بیوہ عورت کے کپڑے پہننا

    bewa aurat ke kapre pehenna

    تاریخ: 11 جون، 2026
    مشاہدات: 16
    حوالہ: 1429

    سوال

    اگر کنوری لڑکی کسی بیوہ کے کپڑے پہن لے تو اس سے کچھ ہوتا تو نہیں نا؟ اسی طرح کنواری لڑکی بیوہ کا دوپٹہ اوڑھ سکتی ہے یا نہیں؟ کیونکہ لوگ کہتے ہیں کہ بیوہ کےکپڑے پہننے سے کنواری کی شادی میں رکاوٹیں آجاتی ہیں۔

    سائلہ: صوبیہ ،نواب شاہ


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    اگر کنوری لڑکی کسی بیوہ کے کپڑے پہن لےیا کنواری لڑکی بیوہ کا دوپٹہ اوڑھ لے تو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا ، اور اس طرح کے افعال سے کسی طرح کی بدشگونی لینا یا نحوست سمجھنا ہندوؤں کاطریقہ ہے۔ بلکہ احادیث اس کے خلاف پر دلالت و صراحت کرتی ہیں۔چناچہ فیض القدیر ،اور اسی طرح المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے واللفظ لہ: لیس منا من تطیر و تطیر لہ ترجمہ: جس نے بد شگونی لی اور جس کے لیے لی ،وہ ہم میں سے نہیں ہے۔( فیض القدیرجلد 3ص288 ، المعجم الکبیر للطبرانی جلد 18 ص 162 )

    سیدی اعلیٰ حضرت سے اسی قسم کا سوال کیا گیا کہ ایک شخص کی نسبت عام طور پر جملہ مسلمانان واہل ہنود میں یہ بات مشہور ہے کہ اگر صبح کو اس کی منحوس صورت دیکھ لی جائے یا کہیں کام کو جاتے ہوئے یہ سامنے آجائے تو ضرور کچھ نہ کچھ وقت اور پریشانی اٹھانی پڑے گی اور چاہے کیسا ہی یقینی طور پر کام ہوجانے کا وثوق ہو لیکن ان کا خیال ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور رکاوٹ اور پریشانی ہوگی چنانچہ اگر کہیں جاتے ہوئے سامنا پڑگیا تو اپنے مکان کو واپس جاتے ہیں اور چندے توقف کرکے یہ معلوم کرکے وہ منحوس سامنے تو نہیں ہے جاتے ہیں، اب سوال یہ ہے کہ ان لوگوں کا یہ عقیدہ اور طرز عمل کیسا ہے؟ کوئی قباحتِ شرعیہ تو نہیں؟

    الجواب : شرع مطہر میں اس کی کچھ اصل نہیں، لوگوں کا وہم سامنے آتا ہے۔شریعت میں حکم ہے: اذا تطیرتم فامضوا جب کوئی شگون بدگمان میں آئے تو اس پر عمل نہ کرو۔(فتح الباری کتاب الطب باب الطیرۃ جلد 12 ص 323)

    وہ طریقہ محض ہندوانہ ہے مسلمانوں کو ایسی جگہ چاہیے کہ : اللّھم لا طیر الا طیرک ولا خیرالا خیرک ولا الٰہ غیرک ترجمہ: اے اﷲ ! نہیں ہے کوئی برائی مگر تیری طرف سے اور نہیں ہے کوئی بھلائی مگر تیری طرف سے اور تیرے بغیر کوئی معبود نہیں۔ پڑھ لے ، اور اپنے رب پر بھروسا کرکے اپنے کام کو چلا جائے ، ہر گز نہ رُکے نہ واپس آئے۔(کنزالعمال حدیث 28588 ،جلد 10 ص 115)

    واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:24 صفر المظفر 1440 ھ/03 نومبر 2018 ء