سوال
ہماری میمن جماعت نے زکوۃ فنڈ سے روزگار کے لئے مجھے ایک رکشہ لے کر دیا جوکہ میرے نام پر ہے معلوم یہ کرنا ہے کہ میں یہ رکشہ فروخت کرکے رقم اپنے استعمال میں لے سکتا ہوں ؟یاد رہے کہ میں مستحق تھا اور یہ رکشہ میرے نام پر میری ملکیت میں ہے۔اور جماعت والے رکشہ ملکیت میں کردیتے ہیں۔
سائل:عمران :کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر رکشہ فقیرِ شرعی مستحق زکوۃ کا دیا گیا ہے تو وہ رکشہ اسکی ملکیت میں ہے ،اور شرعا وہ اسکا مالک ہے ،اور اسکو اختیار حاصل ہے کہ اس رکشہ کو بیچ دے ۔اور رقم اپنے ذاتی استعمال میں لے لے۔لأن سبب الملك قد تحقق وهو الأخذ والقبضۃ۔ترجمہ:کیونکہ ملکیت کا سبب متحقق ہوگیا اور وہ لینا اور قبضہ ہے۔(بدائع الصنائع، جلد 7 ص 123)
البنایہ شرح الہدایہ میں ہے:وجوه سبب الملك من قبول الصدقۃ و الهبة والوصية والإرث والشراء۔ترجمہ:ملکیت کے اسباب ، صدقہ، ھبہ اور وصیت قبول کرنااور خریدنا ،اور وراثت ہیں۔( البنایہ شرح الہدایہ جلد 8ص216 الشاملہ)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:26 شوال المکرم 1442 ھ/07 جون 2021 ء