بالغ بچیان والدین میں سے کس کے پاس رہیں گی۔

    baligh bachiyan walidain mein se kis ke paas rahengi

    تاریخ: 22 اکتوبر، 2026
    مشاہدات: 11
    حوالہ: 1895

    سوال

    میرا نام محمّد اَکرم عطاری ہے۔ میرے پانچ بچے ہیں۔ میری سابقہ بیوی عائشہ بانو بنتِ انیس نے مجھ سے علیحدگی کے بعد ایک دوسرے شخص سے نکاح کرلیا۔ اس نکاح کے تقریباً چار ماہ بعد وہ میری دو بیٹیوں اور دو بیٹوں کو اپنے ساتھ لے گئی۔ بڑی بیٹی کی عمر اکیس سال، دوسری بیٹی کی عمر تقریباً سترہ سال، بڑے بیٹے کی عمر اٹھارہ سال اور چھوٹے بیٹے کی عمر سات سال ہے۔مزید یہ کہ بچوں کی والدہ کے گھر میں غیر مردوں کا آنا جانا ہے، جن میں بعض بدعقیدہ افراد بھی شامل ہیں۔ مجھے اندیشہ ہے کہ اس ماحول کی وجہ سے بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت متاثر ہوگی۔نیز، میری سابقہ بیوی نے میرے گھر کے کاغذات پر بھی قبضہ کر رکھا ہے اور اس کا مطالبہ ہے کہ میں اسے الگ مکان خرید کر دوں۔دریافت طلب امر یہ ہے کہ:

    کیا سابقہ بیوی اپنے دوسرے شخص سے نکاح کے بعد بچوں کو اپنے ساتھ رکھنے کی شرعاً حق دار ہے؟بچوں کی مذکورہ عمروں کے پیشِ نظر ان کی پرورش اور رہائش کا حق کس کو حاصل ہے؟اگر بچوں کی دینی و اخلاقی تربیت متاثر ہونے کا اندیشہ ہو تو اس صورت میں شرعی حکم کیا ہوگا؟کیا سابقہ بیوی کا میرے گھر کے کاغذات اپنے قبضے میں رکھنا اور الگ مکان خرید کر دینے کا مطالبہ کرنا شرعاً درست ہے؟ان تمام امور میں میرے لیے شرعی رہنمائی کیا ہے؟براہِ کرم قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔

    سائل: محمّد اکرم عطاری

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    صورتِ مسئولہ میں، سائل کے بیان کے مطابق، اس کی سابقہ بیوی نے ایسے شخص سے نکاح کیا ہے جو اس کی بیٹیوں کے لیے نامحرم ہے۔ لہٰذا مذکورہ صورت میں بیٹیوں کی پرورش اور نگہداشت کا حق والد کو حاصل ہوگا، اور وہ شادی ہونے تک والد کی تحویل میں رہیں گی۔(کیونکہ اگر میاں و بیوی کے درمیاں طلاق ہوجائے یا کسی اور وجہ سے تفریق ہوجائے، تو بچی کی پرورش کا حق ماں کو نو سال کی عمر تک حاصل ہوتا ہے۔ جب بچی نو سال کی ہو جائے(یعنی:بالغہ ہوجائے) تو والد کو یہ حق حاصل ہوتا ہے کہ وہ ماں سے بچی کو اپنے پاس لے لے۔)

    اسی طرح، سائل کے چھوٹے بیٹے کی عمر سات سال ہے، لہٰذا اس کی تربیت اور نگہداشت کا حق بھی والد کو حاصل ہوگا۔ جبکہ بڑے بیٹے کے متعلق سائل کے بیان کے مطابق، اس کی سابقہ بیوی کے گھر میں بد مذہب افراد کی آمدورفت رہتی ہے۔ لہٰذا بڑے بیٹے کی دینی و اخلاقی تربیت اور عقائد کی حفاظت کے پیشِ نظر، اسے ایسے افراد کی صحبت سے دور رہنا ضروری ہے۔ اس لیے مذکورہ صورتِ حال میں بڑے بیٹے کا والد کے ساتھ رہنا زیادہ مناسب ہے۔( لڑکے کی پرورش کا حق ماں کو سات سال کی عمر تک حاصل ہے، اور سات سال کی عمر کے بعد والد کو حق حاصل ہے کہ وہ ماں سے بچے کو لیکر اپنے پاس رکھے۔)تاہم یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ جب بچےوالدین میں سے کسی ایک کی پرورش میں ہوں تو دوسرے کو ان سے ملنے سے نہیں روکا جائے گا ۔

    جیسا کہ سائل نے بیان کیا ہے کہ اس کی سابقہ بیوی نے گھر کے کاغذات اپنے قبضے میں رکھے ہوئے ہیں اور اب وہ گھر کا مطالبہ بھی کر رہی ہے۔ لہٰذا شرعی حکم یہ ہے کہ اگر مذکورہ گھر سائل کی ملکیت ہے اور اس کی سابقہ بیوی کا اس میں کوئی شرعی حق یا حصہ نہیں ہے، تو اس کے لیے گھر پر حق جتانا اور ناجائز مطالبہ کرنا درست نہیں۔ اسی طرح اس پر لازم ہے کہ گھر کے کاغذات سائل کو واپس کردے اور بلاوجہ اپنے قبضے میں نہ رکھے، کیونکہ کسی دوسرے کے حق کو ناحق روکنا شرعاً ناجائز ہے۔ اس لیے اسے چاہیے کہ جلد از جلد کاغذات واپس کردے، ورنہ اپنے اس ناجائز عمل کی وجہ سے مزید گناہ گار ہوگی۔

    دلائل وجزئیات:

    لڑکے کی عمر سات سال مکمل ہونے تک پرورش کا حق ماں کو حاصل ہوتا ہے، چنانچہ امامِ اہلِ سنَّت ، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال:1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں:حق حضانت لڑکے میں سات اور دختر میں نو برس کی عمر تک رہتا ہے، اس کے بعد عصبہ کے پاس رہے گی، جو عصوبت میں مقدم یہاں بھی مقدم ہے۔(فتاوٰی رضویہ، جلد13،صفحہ402،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

    اور جب لڑکا سات سال کی عمر مکمل کر چکا ہو، تو ماں یا بالترتیب دیگر محارم خواتین کا حقِ حضانت ساقط ہو جاتا ہے اور اب حقِ پرورش باپ کو مل جاتا ہے، چنانچہ”الدرالمختار وردالمحتار“ میں ہے: إن لم يكن للصغير أحد من محارمه النساء بحر، أو كان إلا أنه ساقط الحضانة لأنه كالمعدوم فيقدم الأب ترجمہ:اگر نابالغ کے لیے کوئی محرم خاتون(حاضِنہ) نہ ہو یا ہو مگر اُس کا حقِ حضانت کسی بھی وجہ(مثلاً: عمر مکمل ہونے) سے ساقط ہو چکا ہو، تو اب محارم کا حقِ حضانت کالعدم سمجھا جائے گا اور اب پرورش کے لیے والد کو مقدم کیا جائے گا۔(ردالمحتار مع درمختار، جلد 10،باب الحضانۃ، صفحہ 452 ، مطبوعہ دار الثقافۃ والتراث، دمشق)

    صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال:1367ھ/1947ء) نے لکھا: اگر کوئی عورت پرورش کرنے والی نہ ہویاہو مگر اس کاحق ساقط ہو،توعصبات بترتیبِ اِرث یعنی باپ پھردادا۔۔۔الخ (بھار شریعت، جلد02، صفحہ254، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ)

    بچے کی پرورش کو 7 سال کی عمر تک خاص کرنے کی وجہ کے متعلق ”بحر الرائق“ میں ہے: أن الصغير إذا بلغ السبع يهتدي بنفسه إلى الأكل والشرب واللبس والاستنجاء وحده فلا حاجة إلى الحضانة ترجمہ:چھوٹا بچہ جب سات سال کی عمر کو پہنچتا ہے، تو وہ خود ہی کھانے، پینے، پہننے اور قضائے حاجت کے معاملات سمجھ چکا ہوتا ہے، لہذا اب اُسے اِن معاملات میں پرورش کی حاجت نہیں۔(بحر الرائق، جلد4، کتاب الطلاق، باب الحضانۃ، صفحہ287، مطبوعہ کوئٹہ )

    اب اُس کی عمر اخلاقی رویوں اور اُمورِ معاشرت کو سمجھنے اوراُن کی اِصلاح کرنے کی ہے، جس کے لیے والد زیادہ سازگار ہے، چنانچہ صاحبِ ترجیح علامہ مَرْغِینانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال:593ھ/1196ء) نے لکھا: وجهه أنه اذا استغنى يحتاج الى التأدب والتخلق بآداب الرجال وأخلاقھم والأب أقدر على التأديب والتثقيف ترجمہ : اس کی وجہ یہ ہے کہ جب لڑکا سات سال کی عمر مکمل ہونے پر خاتون کی پرورش کا محتاج نہ رہا، تو اب اُسے تعلیم و تربیت اور مردانہ طور طریقے سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے اور احسن انداز سے تعلیم و تربیت اور مردانہ طور طریقے سکھانے پر زیادہ باپ ہی قادر ہوتا ہے ۔ (الھدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی، جلد02، صفحہ 284، مطبوعۃ دار احیاء التراث العربی، بیروت)

    جب بچہ باپ کے پاس ہو گا، تو ماں کو ملاقات سے روکا نہیں جا سکتا، چنانچہ اس متعلق فتاوی تاتارخانیہ میں مذکور ہے : الولد متی کان عند أحد الأبوین لا یمنع الآخر عن النظر الیہ وعن تعاھدہ ترجمہ: جب اولاد والدین میں سے کسی ایک کے پاس ہو،تو دوسرے کو اولادکودیکھنے اور دیکھ بھال کرنے سے روکا نہیں جا سکتا۔ (الفتاوٰی التاتارخانیۃ، جلد05، صفحہ274،مطبوعہ کوئٹہ )

    ”فتاوٰی رضویہ“ میں اِسی نوعیت کے سوال کے جواب میں ہے: یہ سب مسائل درمختار عامہ کتب میں مصرح ہیں ،مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ بچہ ماں سے بالکل تڑا لیا جائے ، اس سے ملنے تک نہ دیں، یہ حرام اور سخت حرام ہے۔ ”سنن ابن ماجۃ“ میں ابو موسیٰ اشعری رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہ سے ہے ، رسول اﷲ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ فرماتے ہیں: لَعَنَہُ ﷲ مَنْ فَرَّق بین الوالدۃ وولدھا بکر پرلازم ہے کہ اِس حرکت سے توبہ کرے اور بچے کو اس کی ماں سے ملنے دے اور بلاوجہ ایذائے مسلمان کا شدید وبال اپنے سر نہ لے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد13،صفحہ411،مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

    مشکاۃ المصابیح میں ہے:عن سعيد بن زيد قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من أخذ شبراً من الأرض ظلماً؛ فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين ترجمہ: حضرت سعید بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا؛ جس نے ظلم کے طور پر( کسی کی )بالشت بھر زمین لی پس قیامت کے دن اس کوساتوں زمینوں میں سے اتنی زمین کا طوق ڈالا جائے گی۔(مشكاة المصابيح،باب الغصب والعاریة،جلد 01 صفحہ 254: قدیمی)

    عن أنس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من قطع ميراث وارثه قطع الله ميراثه من الجنة يوم القيامة ترجمہ :حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں :رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص اپنے وارث کی میراث کاٹے (یعنی اس کا حصہ نہ دے) تو اللہ تعالیٰ قیامت کے روز جنت سے اس کی میراث کاٹے گا۔(ابن ماجہ ،باب الوصایا، الفصل الثالث ،جلد1صفحہ 266: قدیمی)

    واللہ اعلم بالصواب


    کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــہ: ابو امیر خسروسید باسق رضا

    الجــــــــواب الصــــحــــــیح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    1447 ھ/16 اکتوبر2025ء کو جاری کیا گیا