bete ka baap par hath uthane ka hukm
سوال
کسی وجہ سے بیٹا اگر باپ پر ہاتھ اٹھائے اور اس سے بدتمیزی کرے اور اسے پولیس اسٹیشن تک لے جائے ۔ ایسے بیٹے کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟
سائل:آصف شیخ: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
والد کی نافرمانی کرنے والا ، ان پر ہاتھ اٹھانے والا ، سخت کبیرہ گناہ کا مرتکب ، فاسق و فاجر، سخت عذابِ الٰہی کا مستحق ہے، جب تک اپنےوالد کو راضی نہ کرلے ، اس کا کوئی فرض ، نفل بلکہ کوئی بھی نیک عمل قبول نہیں اورمعاذ اللہ مرتے قت کلمہ نصیب نہ ہونے کا خوف ہے۔ ایسے شخص پر لازم ہے کہ فوراً اپنے والد کو راضی کرے، ورنہ دنیا و آخرت میں غضبِ الٰہی کے لئے تیار رہے ۔ شریعت کے مطابق کسی معاملہ میں والد اگر چہ بظاہر غلطی پر ہو لیکن اسکے باوجود اولاد کا والد سے برا سلوک کرنا منع ہے۔والدین کی نافرمانی درحقیقت اللہ کی نافرمانی ہے۔والدین کی نافرمانی حرام اور اکبر الکبائر گناہوں میں شمار ہوتی ہے،اورحدیث پاک میں اللہ تعالی نے اس کو شرک کے بعد سب سے بڑا گناہ قرار دیا ہے۔
بلکہ قرآن مجید میں والدین کو اُف تک کہنے سے منع کیا گیا ہے۔وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوْٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا ۭ اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلٰـهُمَا فَلَا تَـقُلْ لَّهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْهَرْهُمَا وَقُلْ لَّهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا ۔ترجمہ: اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں , تو ان سے ہُوں(اُف تک)نہ کہنا اور انہیں نہ جھڑکنا اور ان سے تعظیم کی بات کہنا۔ (سورہ اسراء آیت :23)
مذکورہ آیت کریمہ میں اللہ تعالٰی نے جہاں اپنی عبادت کا حکم دیا اسی کے ساتھ یہ بھی ذکر فرمایا کے والدین کے ساتھ حُسن سلوک کرو اور اُن کو اُف تک بھی نہ کہو، والدین کی عزت و احترام دینی ودنیاوی بہتری کا سبب ہوتی ہے خوش نصیب ہیں وہ لوگ جن کے سروں پر والدین کا سایہ ہے اور سعادت مند ہے وہ اولاد جو ہر حال میں اپنے والدین بالخصوص والد کے ساتھ حُسن سلوک رکھتی ہے اور اُن کا احترام کرتی ہے۔
حدیث پاک میں اللہ کے ساتھ شرک کرنے کے بعد سب سے بڑا گناہ والدین کی نافرمانی قرار دیا گیا ہے۔
چناچہ بخاری شریف میں ہے:عن عبد الرحمن بن أبي بکرة عن أبيه قال قال رسول الله صلی الله عليه وسلم ألا أخبرکم بأکبر الکبائر قالوا بلی يا رسول الله قال الإشراک بالله وعقوق الوالدين۔ترجمہ:عبدالرحمن بن ابی بکرہ ابی بکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا میں تم کو سب سے بڑے گناہ نہ بتلا دوں، لوگوں نے عرض کیا، کیوں نہیں یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا، اللہ کا شریک ٹھہرانا اور والدین کی نافرمانی کرنا۔( بخاری شریف ،حدیث نمبر 2654)
لیکن والد کو بھی چاہئے کے وہ بھی اولادکے ساتھ اچھا سلوک رکھے،اور ایسی باتیں کرنے کو نہ کہیں جو ان کے بس اور اختیارمیں نہ ہوں یا یہ کہ وہ شریعت کے خلاف ہو۔والدین آخر بڑے ہیں اور ان کی حٰیثیت حاکم کی ہے اولاد سے سنجیدگی اور تدبر سے کام لیا کریں۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:19 شوال المکرم 1441 ھ/11 جون 2020 ء