be wuzu shakhs ka dastane pehan kar ya kapre ke zariye muqaddas auraq wa mushaf ki chhanti karne ka hukm
سوال
مقدس اوراق کو محفوظ طریقے سے تلف کرنے کے لیے ان کی چھانٹی اور بوروں میں بھرنے کا کام کیا جاتا ہے۔ اس دوران بعض اوقات ضعیف و بوسیدہ قرآنِ کریم (مصحف)، قرآنی اوراق، احادیثِ مبارکہ اور دیگر مقدس تحریریں بھی ہاتھ میں آتی ہیں۔چونکہ یہ کام مسلسل ہوتا ہے، اس لیے بعض اوقات اس کام میں مصروف افراد باوضو نہیں ہوتے یا کام کے دوران ان کا وضو باقی نہیں رہتا۔
دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا ایسے شخص کے لیے بغیر وضو ضعیف قرآنِ کریم (مصحف) یا قرآنی اوراق کو اٹھانا، الگ کرنا یا بورے میں رکھنا جائز ہے؟اگر براہِ راست ہاتھ لگانے کے بجائے دستانے وغیرہ کے ذریعے یہ کام کیا جائے تو کیا اس کی شرعاً اجازت ہے؟اس سلسلے میں شریعتِ مطہرہ کی رہنمائی کیا ہے؟برائے کرم قرآن و سنت، اقوالِ فقہاء اور معتبر فتاویٰ کی روشنی میں جواب مرحمت فرمائیں۔
سائل: رومی رضا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بے وضو یا بے غسل شخص کا جس طرح بلا حائل قرآن پاک کو چھونا، جائز نہیں، اسی طرح کسی ایسی چیز کے ذریعے چھونا بھی ناجائز وحرام ہے جو اس کے اپنے تابع ہو یا قرآن کے تابع ہو، اور پہنے ہوئے دستانے بھی چونکہ انسان کے اپنے تابع ہوتے ہیں، لہذاپوچھی گئی صورت میں بے وضو شخص کا پہنے ہوئے دستانے سے قرآن پاک کو چھونا شرعاً جائز نہیں۔لیکن اگر ہر بار وضو کرنے میں بہت زیادہ دقت لگے یا کام متاثر ہوسکتا ہو یا پانی کی قلت ہویا وضو خانہ دور ہو تو اپنے پاس صاف کپڑے کے ٹکڑے رکھیں (جیسے رومال) کہ اگر مصحف یا مقدس اواق سامنے آئیں تو انہیں اس پاک اور صاف کپڑے کے ذریعے اٹھائیں یا پکڑیں۔البتہ اس کو عادت نہ بنایا جائے بلکہ باوضو ہوکر ہی کام کیا جائے۔
دلائل و جزئیات:
اللہ تعالی قرآن میں ارشادفرماتاہے:﴿ اِنَّهٗ لَقُرْاٰنٌ كَرِیْمٌۙ(۷۷) فِیْ كِتٰبٍ مَّكْنُوْنٍۙ(۷۸) لَّا یَمَسُّهٗۤ اِلَّا الْمُطَهَّرُوْنَ﴾.ترجمہ: بے شک یہ عزت والاقرآن ہے،محفوظ نوشتہ میں،اسے نہ چھوئیں مگرباوضو۔ (الواقعۃ: 77-79)
الفتاوی الہندیۃ میں ہے: "(ومنها) حرمة مس المصحف لا يجوز لهما وللجنب والمحدث مس المصحف إلا بغلاف متجاف عنه كالخريطة والجلد الغير المشرز لا بما هو متصل به، هو الصحيح. هكذا في الهداية وعليه الفتوى. كذا في الجوهرة النيرة... ولا يجوز لهم مس المصحف بالثياب التي هم لابسوها". ترجمہ: جو کام حیض و نفاس والی عورت پر حرام ہیں ، ان میں قرآن پاک کو چھونے کی حرمت بھی ہے کہ حیض و نفاس والی کے لیے، جنبی اور بے وضو شخص کے لیے قرآن پاک کو چھونا، جائز نہیں، مگر ایسے غلاف کے ساتھ چھونا جائز ہے جو اس سے الگ ہو، جیسے: جُزدان اور ایسی جِلد جو مصحف سے جدا ہو ۔ البتہ اس غلاف کے ساتھ چھونا ،جائز نہیں جو مصحف کے ساتھ جڑا ہوتا ہے، یہی صحیح ہے، ایسا ہی ہدایہ میں ہے، اسی پر فتویٰ ہے ،اسی طرح جوہرہ نیرہ میں ہے۔اور بے وضو والوں کے لیے پہنے ہوئے کپڑوں سے بھی قرآن پاک کو چھونا جائز نہیں۔( الفتاوی الہندیۃ ،کتاب الطھارۃ، الباب السادس، الفصل الرابع، 1/38-39، دار الفکر بیروت)
علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن الہمام (المتوفی:861ھ) فرماتے ہیں: "لا يجوز للجنب والحائض أن يمسا المصحف بكمهما أو ببعض ثيابهما لأن الثياب بمنزلة يديهما". ترجمہ: جنبی اور حائضہ کے لیے قرآن شریف کو آستین سے چھونا یا پہنے ہوئے کپڑوں سے چھونا جائز نہیں، کیونکہ پہنے ہوئے کپڑے ہاتھ سے پکڑنے کے حکم میں ہیں۔( فتح القدیر، كتاب الطہارات، باب الحیض و الاستحاضۃ، 1/169، دار الفکر بیروت)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:”اقول لکنی رایت فی التبیین قال بعد قولہ منع الحدث مس القران ومنع من القرأۃ والمس الجنابۃ والنفاس کالحیض مانصہ ولا یجوز لھم مس المصحف بالثیاب التی یلبسونھا لانھا بمنزلۃ البدن ولھذا لوحلف لایجلس علی الارض فجلس علیھا وثیابہ حائلۃ بینہ وبینھا وھو لابسھا یحنث ولوقام فی الصلاۃ علی النجاسۃ وفی رجلیہ نعلان اوجوربان لاتصح صلاتہ بخلاف المنفصل عنہ“ ترجمہ: میں کہتا ہوں میں نے تبیین میں دیکھا کہ انہوں نے حدث کی بنا پر قرآن کریم کو چھونے اور جنابت و نفاس میں حیض کی طرح ،قرآن کریم کو پڑھنے اور چھونے سے منع فرمایا ، ان کے الفاظ یہ ہیں: ان لوگوں کو پہنے ہوئے کپڑوں کے ساتھ مصحف شریف کو چھونا ، جائز نہیں، کیونکہ یہ کپڑے بدن کے حکم میں ہیں ، اسی وجہ سے اگر کسی نے قسم کھائی کہ زمین پر نہیں بیٹھوں گا،پر پھر لباس پہنے ہوئے زمین پر بیٹھ گیا، تو قسم ٹوٹ جائے گی اور نجاست پر نماز پڑھی ، اس حال میں کہ جوتوں یا جرابوں کو پہنا ہو، تو نماز نہیں ہو گی، برخلاف اس کے کہ یہ چیزیں جدا ہوں‘‘۔(فتاوی رضویہ ،2/96، رضافاؤنڈیشن، لاھور)
صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’بے وضو کو قرآن مجید یا اس کی کسی آیت کا چھونا حرام ہے۔ بے چھوئے زبانی یا دیکھ کر پڑھے ،تو کوئی حرج نہیں... (البتہ)اگر قرآنِ عظیم جزدان میں ہو، تو جزدان پر ہاتھ لگانے میں حرج نہیں، یوہیں رومال وغیرہ کسی ایسے کپڑے سے پکڑنا جو نہ اپنا تابع ہو ،نہ قرآنِ مجید کا تو جائز ہے، کرتے کی آستین، دوپٹے کی آنچل سے یہاں تک کہ چادر کا ایک کونا اس کے مونڈھے(کندھے)پر ہے، دوسرے کونے سے چھونا حرام ہے کہ یہ سب اس کے تابع ہیں، جیسے چولی قرآنِ مجید کے تابع تھی“۔ (بھارِ شریعت، 1/326، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
اشکال: صاحبِ محیط برہانی علامہ برہان الدین محمود بن احمد مازہ الحنفی (المتوفی:616ھ) نے بے وضو یا ناپاکی کی حالت میں قرآنِ کریم کو آستین یا دامن سے چھونے کو جائز قرار دیا ہے۔محیط برہانی کی عبارت یہ ہے: "وأكثر المشايخ على أنه لا يكره؛ لأن المحرم هو المس، وإنه اسم للمباشرة باليد بلا حائل، ألا ترى أن المرأة إذا وقعت في طين وردغة حل للأجنبي أن يأخذ يدها بحائل ثوب، وكذا حرمة المصاهرة لا تثبت بالمس بحائل، وفي باب اليمين المعتبر هو العرف، وفي العرف يعتبر الجالس في ثيابه على الأرض جالساً على الأرض". (المحيط البرهاني ،1/ 77، 1/ 216، 5/321)
جواب: جواز کی یہ روایت نادر الروایہ ہے، جبکہ ظاہر الروایہ عدم جواز ہے۔ اور فتوی ظاہر الروایہ پر دیا جاتا ہے۔
علامہ ابو الحسن علی بن ابو بکر الفرغینانی (المتوفی:593ھ) فرماتے ہیں: "ويكره مسه بالكم هو الصحيح".ترجمہ: اور آستین کے ذریعے قرآنِ کریم کو چھونا مکروہ ہے، یہی صحیح (قول) ہے۔ (الهداية ، كتاب الطهارات، باب المسح على الخفين، 1/33، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
علامہ حسین بن محمد بن حسن السغناقی (المتوفی: 746ھ) فرماتے ہیں: "ولو أخذ المصحف بكمه الأصح أنه لا يجوز".ترجمہ: اور اگر کسی نے قرآنِ کریم کو اپنی آستین کے ذریعے پکڑا، تو اصح (زیادہ صحیح قول) یہ ہے کہ یہ جائز نہیں۔ (خزانة المفتين، كتاب الطهارة، ص: 125)
علامہ شہاب الدین احمد بن محمد الشلبی (المتوفی:1021ھ) فرماتے ہیں: "وروي عن محمد في النوادر أن الجنب لو أخذ المصحف بكمه فلا بأس به".ترجمہ: اور امام محمد سے نوادر میں روایت کیا گیا ہے کہ اگر جنب (بے غسل شخص) قرآنِ مجید کو اپنی آستین کے ذریعے پکڑ لے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (حاشية الشلبي علی تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، كتاب الطهارة، باب الحيض، 1/58، المطبعة الكبرى الأميرية ببولاق)
خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "والخلاف فيه جار في الكم أيضا. ففي المحيط لا يكره عند الجمهور، واختاره في الكافي معللا بأن المس اسم للمباشرة باليد بلا حائل. وفي الهداية أنه يكره هو الصحيح؛ لأنه تابع له، وعزاه في الخلاصة إلى عامة المشايخ، فهو معارض لما في المحيط فكان هو أولى. اهـ. أقول: بل هو ظاهر الرواية كما في الخانية" . ترجمہ: اور (حائل کے بغیر چھونے کا) یہ اختلاف آستین کے ذریعے چھونے میں بھی جاری ہے۔ پس محیط میں ہے کہ جمہور کے نزدیک یہ مکروہ نہیں ہے، اور کافی میں اسی کو اختیار کیا گیا ہے اور اس کی علّت یہ بیان کی گئی ہے کہ مس (چھونا) بغیر کسی حائل کے ہاتھ سے براہِ راست لگے ہونے کا نام ہے۔ جبکہ ہدایہ میں ہے کہ یہ مکروہ ہے اور یہی صحیح ہے؛ کیونکہ آستین انسان کے تابع ہے، اور خلاصہ میں اس قول کو عام مشائخ کی طرف منسوب کیا گیا ہے، پس یہ محیط والی بات کے معارض ہے لہٰذا یہی (ہدایہ والا قول) اولیٰ ہے۔ میں (ابن عابدین) کہتا ہوں: بلکہ یہی (عدمِ جواز و کراہت ہی) ظاہر الروايہ ہے جیسا کہ فتاوى الخانیہ" میں ہے۔ (رد المحتار، كتاب الطهارة، سنن الغصل، 1/174، دار الفكر، بيروت)
ظاہر الروایہ پر فتوی سے متعلق ، خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "أن ما كان من المسائل في الكتب التي رويت عن محمد بن الحسن رواية ظاهرة يفتى به وإن لم يصرحوا بتصحيحه... قال العلامة الطرسوسي في "أنفع الوسائل"في مسألة الكفالة إلى شهر : (إنّ القاضي المقلّد لا يجوز له أن يحكم إلا بما هو ظاهر المذهب لا بالرواية الشاذة إلا أن ينصّوا على أن الفتوى عليها) انتهى".ترجمہ: جو مسائل ان کتب میں ہیں جو حضرت امام محمد بن حسن رحمہ اللہ سے ظاہر الروایۃ کے ساتھ مروی ہیں اگر چہ صراحتا ان کی تصحیح نہ کی گئی ہو ،ان کے مطابق ہی فتوی دیا جائے گا۔ علامہ طرطوسی رحمہ اللہ نے انفع الوسائل میں مسالۃ الکفالۃ الى شہر کے ضمن میں فرمایا کہ قاضی مقلد کے لئے جائز نہیں کہ وہ ظاہر الروایۃ کے علاوہ سے فیصلہ کرے اور روایت شاذہ سے بھی فیصلہ نہ کرے البتہ جب فقہاء کی طرف سے نص ( واضح قول ) ہو کہ اس قول ( ظاہر الروایۃ) کے غیر ) پر فتوی ہے تو اس کے مطابق فیصلہ دے سکتا ہے ۔(شرح عقود رسم المفتی، ص:88،دار النور للتحقیق والتصنیف کراچی)
ظاہر الروایہ اور غیر ظاہر الروایہ کے تعارض سے متعلق امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) لکھتے ہیں:’’دونوں قول قوی و نجیح ہیں اور دونوں طرف جزم و ترجیح اورمختارفقیر قول اخیر کہ اول روایت نوادر ہے اور ثانی مفادظاہرالروایہ "والفتوی متی اختلفت فالمصیر الی ظاھر الروایۃ "(اورجب فتوی مختلف ہو توظاہر الروایہ کی طرف رجوع ہوتاہے)محرر المذہب سیّدنا امام محمد رحمہ اللہ تعالی نے مبسوط میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا ۔"وناھیک بہ حجۃ وقدوۃ " (اس میں وہی مقتدا کافی ہیں) فتح القدیر میں ہے "الیہ اشار فی الاصل" (اسی کی طرف اصل میں اشارہ ہے)‘‘۔ ( فتاوی رضویہ،8/473،رضافاؤنڈیشن،لاہور) ۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:5 صفر المظفر 1448ھ/21 جولائی 2026ء