taleem e quran ki fees ka hukm aur deegar chand masail
سوال
نیو سوسائٹی کے مالک نے ایک ادارے میں مسجد و مدرسہ کے لئے جگہ دی ۔ادارے نے مخیر حضرات کے تعاون سے مسجد و مدرسہ قائم کیا پھر وہ جگہ ایک عالم صاحب کودینی کام کرنے کے لئے دے دی۔اب وہاں مدرسے میں حفظ و ناظرہ اور درس نظامی کی کلاسز لگائی جائیں گی ۔ ابھی مدرسے میں تھوڑے کام کی وجہ عارضی طور پر کلاس مسجد میں لگائی جارہی ہیں۔مفتی صاحب اب سوال یہ ہے کہ
1: کیا فیس لینا جائز ہے؟
2: فیس لینے کی صورت میں کیا مدرسہ مسجد میں لگاسکتے ہیں؟
3: فیس کی رقم سے مدرسے کے اخراجات پورے ہونے کے بعد بچ جانے والی رقم مہتمم لے سکتا ہے یا نہیں؟
4: ایک صاحب نے مجھے ایک لاکھ روپے دیئے صدقہ جاریہ کے کاموں کے لیے کیا میں انکو مدرسے کے اساتذہ کی تنخواہوں میں لگا سکتا ہوں یا نہیں؟
سائل: مولانا یوسف باروی: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
1: فیس لینا جائز ہے،ہمارے متاخرین علماء نے تعلیم قرآن،اسی طرح دیگر امور دین مثلا اذان،امامت،تدریس وغیرہ پر اجرت لینا جائز قرار دیا ہے ۔چناچہ علامہ شامی شرح عقود میں لکھتے ہیں :اتفقت النقول عن ائمۃ الثلاثۃ،ابی حنیفۃ و ابی یوسف ومحمد : ان الاستیجار علی الطاعات باطل لکن جاء من بعدھم من المجتھدین الذین ھم اہل التخریج والترجیح فافتوا بصحتہ علی تعلیم القرآن للضرورۃ ، فانہ کان للمعلمین عطایا من بیت المال وانقطعت فلو لم یصح الاستیجار واخذ الاجرۃ لضاع القرآن وفیہ ضیاع الدین لاحتیاج المسلمین الی الاکتساب ، وافتی من بعدھم ایضا من امثالھم بصحتہ علی الاذان، والامامۃ ، لانھما من شعائر الدین فصحوا الاستیجار علیھما للضرورۃ ایضا۔ترجمہ : ہمارے ائمہ ثلاثہ امام اعظم، امام ابو یوسف ،امام محمد سے منقول ہے کہ عبادات پر اجارہ باطل ہے ۔ لیکن ان کے بعد جو مجتہدین آئے جوکہ اصحاب تخریج و ترجیح تھے انہوں نے ضرورت کی بناء پر تعلیم قرآن پر اجرت کو جائز قرار دیا ، کیونکہ پہلے زمانوں میں معلمین کو بیت المال سے وظائف ملتے تھے جوکہ آج کل نہیں ملتے پس اگر تعلیم قرآن پراجارہ و اجرت لینا جائز نہ ہو تو قرآن کا ضیاع لازم م آئے گا اور اس میں ضیاع دین ہے ، کیونکہ مسلمان کمانے کے محتاج ہونگے ۔ پھر انکے بعد جو لوگ آئے انہوں نے تعلیم قرآن کی مثل مثلا اذان، امامت وغیرہ پر بھی اجارہ صحیح قرار دیا کیونکہ یہ بھی دین کے شعائر ہیں۔ تو انہوں نے ضرورتا اجارہ جائز قرار دیا۔(شرح عقود رسم الفتی، ص 13، 14 مکتبۃ البشرٰی کراچی)
2: اس مسئلہ میں بھی متقدمین سے لے کر ہمارے ماضی قریب کے علماء کا یہ نظریہ رہا ہے کہ مسجد میں تعلیم جائز ہونے کی چند شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ مسجد میں تعلیم بلا اجرت ہو کیونکہ مسجد کی بناء اموردینیہ کے لیے ہے جبکہ اجرت کی وجہ سے معاملہ امردینی نہیں رہتا ۔ چناچہ میرے آقا سیدی اعلٰی حضرت اپنے فتاوٰی میں فرماتے ہیں :معلم بلا اُجرت تعلیم کرے کہ اجرت سے کار دنیا ہوجائے گی۔(فتاوٰی رضویہ ،کتاب الصلوۃ ،جلد 8 ص 117،مکتبۃ المدینہ)
لیکن فی زمانہ جب ہم اپنے گرد و پیش میں نظر دوڑاتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ آج کل کوئی ایسا شخص میسر نہیں کہ جو بلااجرت تعلیم پر راضی ہو بلکہ جو بھی تعلیم دیتا ہے وہ اجرت کا تقاضا ضرور کرتا ہے ، عام ازیں تعلیم مسجد میں دیتا ہو یا کہیں اور مسجد سے علیحدہ۔سو اگر ہم اب بھی اس شرط کو باقی رکھ کر اجرت لے کر مسجد میں تعلیم کو ناجائز قرار دیں تو تعلیم قرآن اور دینی تعلیم غالبا ناپید یا انتہائی قلیل مقدار میں رہ جائے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ آج کے علماء نےضرورت کی بناء پر مسجد میں تعلیم پر اجرت کو جائز قرار دیا ہے کیونکہ شریعت مطہرہ کا قاعدہ ہے الضرورات تبیح المحذارات ترجمہ: ضرورت کی وجہ سے ممنوع چیزیں بھی جائز ٹھہر جاتی ہیں ۔
مزید براں یہ کہ اگر ہم سیدی اعلٰی حضرت کے فتاوٰی میں ہی نظر کریں تو ہمیں آپ ہی کے فتاوٰی سے اسکے جواز کا حکم ملتا ہے ۔ چناچہ آپ ایک سوال کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں :بضرورت معلم باجرت کو اجازت ہے مگر نہ مطلقاً۔ (فتاوٰی رضویہ ،کتاب الصلوۃ ،جلد 8 ص 117،مکتبۃ المدینہ)
خلاصہ یہ ہوا کہ فی زمانہ مسجد میں تعلیم قرآن باجرت جائز ہے۔
3: مدرسہ کی مذکورہ آمدنی کا مصرف مدرسے کے مصالح ومفاد ہے، بنابریں اگر مہتمم مدرسے کے انتظام و انصرام میں اس قدر مصروف ہوتے ہیں کہ اپنے ذاتی کام کے لیے بھی بالکل بھی وقت نہیں ملتاتو مہتمم اپنی اجرت وغیرہ کے عوض چاہےاخراجات کی بمقدار لے سکتا ہے ، چناچہ شامی میں ہے :ثُمَّ مَا هُوَ أَقْرَبُ لِعِمَارَتِهِ كَإِمَامِ مَسْجِدٍ وَمُدَرِّسِ مَدْرَسَةٍ يُعْطَوْنَ بِقَدْرِ كِفَايَتِهِمْ ترجمہ: پھر مسجد و مدرسہ کےفنڈ کا زیادہ حقداروہ ہے جو مسجد کی آبادی کا قریبی( سبب ) ہو جیسے امام مسجد ، مدرسہ کا مدرس انہیں ان کے اخراجات کے مطابق دیا جائے۔ ( الدر المختار مع رد المحتار ،مطلب فی وقف المنقول قصدا ج 4 ص 367)
اسی میں ایک اور مقام پر ہے: وَفِي شَرْحِهَا لِلشُّرُنْبُلَالِيِّ عِنْدَ قَوْلِهِ:وَيَدْخُلُ فِي وَقْفِ الْمَصَالِحِ قَيِّمٌ ... إمَامٌ خَطِيبٌ وَالْمُؤَذِّنُ يَعْبُرُترجمہ: اور وقف کے مصالح میں قیم (متولی،مہتمم ) امام ، خطیب اور مؤذن سب داخل ہیں ۔(تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الوقف مطلب فی قطع الجہات لاجل العمارۃ ج 4ص 371)
4: صدقہ جاریہ کا مصرف ایسے امو رہوتے ہیں جن کو باقی رکھا جائے تاکہ دینے والے کو مستقل طور پر ثواب ملتا رہے اور دینے والا بھی اسی نیت سے دیتا ہے کہ مجھے اسکا لگاتار ثواب ملتا رہے گا ۔ لہذا اگر صدقہ جاریہ کے ایسے مصارف موجود ہیں تو ان مصارف کے علاوہ کہیں اور رقم نہیں لگانی چاہیے کیونکہ شریعت کا قاعدہ ہے المعہود کالمشروط ہے کہ جو چیز معروف و معلوم ہو وہ ایسے ہی ہے گویا اس کی شرط لگادی گئی ہے۔لہذا اب اسی جہت میں خرچ کرنا لازم ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:29 ذوالقعدہ1440 ھ/01 اگست 2019 ء