توہینِ مصحف کا شرعی حکم
    تاریخ: 14 فروری، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 783

    سوال

    سوشل میڈ یا پر فحاشی کو بنیاد کر ایسا سخت تو ہین آمیز مواد پھیلا یا جارہا ہے جسے دیکھ کر اس کی سنگینی کے کے باعث انسان کی روح کانپ اٹھتی ہے۔ ان حالات کے پیش نظر سوشل میڈیا پر ہونے والی تو ہین کے حوالہ سے چند سوالات کے جوابات جلد از جلد مطلوب ہیں جن سے توہین کی نوعیت کا اندازہ آپ بخوبی کر سکتے ہیں:

    1:اگر کوئی شخص نعوذ باللہ مذہبی مقدسات جیسے جائے نماز یا مصحف شریف کی توہین کا (پیشاب کرنے) Urination یا (استمناء)Semination کے ذریعے مر تکب ہو اور اسے قانون نافذ کرنے والے ادارے گر فتا ر کر لیں تو :

    کیا عدالت میں مصحف شریف یا جائے نماز کو جرم کے ثبوت کے طور پر پیش کرنے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کے مرحلے سے گزارنے کے وقت تک اسی حالت میں رکھنا شرعاً جائز ہے ؟ عموماً ڈی این اے ٹیسٹ کی رپورٹ تیس دنوں میں یا اگر پہلی ترجیحی بنیادوں پر اسے مکمل کیا جائے تو کم از کم ۴۸ گھنٹوں میں دی جاتی ہے۔ اس کے بعد قرآن مجید کا اسی حالت میں کسی پیکنگ میں بند رہنا یا عدالتی کاروائی کے بعد اسی حالت میں مال خانہ میں جمع ہو جانا کیسا ہے ؟

    2:۔ اگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کوئی ذمہ دار فرد توہین کرنے والے شخص سے مصحف شریف یا جائے نماز حاصل کرتے ہوئے اگر فوری طور پر اس کو اس توہین سے پاک کرے اور اس دوران قانون نافذ کرنے والے ادارے اس کی ویڈیو بنالیں اور بعد میں اس کا ڈیجیٹل فرانزک بھی کروالیا جائے تو کیا یہ ویڈیو جرم کو ثابت کرنے کے لیے شرعا کافی ہو گی جبکہ سوشل میڈیا پر اس کے ذاتی اکاونٹس اور گروپس میں ہونے والی تو ہین اس کے جرم کی شناعت کو مزید واضح اور ثابت کرتی ہو؟

    اگر ویڈیوز یا تصاویر کی صورت میں یہ متبادل طریقہ ثبوت جرم موجود نہ ہو تو محض مجرم کا جرم ثابت کرنے کے لیے قرآن مجید کو توہین کی اس حالت میں رکھنا شرعا حرام ہے ؟ یا کفر ہے ؟ یا جائز ہے ؟ یہ سوال حال میں گرفتار ہونے والے ایک شخص کے حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے پوچھا گیا ہے۔ جو نعوذ باللہ قرآن مجید کی اس انداز سے توہین کیا کرتاتھا۔ اس طرح کا یہ ایک واقعہ نہیں بلکہ اس نوعیت کی توہین کے متعدد واقعات پیش نظر رکھتے ہوئے یہ استفتاء آپ کی خدمت میں پیش کیا جارہا ہے۔

    2:۔کیا فحاشی پر مبنی تو ہین آمیز مواد کے ساتھ گستاخی کرنے والے شخص کی گرفتاری کے بعد اسے توبہ کی دعوت دی جاسکتی ہے ؟ اور اگر وہ توبہ کرلے توگرفتاری کے بعد کی توبہ پر کیا شرعی احکامات مترتب ہوں گے ؟

    سائل: محمد عتیق


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پہلے سوال کا جواب

    مصحف وجائے نماز کو اسی حالت میں رکھنا

    مصحف شریف پر لگی نجاست کی تحقیق کے لیے نجاست کو اتار کر کسی قابلِ قبول محفوظ چیز میں منتقل کیا جا سکتا ہے جس پر لوگوں کو گواہ بھی بنایاجا سکتاہے ۔اور اس تمام تر کاروائی کی ویڈیو بھی بنائی جا سکتی ہے تاکہ بعد میں ثبوت کے طور پر پیش کی جا سکے ۔

    لہذا درج بالا امور کے ہوتے ہوئے مصحف شریف کو استقصائی مراحل سے گزارنے کے وقت تک اسی حالت میں رکھنا شرعاً ناجائز و حرام ہے جس کی قطعاً اجازت نہیں دی جا سکتی نہ ہی کوئی ادنٰی مسلمان اس بات کو قبول کر سکتا ہے ۔رہا معاملہ جائے نماز کا تو اسے بھی ایسی حالت میں رکھنے کی اجازت نہیں!

    مصحف شریف کے حفاظت کی ذمہ داری مسلمانوں پر عائد ہو تی ہے کہ وہ مصحف شریف سے جتنے بھی امور تعلق رکھتے ہیں ان میں طہارت کو ملحوظ رکھیں ۔اس کی تیاری کے مراحل میں اوراق کی طہارت ، دورانِ کتابت کاتبین کی طہارت ،تکمیل کے بعد جس جگہ رکھا جائے اس جزدان ،اس جگہ کی طہارت ،جس میں لپیٹا جائے اس غلاف کی طہارت ،جو ہاتھ چھوئیں ان ہاتھوں کا پاک ہونا فرض ہے یہاں تک کہ حفاظت کےپیشِ نظر مسلمانوں کو کافروں کے ان ملکوں میں مصحف لے کر جانے کی اجازت نہیں جہاں کفار مصحف شریف کے احترام کا لحاظ نہ رکھتے ہوں۔

    اللہ احکم الحاکمین کا حکم ہے:إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ ، فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ، لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ،تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ :ترجمہ کنزالایمان: بےشک یہ عزت والا قرآن ہے ،محفوظ نَوِشْتَہ میں ،اسے نہ چھوئیں مگر باوضو ،اتارا ہوا ہے ،سارے جہان کے رب کا۔(واقعہ:77 تا 80)

    مؤطا امام مالک میں عبد اللہ بن ابی بکر بن حزم سے مروی ہے کہ جس مکتوب کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عمر و بن حزم کے لیے لکھا اس میں یہ بھی مرقوم تھا کہ:ان لایمس القرآن الا طاہر۔ترجمہ: قرآن کو پاک شخص کے سوا کوئی نہ چھوئے ۔(موطا:رقم الحدیث2270)

    جن لوگوں کو قرآن چھونے کی اجازت مرحمت فرمائی گئی انہیں مطہرون کی صفت سے متصف فرمایا جس کا معنی ہے کہ ناپاک لوگوں کو اس کے چھونے کی ہر گز اجازت نہیں خواہ وہ ظاہری طور پر ناپاک ہوں جیسے بے وضو مسلمان یا باطنی طور پر ناپاک ہوں جیسے مشرک ،یہودی عیسائی وغیرہ ۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کی تفسیر میں مفسرین نے دونوں (ظاہری و باطنی ناپاکی) پر مرتب ہونے والے احکام بیان فرمائے :

    امام قرطبی آیت لایمسہ الا المطہرون کے تحت لکھتے ہیں : قَالَ ابْنُ عُمَرَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: (لَا تَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا وَأَنْتَ طَاهِرٌ) وَقَالَتْ أُخْتُ عُمَرَ لِعُمَرَ عِنْدَ إِسْلَامِهِ وَقَدْ دَخَلَ عَلَيْهَا وَدَعَا بالصحيفة: (لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ) فَقَامَ وَاغْتَسَلَ وَأَسْلَمَ۔ترجمہ :ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :قرآن کو اسی حالت میں چھوؤو جب تم پاک ہو۔جب حضرت عمر اپنی بہن کے ہاں آئے اور ان سے صحیفہ مانگا تو آپ کی بہن نے جواباًقرآن کی یہی آیت (لا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ)پڑھی چناچہ جناب عمر کھڑے ہوئے غسل کیا اور اسلام لے آئے ۔ ( تفسير القرطبي جلد 17 صفحہ 225)

    امام فخر الدین الرازی لکھتے ہیں کہ بے وضو قرآن کو چھونے میں قرآن مجید کی اہانت ہے اس لیے ناپاک شخص کا قرآن کو چھونا جائز نہیں۔(التفسیر الکبیر،جلد 10،صفحہ 431دار الاحیاء التراث العربی )

    کافروں کے ملک میں قرآن لے کر جانا :عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى" أَنْ يُسَافَرَ بِالْقُرْآنِ إِلَى أَرْضِ الْعَدُوِّ"ترجمہ:عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دشمن کے علاقے میں قرآن مجید لے کر جانے سے منع فرمایا ہے۔(الصحیح البخاری، رقم الحدیث: 2990)

    امام مالک اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : أراه مخافة أن يناله العدو۔ترجمہ: میرا خیال ہے کہ اس میں یہ خوف ہے کہ کہیں دشمن کے ہاتھ نہ لگ جائے ۔ (موطا امام مالك رواية ابن القاسم: 570)

    علامہ نووی رحمہ اللہ کہتے ہیں:أجمع العلماء على وجوب صيانة المصحف واحترامه.ترجمہ:"اہل علم کامصحف شریف کی حفاظت اور اس کے احترام پر اجماع ہے۔(المجموع،جلد 2صفحہ 85)

    مراقی الفلاح شرح نورالایضاح میں ہے: ويحرم على المحدث ثلاثة أشياءومس المصحف" القرآن ولو آية للنهي عنه في الآية "ترجمہ:بے وضو شخص کے لیے تین کام کرنا حرام ہیں :۔1 قرآن کو چھونا خواہ ایک ہی آیت کیوں نہ ہو ،کیونکہ آیت مبارکہ(لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ) میں اس سے منع کیا گیا ہے۔( مراقی الفلاح شرح نورالایضاح،باب الحیض والنفاس ،جلد 1 ص 148)

    فتاویٰ عالمگیری میں ہے:”ومنھا حرمۃ مس المصحف لا یجوز لھما و للجنب والمحدث مس المصحف: یعنی جو کام حیض و نفاس والی پر حرام ہیں ، ان میں قرآن پاک کو چھونے کی حرمت بھی ہے کہ حیض و نفاس والی کے لیے، جنبی اور بے وضو شخص کے لیے قرآن پاک کو چھونا، جائز نہیں( ملتقطاً از فتاوٰی عالمگیری،کتاب الطھارۃ، ج 01، ص 39،38، مطبوعہ پشاور)

    فتح القدیر میں ہے:”لا یجوز للجنب و الحائض ان یمسا المصحف بکمھما او ببعض ثیابھما لان الثیاب بمنزلۃ یدیھما“یعنی جنبی اور حائضہ کے لیے قرآن شریف کو آستین سے چھونا یا پہنے ہوئے کپڑوں سے چھونا ،جائز نہیں، کیونکہ پہنے ہوئے کپڑے ہاتھ سے پکڑنے کے حکم میں ہیں۔( فتح القدیر، باب الحیض و الاستحاضۃ، ج 01، ص 149، مطبوعہ کوئٹہ)

    توہین ِ قرآن کا حکم شرعی اور اس کی سزا :

    جس طرح قرآن کی تعظیم و تکریم فرض ہے اسی طرح اس کی توہین و اہانت کفر اور موجبِ لعنت ہے ۔اگر کوئی مسلمان بقائم ہوش و حواس توہین کا ارتکاب کرے تو وہ اسلام سے خارج ہو جائے گا ۔اور اس پر مرتد کے احکام جاری ہوں گے کہ اس سے توبہ کا تقاضا کیا جائے گا توبہ کر لے تو ٹھیک ورنہ ایسے شخص کوحداً قتل کر دیا جائے گا(قاضی کو توبہ کے بعد بھی تعزیرا سزا دینے کا اختیار ہے ) ۔اور اگر کوئی کافر ،کتابی ذمی وغیرہ توہین کرےتو اس کے خلاف سخت سے سخت تعزیری کاروائی کی جائے گی ۔

    امام نووی شافعی علیہ الرحمہ لکھتے ہیں:أجمع المسلمون على وجوب صيانة المصحف واحترامه،، فلو ألقاه والعياذ بالله في قاذورة كفر۔ ترجمہ:مسلمانوں کا اس پر اجماع ہے کہ قرآن کی حفاظت اور اس کا احترام فرض ہے ۔پس اگر کسی نے العیاذ باللہ تعالی قرآن کو کوڑے میں پھینکا تو وہ کافر ہو جائے گا ۔( جزء فيه ذكر اعتقاد السلف في الحروف والأصوات جلد 1صفحہ 76مكتبة الأنصار للنشر والتوزيع)

    قاضی عیاض مالکی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :أعلم أن من استخف بالقرآن أو المصحف أو بشئ منه أو سبهما أو جحد حرفا منه فهو كافر بإجماع المسلمين۔ترجمہ:جان لو کہ جس نے قرآن ،مصحف شریف یاان سے تعلق رکھنے والی کسی چیز کو ہلکا جانا یا ان کی شان میں گستاخی کی،یا اس کے کسی حرف کا انکار کیا تو وہ شخص بالاجماع کافر ہے۔ملخصا(الشفا بتعريف حقوق المصطفى جلد 2 صفحہ 646 دار الفيحاء – عمان)

    دوسرے سوال کا جواب

    جواب سے قبل تمہید ذکر کی جاتی ہے ملاحظہ ہو :

    جس جرم سے حدود وقصاص لازم آئے اس کے ثبوت (evidence)کے تین طریقے ہیں:(1)اقرار(2)شہادت (3)نکول۔

    اقرار(confession)

    اقرار حجت شرعی ہے جو کہ قرآن و سنت اور اجماع ِ امت سے ثابت ہے۔ یہ وہ اعتراف ہے جو مقر کی طرف سے صادر ہوتا ہے ،اور اس سے معاملہ بلکل ظاہر ہو جاتاہے۔اقرار ثبوت ِ جرم کی سب سے اعلٰی دلیل ہے کہ اگر مجرم جرم کا اقرار کر لے تو قاضیِ شرع اقرار کے شرعی تقاضے پورے ہونے کے بعد فیصلہ سنا سکتا ہے کہ اس کے ہوتے ہوئے شہادت یا کسی اور قرینہ کی حاجت نہیں رہتی (البحر الرائق میں ہے:لو اقر بعد البینۃ یقضی بہ لا بہا)۔

    اقرار کی شرعی تعریف ہے: اعْتِرَافٌ صَادِرٌ مِنَ الْمُقِرِّ يَظْهَرُ بِهِ حَقٌّ ثَابِتٌ فَيَسْكُنُ قَلْبُ الْمُقَرِّ لَهُ إِلَى ذَلِكَ۔ترجمہ:وہ اعتراف جو مقر سے صادر ہو اور اس سے حق ظاہر ہو جائے اور مقر لہ کے دل کو اس سے تسکین ملے۔(الاختيار لتعليل المختار،کتاب الاقرار جلد 2 صفحہ 89دار الفیحاء)

    اللہ جل وعلا کا فرمان ہے :كُونُوا قَوَّامِينَ بِالْقِسْطِ شُهَدَاءَ لِلَّهِ وَلَوْ عَلَى أَنْفُسِكُمْ۔ترجمہ: اے ایمان والو انصاف پر خوب قائم ہوجاؤ اللہ کے لیے گواہی دیتے چاہے اس میں تمہارا اپنا نقصان ہو۔(النساء: 135)

    اس آیت مبارکہ میں شہادت علی النفس (اپنی ذات پر گواہی دینا ) کا حکم ہے اور اقرار شہادت علی النفس ہی ہوتا ہے کہ اس شہادت سے ظاہرًا مقر کا نقصان ہوتا ہے ۔

    صحیح بخاری و مسلم میں کہ حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نےحضرت انیس سے فرمایا:وَاغْدُ أَنْتَ يَا أُنَيْسُ إِلَى امْرَأَةِ هَذَا فَإِنِ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا۔ترجمہ:اے انیس کل تم اس عورت کے پاس جانا اگر وہ اعتراف کر لے تو اسے رجم کر دینا ۔(البخاری:6827)۔اسی طرح نبی علیہ الصلاۃ والسلام نے حضرت ماعز اور غامدیہ نامی خاتون کو جو رجم کیا وہ بھی اعتراف کی بنیاد پر تھا ۔

    شہادت (testimony)

    ثبوتِ جرم کا دوسرا طریقہ شہادت ہے، یہ بھی حجت شرعیہ ہے ۔حدود و قصاص میں نصابِ شہادت یہ ہے کہ اس میں صرف مردوں کی گواہی قبول ہوتی ہے۔حد زنا میں چار مرد گواہوں کا ہونا ضروری ہے جبکہ اس کے علاوہ حدود میں دو گواہ کافی ہوتے ہیں۔اور معاملات میں نصاب ِ شہادت یہ ہے کہ دو مرد گواہی دیں یا پھر ایک مرد اور دو عورتیں گواہی دیں ۔ وہ معمالت جو صرف خاتون سے تعلق رکھتے ہیں ان صرف عورتوں کی گواہی معتبر ہے ۔

    قبولِ شہادت کا معیار یہ ہے کہ :شاہد عاقل ،بالغ ہو ،عادل ہو ،مدعی علیہ مسلمان ہو تو شاہد بھی مسلمان ہو،اس کی یاداشت درست ہو ،نابینا نہ ہو اور مدعی علیہ پر اپنی گواہی کے ذریعے الزام قائم کرنے کی اہلیت رکھتا ہو اور شاہد کی مدعی کے ساتھ ولادت یا زوجیت کے لحاظ سے کسی قسم کی قرابت نہ ہو اور نا ہی مدعی علیہ کے ساتھ کوئی دنیاوی دشمنی ہو نیز اس گواہی کے ذریعے مال و متاع ،منفعت وغیرہ کا حصول بھی کار فرما نہ ہو۔

    ارشاد باری تعالی ہے: وَاسْتَشْہِدُوۡا شَہِیۡدَیۡنِ مِنۡ رِّجَالِکُمْ ۚ فَاِنْ لَّمْ یَکُوۡنَا رَجُلَیۡنِ فَرَجُلٌ وَّامْرَاَتٰنِ مِمَّنۡ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّہَدَآءِ اَنۡ تَضِلَّ اِحْدٰىہُمَا فَتُذَکِّرَ اِحْدٰىہُمَا الۡاُخْرٰی ؕ ۔ترجمہ: اپنے مردوں میں سے دو کو گواہ بنا لو اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں اُن گواہوں سے جن کو تم پسند کرتے ہو کہ کہیں ایک عورت بھول جائے تو اُسے دوسری یاد دلادے گی۔ (البقرة: 282)

    ارشاد باری تعالی ہے:وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ۔ترجمہ:اور اپنے میں دو ثقہ کو گواہ کرلو اور اللہ کے لیے گواہی قائم کرو۔(الطلاق: 2)

    شہادت کی تعریف کی بابت درمختار میں ہے: اخبار صدق لاثبات حق بلفظ الشہادۃ فی مجلس القاضی۔ترجمہ: کسی حق کو ثابت کرنے کےلئے مجلس قاضی میں لفظ شہادت کے ساتھ سچی خبر دینا،(شہادت کہلاتا ہے)۔

    شہادت کی شرائط کے متعلق ہے: شرطھا العقل الکامل والضبط والولایۃ فیشترط الاسلام لوالمدعی علیہ مسلما وعدم قرابۃ ولادۃ او زوجیۃ اوعداوۃ دنیویۃ اودفع مغرم اوجرمغنم۔ترجمہ: شہادت کی شرطیں یہ ہیں شاہد کا عاقل، بالغ صحیح یا دداشت والا اور مدعا علیہ پر ولایت رکھنے والاہونا چنانچہ اگر مدعی علیہ مسلمان ہو تو شاہد کا مسلمان ہونا شرط ہوگا(نیز یہ بھی شرط ہے کہ) شاہد کو مشہودلہ کے ساتھ ولادت یا زوجیت کے اعتبار سے قرابت حاصل نہ ہو اور نہ ہی کوئی دنیاوی عداوت ہو،اور شاہدکو اس گواہی سےدفعِ تاوان یا حصوِل منفعت جیسی سہولت بھی حاصل نہ ہوتی ہو۔ ملخصا(درمختار کتاب الشہادات جلد 05،صفحہ 462،دار الفکر بیروت)

    نصاب ِ شہادت کے متعلق الاختیار لتعلیل المختار میں ہے: وَلَا يُقْبَلُ عَلَى الزِّنَا إِلَّا شَهَادَةُ أَرْبَعَةٍ مِنَ الرِّجَالِ، وَبَاقِي الْحُدُودِ وَالْقِصَاصِ شَهَادَةُ رَجُلَيْنِ، وَمَا سِوَاهُمَا مِنَ الْحُقُوقِ تُقْبَلُ فِيهَا شَهَادَةُ رَجُلَيْنِ، أَوْ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ (ف) ، وَتُقْبَلُ شَهَادَةُ النِّسَاءِ وَحْدَهُنَّ فِيمَا لَا يَطَّلِعُ عَلَيْهِ الرِّجَالُ كَالْوِلَادَةِ وَالْبَكَارَةِ وَعُيُوبِ النِّسَاءِ۔ترجمہ:زنا پر شہادت صرف چار مردوں ہی قبول کی جائے گی ۔اور بقیہ حدود و قصاص میں دو مردوں کی قبول کی جائے گی۔حدود وقصاص کے علاوہ حقوق میں دو مردوں کی گواہی یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی قبول کی جائے گی ۔اور وہ معاملات جن پر مرد مطلع نہیں ہو سکتے ہیں ان میں تنہا عورتوں کی گواہی بھی معتبر ہو گی جیسے ولادت،بکارت،اور عورتوں کی عیوب۔

    نکول (refusal to swear)

    آقا کریم خاتم النبیین علیہ الصلاۃ ولتسلیم نے قضا کا قاعدہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ : اَلْبَیِّنَۃُ عَلَی الْمُدَّعِي،وَالْیَمِینُ عَلَی الْمُدَّعٰی عَلَیْہِ ترجمہ:مدعی پر گواہ پیش کرنا اور مدعا علیہ پر قسم لازم ہے۔(صحیح مسلم رقم الحدیث : 2514)

    اگر مدعی اپنے دعوی کے ثبوت میں گواہ نہ پیش کر پائے تو پھر قاضی مدعی علیہ سے قسم کا مطالبہ کرتا ہے ۔ اگر وہ قسم اٹھا لے تو اس کے حق میں فیصلہ ہو جاتا ہے اور اگر قسم اٹھانے سے انکار کر دے تو قاضی اس کے خلاف فیصلہ کر دیتا ہے ۔مدعی علیہ کے قسم اٹھانے سے انکار کرنے کو نکول کہا جاتا ہے ۔

    حدود وقصاص میں اقرارو شہادت اور نکول میں انحصار کی توجیہ

    فوجداری مقدمات (حدود وقصاص)میں ثبوتِ جرم کو اقرار و شہادت اور نکول میں منحصر کرنے کا مقصد یہ تھا کہ نظام و قیام ِعدل میں کوئی ظلم کا شائبہ نہ رہے ،حق بات روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے ،کسی بے گناہ پر ظلم وزیادتی نہ ہو ۔ سو فوجدار ی مقدمات کے معیار کے تقاضوں کو پورے کرنے کی یہ تین ہی کما حقہ صلاحیت رکھتے ہیں جبکہ ان کے علاوہ دیگر طرق ِ قضا میں شک و شبہ کا احتمال کہیں نہ کہیں باقی رہتا ہے اور جب تک حدود میں ادنی سا احتمال بھی موجود ہو تو حدود جاری نہیں ہو تیں۔ تا ہم وہ جرائم جن سے حدود و قصاص نہ لازم آتے ہوں ان میں ثبوتِ جرم کے لیےان تین کے علاوہ اور بھی طریقے معتبرو مسلم ہیں جن میں سے ایک قرینہ قاطعہ ہے ۔

    فتاوٰی خیریہ: حجج الشرع ثلثۃ وھی البینۃ اوالاقرار اوالنکول کما صرح بہ فی الاقرار الخانیۃ۔ شرعی دلائل تین ہیں:گواہی یا اقراریا قسم سے انکار، جیسا کہ خانیہ کے باب الاقرار میں تصریح ہے۔( فتاوٰی خیریہ کتاب القضاءجلد02صفحہ 12دارالفکر بیروت )

    اسی میں ہے : القاضی لایقضی الابالحجۃ وھی البینۃ اوالاقرار اوالنکول۔ترجمہ: قاضی صرف حجت پر فیصلہ دے گا اور وہ صرف گواہی یا اقرار یا قسم سے انکار ہے۔( فتاوٰی خیریہ کتاب القضاءجلد02صفحہ 19دارالفکر بیروت

    قرینہ کی بابت

    لفظِ قرینہ "قرن" سے مشتق صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ جس کے لغوی معنی مصاحبت (Companionships) کے ہیں۔ اسی بنا پر ساتھی اور مصاحب کو قرین کہا جاتا ہے۔ جبکہ اصطلاح میں قرینہ اس امر کو کہا جاتا ہے جو صریح نہ ہو نے کے باوجود مقصود پر دلالت کرے۔(الموسوعة الفقهية الكويتية،جلد 33صفحہ 156)

    كتاب "التعريفات" میں قرینہ کی تعریف ہے : "القرينة: أمر يشير إلى المطلوب"۔ترجمہ:قرینہ ایسا ہے امرہے جومطلوب کی طرف اشارہ کرے۔ (التعريفات للجرجاني صفحہ 223)

    شیخ مصطفی زرقا نے لکھتے ہیں:کل امارۃ ظاہرۃ تقارن شیئا خفیا وتدل علیہ ۔ترجمہ:ہر وہ ظاہری علامت جو کسی خفی چیز ملی ہو اور اس پر دلالت کرے۔(المدخل الفقہی العام جلد 02،صفحہ936دار القلم دمشق)

    یہ قرینہ کبھی تو قطعی ہوتا ہے کہ امر واقع کو قطعیت کے درجے تک پہنچا دیتا ہے اور کبھی ظنی کہ معاملہ کے متعلق فقظ ظن کا فائدہ دیتا ہے اور کبھی تو وہم کے درجے میں بلکل ناقابلِ قبول ہوتا ہے ۔چونکہ مانحن فیہ مسئلہ کا تعلق قرینہ قاطعہ سے ہے لہذا یہاں پر قرینہ قاطعہ کے لحاظ سے بحث ہو گی۔

    قرینہ قاطعہ کی تعریف

    درر الحکام فی شرح مجلۃ الحکام میں ہے:(الْقَرِينَةُ الْقَاطِعَةُ هِيَ الْأَمَارَةُ الْبَالِغَةُ حَدَّ الْيَقِينِ۔ترجمہ:قرینہ قاطعہ سے مراد وہ قرینہ ہے جو یقین کی حد تک پہنچا دے۔( درر الحكام في شرح مجلة الأحكام۔المادۃ:،1740 جلد4 صفحہ 484)

    علامہ شامی علیہ الرحمہ نے اس کی تعریف یوں کی ہے: الْقَرَائِنُ الْوَاضِحَةُ الَّتِي تُصَيِّرُ الْأَمْرَ فِي حَيِّزِ الْمَقْطُوعِ بِهِ۔ترجمہ: قرائنِ واضحہ وہ ہیں جو معاملے کو یقینی حد تک پہنچا دیں۔

    قرائن قاطعہ کامعتبر و مقبول ہونا ایک امر مسلم ہے جسے قرآن و سنت اور کتبِ فقہ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے کہ قرائن کو نہ صرف تائید و تقویت کے طور پر لیا گیا بلکہ بعض مقامات پر صرف ان کی بنیاد پر فیصلہ کیا گیا ۔

    نوٹ: ذیل میں بعض وہ مثالیں بھی پیش کی جائیں گی جن میں قرینے کو تو تسلیم کیا گیا ہے لیکن حدودوغیرہا میں اس کی حجیت پر اختلاف ہے جس کی تفصیل آگے آئے گی۔

    مثالیں ملاحظہ ہوں !

    1:۔حضرت یوسف علیہ السلام کی قمیص کے پیچھے سے پھٹنے کو ،ان کی براءت کے لیے بطورقرینہ پیش کیا گیا ۔

    2:۔جب حضرت یعقوب علیہ السلام کو بیٹیوں نے جناب یوسف علیہ السلام کی خون آلود قمیص دی اور کہا کہ انہیں بھیڑیا کھا گیا تو آپ نے فرمایا: بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًا ۔ترجمہ:بلکہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیےحیلہ بنا دیا ہے۔(یوسف:18) آپ علیہ السلام کا یوسف علیہ السلام کو زندہ سمجھنا اور بھائیوں کو موردِ الزام ٹھہرانا یہ قمیص کے نہ پھٹنے کے قرینہ کی بنیاد پر تھا کہ بڑا عجیب بھیڑیا ہے کہ یوسف علیہ السلام کو تو کھا گیا لیکن قمیص کو پھٹنے نہیں دیا ۔

    3:۔ – آقا کریم علیہ الصلاۃ والسلام نے بچے کی ولدیت کے بارے یہ فیصلہ دیا کہ اگراس کی شکل و صورت اور اعضا ایسے ہوں تووہ شریک کا بیٹا ہوگا اور اگر ایسے ہوں تو ہلال بن امیہ کا ۔ (ابوداؤد : السنن‘ کتاب الطلاق)

    4:۔اگر کسی شخص کے منہ سے شراب کی بو آ رہی ہو یا وہ شراب کی قے کرے تو اس کی بنیاد پر اسے سزا دی جائے گی۔

    6:۔کوئی شخص خالی مکان سے چُھری لیے باہر نکلا جس پر انسانی خون تھا اور مکان میں ایک شخص مذبوح حالت میں پایا گیا تو یہ اس کے قاتل ہونے پر قرینہ ہے۔

    7:۔وہ عورت جو کسی کی منکوحہ نہیں اس کے پیٹ میں حمل کا پایا جانا اس حال میں کہ زنا بالجبر کی بھی نفی ہو گئی تو ایسی عورت کو سزا دی جائے گی۔

    8:۔ملزم سے مالِ مسروقہ کا برآمد ہونا اس کے سارق ہونے پر قرینہ ہے۔

    فائدہ:قرائن پر مبنی فیصلوں کی مزید مثالوں کے لیے ابوالحسن علی بن خلیل طرابلسی کی معین الحکام ملاحظہ فرمائیں جس میں انھوں نے 24مسائل کا ذکر کیا ہے جن میں قرائن کی بنیاد پر فیصلے دیے ہیں اسی طرح علامہ ابن قیم نے بھی "الطرق الحکمیۃ "میں بھی متعدد مثالیں پیش کی ہیں۔

    قرائن کے اثر کا دائرہ کار:

    امام اعظم ابو حنیفہ اور امام محمد بن ادریس شافعی رحمۃ اللہ علیھما کے نزدیک صرف قرائن کی بنیاد پر حدودو قصاص جاری نہیں ہو سکتی۔جبکہ امام احمد بن حنبل کے دو قول ہیں ایک قول کے مطابق ثبوتِ قرینہ قطعیہ سے حد جاری ہو گی جبکہ دوسرا قول امام اعظم و شافعی کی مثل ہے ۔ تاہم قرائنِ قاطعہ کے تعزیر میں مؤثر ہونے میں کسی کا کوئی اختلاف نہیں کہ قاضی اس کی بنیاد پر مجرم کو تعزیری سزا دے سکتا ہے ۔

    جمہور فقہائے کرام کے مؤقف پر دلائل

    حدود و قصاص کی جزائیں اور سزائیں ، اور ان کے ثبوت کے طریقے بھی شارع کی طرف سے مقرر شدہ ہیں ان میں کسی قسم کی کمی یا اضافہ کرنے کے ہم مجاز نہیں۔ اسلامی فوجداری (حدود ق قصاص)کا معاملہ نہایت حساس ہے کہ اس میں حد درجہ احتیاط کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ ادنی سے شبہ کی وجہ سےحدود ساقط ہو جاتی ہیں ۔ یہاں تک کہ حدیث پاک میں فرمایا :قاضی کا کسی کو خطا پر مبنی دلیل کی بنیاد پر معاف کر دینا ، مبنی بر خطا دلیل کی بنا پر سزا دینےبہتر ہے ۔

    نبی کریمﷺ نے فرمایا: ادرؤا الحدود عن المسلمين ما استطعتم فإن كان له مخرج فخلوا سبيله فإن الإمام أن يخطئ في العفو خير من أن يخطئ في العقوبة . رواه الترمذي۔ترجمہ:جہاں تک ہو سکے مسلمانوں سے حد کو ساقط کرو، اگر کوئی راہ نکلتی ہو تو مجرم کو جانے دو، کیونکہ امام کا معاف کرنے میں خطا کرنا سزا دینے میں خطا کرنےسے بہتر ہے۔(رقم الحدیث: 3536مشکوۃ شریف)

    اسی مفہوم کی ایک اور حدیث ہے جسے فقہائے کرام نے فوجداری مقدمات میں قاعدہ کے طور پر مقرر فرمایاہے : عن ابن عباس قال :قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :اِدَرَءُوُا الحُدُود َ بِالشُّبـُهَات۔ترجمہ: شبہات کی وجہ سےحدود ساقط کر دیاکر و۔ ( مسند ا مام اعظم ، كتاب الحدود، ص93)

    ایک عورت جس کے بدکار ہونے کے بارے میں واضح قرائن موجود تھے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نےاس پر حد نہیں لگائی بلکہ اس کے متعلق فرمایا :لو کنت راجمًا اَحَدًا بغیر بینۃٍ لرجمت فلانۃً فقد ظھر فیھا الریبۃ فِی منطقھا وھئیتھا ومن یدخل علیھا ۔ترجمہ:اگر میں گواہوں کے بغیر کسی کو رجم کر سکتا تو فلاں عورت کو ضرور رجم کر دیتا کیونکہ اس کی باتوں سے‘ اس کی ہیئت سے اور جن لوگوں کی اس کے پاس آمدورفت ہے‘ ان تمام باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ زانیہ ہے۔(ابن ماجہ‘ السنن‘ ابواب الحدود،رقم الحدیث 2559)

    الشیخ وحبہ الزحیلی لکھتے ہیں: ولا یحکم عند جمهور الفقهاء بالقرائن فی الحدود لانها تدرا بالشبهات ولا فی القصاص۔ ترجمہ: جمہور فقہاء کے نزدیک حدود اور قصاص میں قرائن کے ذریعے حکم نہیں لگایا جائے گا کیونکہ حدود شبہات سے ساقط ہو جاتے ہیں۔(الفقہ الاسلامی وادلتہ،جلد 06:صفحہ 645)

    کسی شخص کے منہ سے شراب کی بدبو کے باعث حد جاری نہیں ہو گی کے متعلق علامہ شامی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں: لِاحْتِمَالِ أَنَّهُ شَرِبَهَا مُكْرَهًا أَوْ مُضْطَرًّا فَلَا يَجِبُ الْحَدُّ بِالشَّكِّ، وَأَشَارَ إلَى أَنَّهُ لَوْ وُجِدَ سَكْرَانُ لَا يُحَدُّ مِنْ غَيْرِ إقْرَارٍ وَلَا بَيِّنَةٍ لِاحْتِمَالِ مَا ذَكَرْنَا أَوْ أَنَّهُ سَكِرَ مِنْ الْمُبَاحِ بَحْرٌ، لَكِنَّهُ يُعَزَّرُ بِمُجَرَّدِ الرِّيحِ أَوْ السُّكْرِ كَمَا فِي الْقُهُسْتَانِيِّ ۔ترجمہ:اس احتمال کی وجہ سے کہ اس نے کہیں جبری یا اضطرار ی طور پر پیا ہو تو شک کی وجہ سے حد لازم نہیں ہو گی اور مصنف نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اگرنشے کی حالت میں پایا گیا تو اقراراور گواہوں کی بغیر حد جاری نہیں ہو گی مذکورہ احتمال کی بنیاد پر۔صاحب نے یہ بھی احتمال ذکر کیا کہ ہے کہ مباح چیز کھانے سے نشہ ہو گیا ہو لیکن فقظ شراب کی بو یا نشہ کی وجہ سے تعزیر تو جاری ہو گی جیساکہ قہستانی میں ہے ۔(رد المحتار ،باب حد الشرب المحرم جلد 4 صفحہ 40 دار الفکر بیروت )

    علامہ شامی نے "مسئلہ قتل میں" قرینہ قاطعہ کے تحقق کی مثال دیتے ہوئے جو الفاظ تحریر فرمائے وہ ملاحظہ ہوں : فَإِنَّهُ يُؤْخَذُ بِهِ۔ترجمہ:پس اسے پکڑا جائے گا ۔ ۔(رد المحتار،کتاب القضاء جلد5 صفحہ ،354،دار الفکر بیروت) یہ عبارت صراحتاً قرینہ قاطعہ کے قصاص میں مؤثر نہ ہونے پر دلالت کرتی ہے۔

    قطعِ اشکال

    وہ احادیث و آثار جن میں قرائن قاطعہ کی بنیاد پر سزائیں دی گئیں اولاً وہ حد کے طور پر نہیں تھیں ۔ثانیاً جہاں کہیں حد کے طور پر تھیں تو وہاں پر قرائن کی حیثیت ثانوی تھی کہ ان مقامات کا جائزہ لیا جائے تو طرقِ ثلاثہ (اقرار،شہادت،نکول )میں سے کوئی ایک کارفرما نظر آئے گا۔

    معاصر عالم شیخ محمد الزحيلي قرائن قاطعہ کے فوجداری مقدمات میں مؤثر نہ ہونے کی وجوہات لکھتے ہیں : "ولعل السبب في عدم تصريح الفقهاء بالقرائن هو الاحتياط والتحرُّز، وسد الذرائع، لأن استعمال القرائن يحتاج إلى صفاء الذهن، وحدة الفكر، ورجحان العقل، وزيادة التقوى والصلاح والإخلاص، وإلا انحرَف بها صاحبها، وأصبحت أداة للظلم، ووسيلة للاضطهاد والتعسف"۔ یعنی شاید فقہاء کے قرائن کو صراحت سے دلیل کے طور پر بیان نہ کرنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ احتیاط، بچاؤ اور سدّ ذرائع کو ملحوظ رکھتے تھے، کیونکہ قرائن کا استعمال ایک صاف ذہن، گہری فکری بصیرت، راجح عقل، بڑھتی ہوئی تقویٰ، صلاح اور اخلاص کا متقاضی ہوتا ہے۔ بصورتِ دیگر، اگر یہ شرائط نہ ہوں تو قرائن کا استعمال کرنے والا راہِ راست سے ہٹ سکتا ہے، اور یہی قرائن ظلم کا ہتھیار، اور زیادتی و استبداد کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔

    قرینہ قاطعہ کی تعزیرات میں تاثیر

    قرینہ قاطعہ کے تعزیرات میں مؤثر ہونے میں کوئی اختلاف نہیں تمام فقہاء اس بات پر متفق ہیں کہ قاضی قرینہ قاطعہ کی بنیاد پر دیوانی مقدمات میں سزا دے سکتا ہے ۔

    علامہ زین الدین ابن نجيم المصری الحنفي فرماتے ہیں : "من جملة طرق القضاء القرائن الدالة على ما يطلب الحكم به دلالة واضحة بحيث تصيره في حيز المقطوع به۔ترجمہ:قضا کے من جملہ طرق میں سے قرائن قاطعہ بھی ہیں جو کہ مطلوب حکم پر واضح دلالت کرتے ہیں اس طرح کہ معاملہ کو قطعیت تک پہنچا دیتے ہیں ۔( البحر الرائق جلدصفحہ 152)

    خاتمۃ المحققین السید ابن عابدین الشامی علیہ الرحمہ حقول العباد میں طرقِ ثبوت کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں: وَهِيَ إمَّا الْبَيِّنَةُ أَوْ الْإِقْرَارُ أَوْ الْيَمِينُ أَوْ النُّكُولُ عَنْهُ أَوْ الْقَسَامَةُ أَوْ عِلْمُ الْقَاضِي بِمَا يُرِيدُ أَنْ يَحْكُمَ بِهِ أَوْ الْقَرَائِنُ الْوَاضِحَةُ الَّتِي تُصَيِّرُ الْأَمْرَ فِي حَيِّزِ الْمَقْطُوعِ بِهِ۔ترجمہ:(ثبوت کے طریقے یہ ہیں ) گواہ،اقرار،قسم یا قسم سے پھرنا،قسامت،قاضی کو اس چیز کا علم ہونا جس چیز کے حکم کا وہ ارادہ ہے یا وہ قرائن واضحہ جو یقینی حد تک پہنچا دیں (رد المحتار،کتاب القضاء جلد5 صفحہ ،354،دار الفکر بیروت)

    علامہ شامی علیہ الرحمہ قرینہ قاطعہ کی مثال میں لکھتے ہیں: فَقَدْ قَالُوا لَوْ ظَهَرَ إنْسَانٌ مِنْ دَارٍ بِيَدِهِ سِكِّينٌ وَهُوَ مُتَلَوِّثٌ بِالدَّمِ سَرِيعَ الْحَرَكَةِ عَلَيْهِ أَثَرُ الْخَوْفِ فَدَخَلُوا الدَّارَ عَلَى الْفَوْرِ فَوَجَدُوا فِيهَا إنْسَانًا مَذْبُوحًا بِذَلِكَ الْوَقْتِ وَلَمْ يُوجَدْ أَحَدٌ غَيْرَ ذَلِكَ الْخَارِجِ، فَإِنَّهُ يُؤْخَذُ بِهِ وَهُوَ ظَاهِرٌ إذْ لَا يَمْتَرِي أَحَدٌ فِي أَنَّهُ قَاتِلُهُ، وَالْقَوْلُ بِأَنَّهُ ذَبَحَهُ آخَرُ ثُمَّ تَسَوَّرَ الْحَائِطَ أَوْ أَنَّهُ ذَبَحَ نَفْسَهُ احْتِمَالٌ بَعِيدٌ لَا يُلْتَفَتُ إلَيْهِ إذْ لَمْ يَنْشَأْ عَنْ دَلِيلٍ۔ترجمہ:فقہانے کہا کہ:اگر کوئی شخص کسی گھر سے خوف زدہ ہو کر بھاگتا ہوا نکلا اوراس کے ہاتھ میں خون آلود چھری تھی پس لوگ فوراًاس مکان میں داخل ہوئے تو انھوں نے عین اسی وقت ایک شخص کوذبح شدہ حالت میں پایا،اور اس بھاگنے والے کے شخص علاوہ کوئی اور گھر میں موجود نہیں تھا تو(قتل کے سلسلہ میں ) اسی شخص کو پکڑا جائے گا اور یہی ظاہر ہے کیوں کہ کسی کوبھی اس کے قاتل ہونے میں تردد نہیں ہو سکتا۔اور یہ کہنا کہ" کسی دوسرےشخص نے ذبح کیا ہو پھر دیوار پھلانگ کر بھاگ گیا ہو یا مقتول نے خود کشی کی ہو " یہ سب بعید احتمال ہیں جو کہ قابل ِ التفات نہیں کیوں کہ یہ دلیل سے پیدا نہیں ہوئے ۔(رد المحتار،کتاب القضاء جلد5 صفحہ ،354،دار الفکر بیروت)

    امام قرطبی امارات(قرائن )کی بابت لکھتے ہیں: "إعمال الامارات في مسائل كثيرۃ من الفقہ ۔ترجمہ:فقہ کے کثیر مسائل میں قرائن پر عمل ہوا ہے۔( الجامع ألحكام القر آن،جلد 09صفحہ 116)

    فرانزک (foransic)کے بعد ویڈیو کی حیثیت قرینہ قاطعہ کی ہے

    جب ویڈیو استقصائی مراحل سے گزرنے کے بعد قرینہ قاطعہ کی حیثیت اختیار کر جائے گی اس طرح کہ فرانزک رپورٹ میں یہ بات ثابت ہو جائےکہ یہ ویڈیو(real) ہے ،جعلی نہیں۔ اس میں کسی قسم کی تکذیب کاری یا کانٹ چھانٹ (additing) سے کام نہیں لیا گیا تو ویڈیو کی نسبت صاحبِ معاملہ کی طرف حتمی ہو گی لہذا اب اس پر قرینہ قاطعہ کے احکام جاری ہوں گے۔

    خلاصہ ابحاث :

    ثبوت ِ ثلاثہ (اقرار ،شہادت ،نکول ) کی گوں نا گوں ضرورت فوجداری مقدمات میں پیش آتی ہے۔جبکہ دیوانی مقدمات میں ثبوت کے مذکورہ تین امور کے علاوہ بھی طرق ہیں، جن میں سے ایک قرینہ قاطعہ ہے۔اور اس مسئلہ کا تعلق فوجداری مقدمات سے اس وقت بنے گا جب مرتکبِ اہانت معاذ اللہ مسلمان ہو کہ اس ارتکاب کی وجہ سے دائرہ اسلام سے خارج ہو کر مرتد کہلائے گا اور مرتد کی سزا " قتل "حد ہے جس کے ثبوت کے لیےدرج بالا بینہ ثلاثہ کی ضرورت ہو گی ۔اور اگر مرتکب ِ اہانت کا تعلق کسی اور مذہب سے ہو تو پھر اس کو ملنے والی سزا تعزیر کہلائے گی۔اگر اسلامی ریاست میں یہ جرم کوئی مسلمان کرے تو ثبوتِ ثلاثہ میں سے کسی ایک تحقق پر مجرم کو ارتدادی سزا (اپنے حکم کی تفصیل کےساتھ ) دی جائی گی مگر افسوس کہ ملک پاکستان میں نظامِ حدود تعطل کا شکار ہے!!۔ اگر مجرم کے خلاف تینوں ثبوت مفقود ہوں تو پھر قاضی ویڈیو کی ثبوتی تحقیق (ڈیجیٹل فرانزک)آجانے کے بعد اس سے اعتراف جرم لے گا ،اقرار کر لے تو فبھا ورنہ محض اس ویڈیو (قرینہ قاطعہ )کی بنیاد پر تعزیراتی سزا دے گا۔

    اگر مرتکب مسلمان ہو تو یقیناً توبہ کی دعوت دی جائے گی کہ مرتد کے احکام میں سے پہلا حکم اس کو توبہ کی دعوت دینا ہے۔اگر توبہ کر لے تو اس کی توبہ قبول ہو گی لیکن حق تعزیر پھر بھی ساقط نہیں ہو گا ۔اگر کافر کتابی وغیرہ اس جرم سے توبہ کر لے تو اس کی توبہ شرعی نہیں کہلائے گی کہ وہ محلِ توبہ (اسلام)میں نہیں لہذا محض اس زبانی معافی کی بنیاد پر تعزیر ساقط نہیں ہوگی۔

    واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب

    کتبــــــــــــــــــــــــــہ:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:صفر المظفر30ھ/16ستمبر2023 ھ