلا نصف ،نصف یا دو تہائی اور ایک تہائی وغیرہ) اوراگر رقم کی کوئی مقدار متعین کر لی تو مضاربہ فاسد ہوجائے گا۔(تنویر الابصار مع الدرالمختار ،کتاب الشرکۃ، جلد 5 ص 648)۔

    2: مضاربہ، مشارکہ اور اس جیسی دیگر صورتیں جو کہ اسلامی بینکنگ میں رائج ہیں ،اگر شرعیہ کمپلائنٹ ہیں ،تو ان میں ہر طرح کی سرمایہ کاری کرنا جائز ہے۔

    3:بیمہ پالیسی یا انشورنس ناجائز و حرام ہے اور اسلامی بینکس میں انشورنس کا معاہدہ نہیں ہوتا بلکہ اسکا شرعی بدل تکافل ہے(جسکی تفصیل آگے آرہی ہے) جو کہ شرعی اعتبار سے جائز ہے۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ انشورنس بنیادی طور پر ایک خریدوفروخت کا معاہدہ ہے جس میں انشورنس پالیسی خریدار ،انشورنس کمپنی سے ایک مقررہ مدت کی کوئی پالیسی خریدتا ہے ، اور یہ خریدتا اس لیے ہے تاکہ انشورنس کمپنی،اس پالیسی خریدار کو مقررہ مدت کے دوران کسی غیر یقینی واقعے مثلا کوئی حادثہ یا موت کے رونما ہونے کی صورت میں اسکی جمع کردہ رقم سے زائد رقم دے گی یا اسی طرح کسی غیر یقینی واقعےکے رونما نہ ہونے کی صورت میں اسکی جمع کردہ رقم سے دست برداری کرے گا۔ اولاََ: اس میں جمع کردہ رقم سے کم یا زیادہ رقم دینے کا عقد ادھار کی صورت میں ہوتا ہے لہذا یہ ربو کی ایک صورت ہے ۔ ثانیاََ: یہ بات بھی عقد میں ملحوظ ہوتی ہے کہ اگر مقررہ مدت میں کسی طرح کا حادثہ یا واقعہ رونما نہ ہوا تو پالیسی ہولڈر اپنی جمع کردہ رقم کا مطالبہ نہیں کرسکتا بلکہ اسکو تمام رقم سے دست برداری کرنی ہوگی۔اور یہ صراحتا جوا ہے ۔ اور یہ تمام امور قرآن و حدیث کی رو سے ناجائز و حرام ہیں۔

    سود کے بارے میں قرآن مجید میں ارشاد ہے :وَأَحَلَّ اللّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا۔ترجمہ: اﷲ نے تجارت (سوداگری) کو حلال فرمایا ہے اور سود کو حرام کیا ہے۔ (الْبَقَرَة ، 2 : 275)

    دوسری جگہ ارشادہے:یأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ۔ترجمہ: اے ایمان والو! اﷲ سے ڈرو اور جو کچھ بھی سود میں سے باقی رہ گیا ہے چھوڑ دو اگر تم (صدقِ دل سے)ایمان رکھتے ہو۔ (الْبَقَرَة ، 2 : 278)

    صحیح البخاری میں ہے :عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اجْتَنِبُوا السَّبْعَ المُوبِقَاتِ» ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا هُنَّ؟ قَالَ: «الشِّرْكُ بِاللَّهِ، وَالسِّحْرُ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الَّتِي حَرَّمَ اللَّهُ إِلَّا بِالحَقِّ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ اليَتِيمِ، وَالتَّوَلِّي يَوْمَ الزَّحْفِ، وَقَذْفُ المُحْصَنَاتِ المُؤْمِنَاتِ الغَافِلاَتِ»ترجمہ: حضرت ابو ہرہرہ سے مروی ہے وہ کہتے ہیں کہ نبی کریم نے فرمایا سات چیزوں سے بچو جو کہ تباہ وبرباد کرنے والی ہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کی:”یارسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم !وہ سات چیزیں کیا ہیں؟ ارشاد فرمایا:”(1)شرک کرنا(2)جادو کرنا (3)اسے ناحق قتل کرنا کہ جس کا قتل کرنا اللہ نے حرام کیا (4)سود کھانا (5)یتیم کا مال کھانا (6)جنگ کے دوران مقابلہ کے وقت پیٹھ پھیرکربھاگ جانا(7) اور پاکدامن،شادی شدہ، مومن عورتوں پر تہمت لگانا۔(صحیح البخاری ، کتاب الوصایا ، باب قول اللہ تعالیٰ ان الذین یاکلون اموال الیتمی الحدیث:2766، ج 2،ص242)

    یوں ہی جوا کے بارے میں ارشاد ہے :يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ۔ترجمہ:اے ایمان والو شراب اور جُوااور بُت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔( المائدۃ: 90)

    جبکہ تکافل مروّجہ غیر اسلامی انشورنس کا ایک ایسا جائز متبادل نظام ہےجس کی بنیاد وقف پر رکھی گئی ہے،جہاں ایک وقف فنڈ بنایا جاتا ہے جس میں شرکاء ِ تکافل روپیہ وقف کرتے ہیں اور حادثہ پیش آنے کی صورت میں یہ وقف مقررہ شرعی اصول و ضوابط کےمطابق صرف ان لوگوں کی مدد کرتا ہے جو اس وقف پول کے ڈونر ہوتے ہیں ۔ اورمروّجہ انشورنس اور تکافل میں بنیادی فرق یہ ہے کہ مروجہ انشورنس ایک ایسا عقدِ معاوضہ ہے جس میں سود قمارgambling اورغرر پایا جاتا ہے جن کی بناء پر اس کو ناجائز قرار دیا گیا ہے جبکہ تکافل کے نظام میں کوئی شرعی خرابی نہیں پائی جاتی اس بناء پر اسکو جائز قراد دیا گیا ہے،نیزتکافل کا نظام عقدِ تبرع (وقف)پر مبنی ہے اور انشورنس عقدِ تبرع نہیں ہےبلکہ عقدِ معاوضہ ہے۔مزید معلومات کے لئے مفتی اعظم پاکستان مفتی منیب الرحمان صاحب کے فتاوٰی کا مجموعہ بنام تفہیم المسائل جلد 7 ص 259 تا 269 کا مطالعہ فرمائیں۔

    4:اسلامک بینک گاڑی خریدنے یا گھر بنانے کے لئے اپنے کلائنٹ کو قرض فراہم نہیں کرتی ،کیونکہ جب آپ بینک سے قرض لیتے ہیں تو بینک کہتا ہے کہ جب آپ قرض کی ادائیگی کرو گے تو اس وقت قرض لی گئی رقم سے کچھ زیادہ مثلا 12 یا 13 فیصد رقم اضافی دینا ہوگی۔ جیسا کہ یہی معروف ہے ۔تو یہ قرض پر نفع کی صورت ہے اور قرض پر ہر طرح کا نفع بحکمِ شرع سود ہے ، اور سود حرامِ قطعی ہے ،سوداللہ اور اسکے رسول سے جنگ ہے۔اسلام میں جس طرح سود لینا حرام ہے، اسی طرح سود دینا بھی حرام ہے۔(جیساکہ ما قبل سوال کے جواب میں گزرا)

    قرض پر نفع سود ہےجیساکہ حدیث پاک میں ہے: مسند الحارث میں ہے :عَنْ عُمَارَةَ الْهَمْدَانِيِّ: قَالَ سَمِعْتُ عَلِيًّا يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَآلہ سَلَّمَ: «كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً فَهُوَ رِبًا»ترجمہ: عمارہ ہمدانی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو فرماتے سنا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا '' ہر وہ قرض جو نفع دے وہ سود ہے۔ (مسند الحارث باب فی القرض یجر المنفعۃ جلد 1 ص500)

    بلکہ اسلامک بینک گاڑی یا گھر دلوانے کے لئے ایک دوسرا معاہدہ کرتا ہے، جسکا نام شرکت متناقضہ ہے جسکو انگلش میں (DIMINISHNG MUSHARKAH)کہا جاتا ہے۔اور بعض بینک اسے کار اجارہ یا ہوم اجارہ سے بھی تعبیر کرتے ہیں ۔

    خلاصہ یہ کہ اس معاہدہ کی بنیادوں پر بینک سےگھر یا گاڑی کی لین دین کا معاملہ کرسکتے ہیں۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:23ربیع الثانی 1442 ھ/09 دسمبر 2020 ء