بکری کا صدقہ افضل ہے یا بکرے کا

    bakri ka sadqa afzal hai ya bakre ka

    تاریخ: 11 جون، 2026
    مشاہدات: 12
    حوالہ: 1426

    سوال

    1:سیلانی ویلفئر انٹرنیشنل ٹرسٹ کے تحت روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں بکرے ذبح کئے جاتے ہیں ۔جس کے لئے ہمارے پاس کال سینٹر ڈپارٹمنٹ ہے جہاں پر لوگ فون کال کے ذریعے بکرے اپنے گھر یا کسی اور جگہ پر منگوا کر بکرے کا صدقہ کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ زیادہ تر ڈونرذ اس بات پر اصرار کرتے ہیں کہ صدقہ کے لئے بکرا ہونا ضروری ہے جبکہ ہم ان کو یہ بتاتے ہیں کہ بکری کا صدقہ کرنا اٖفضل ہے ۔اس بارے میں مفتیانِ کرام کی کیا رائے ہے؟آگاہ فرمائیں۔

    2:دوسرا سوال یہ ہے کہ ہم آن لائن ویب سائٹ کے ذریعے بھی بکرے ذبح کرواتے ہیں جس میں دوسرے ممالک جیسے انگلینڈ ، یو ایس اے،کینیڈا وغیرہ کے مسلمان شامل ہوتے ہیں ۔ اب اس میں مسئلہ یہ ہے کہ بکرا ،بک کرواتے وقت ڈونرکا یہ ذہن ہوتا ہے کہ میں بکرے کا صدقہ کررہا ہوں جبکہ یہاں سیلانی میں بعض اوقات بکرے نہیں ہوتے تو ہم بکری ذبح کروادیتے ہیں جس میں ڈونر کی اجازت نہیں لی جاتی کیونکہ بعض اوقات ہمارے پاس رابطہ وغیرہ کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا ۔کیا ایسا کرنا صحیح ہے یا نہیں ؟ شرعی رہنمائی فرمائیں ۔

    سائل: محمد افتخار،سیلانی کال سینٹر


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    قربانی یا نفلی صدقات میں بکری صدقہ کرنا بکرے سے افضل ہے ،لیکن اگر بکرا خصی ہو اسکا صدقہ بکری کی بنسبت افضل ہے۔یونہی عقیقہ میں لڑکے کے لئے دو بکرے اور لڑکی کے لئے ایک بکری صدقہ کرنا افضل ہے۔چناچہ تنویر الابصار مع الدرالمختار میں ہے:وَالْأُنْثَى مِنْ الْمَعْزِ أَفْضَلُ مِنْ التَّيْسِ إذَا اسْتَوَيَا قِيمَةً، وَالْأُنْثَى مِنْ الْإِبِلِ وَالْبَقَرِ أَفْضَلُ حَاوِيٌّ. وَفِي الْوَهْبَانِيَّةِ أَنَّ الْأُنْثَى أَفْضَلُ مِنْ الذَّكَرِ إذَا اسْتَوَيَا قِيمَةً، وَاَللَّهُ أَعْلَمُ۔ترجمہ:بکری کا صدقہ کرنا بکرے سے افضل ہے جبکہ وہ دونوں قیمت میں برابر ہوں(حاوی) اور وہبانیہ میں ہے کہ بکری کا صدقہ کرنا بکرے سے افضل ہے جبکہ وہ دونوں قیمت میں برابر ہوں۔(تنویرالابصار مع الدرالمختار کتاب الاضحیۃ جلد 6 ص 332)

    یوں ہی درر الحکام شرح غرر الاحکام میں ہے:وَالثَّنِيُّ مِنْ الضَّأْنِ أَفْضَلُ مِنْ جَذَعِهِ وَالْأُنْثَى مِنْ الْإِبِلِ أَفْضَلُ مِنْ الذَّكَرِ وَالْأُنْثَى مِنْ الْبَقَرِ أَفْضَلُ مِنْ الذَّكَرِ إذَا اسْتَوَيَا فِي الْقِيمَةِ وَاللَّحْمِ؛ لِأَنَّ لَحْمَهَا أَطْيَبُ۔ترجمہ:بکری کا صدقہ بکرے سےافضل ہے،اسی طرح اونٹ کے مقابلے میں اونٹنی کا صدقہ افضل ہے،بچھڑے کے مقابلے میں بچھیا کا صدقہ افضل ہے۔جبکہ وہ دونوں قیمت اور گوشت میں برابر ہوں ۔کیونکہ مؤنث کا گوشت زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔(درر الحکام شرح غرر الاحکام باب ما یصح من الاضحیۃ جلد 01 ص 269)

    البتہ بکرا اگر خصی ہو توبکری سےافضل ہے۔چناچہ اسی میں ہے:وَالذَّكَرُ مِنْ الْمَعْزِ أَفْضَلُ، إذَا كَانَ مَوْجُوءًا أَيْ خَصِيًّا وَاسْتَوَيَا ترجمہ:بکری کی بنسبت بکرا صدقہ کرنا افضل ہے ،جبکہ بکرا خصی ہو اور دونوں قیمت کے اعتبار سے برابر ہوں۔(ایضا)

    عقیقہ سے متعلق سیدی اعلٰی حضرت فرماتے ہیں:کم سے کم ایک تو ہے ہی، اور پسر کے لئے دو افضل ہیں۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 20 ص 585،رضا فاؤنڈیشن کراچی)

    2: جانوروں میں مذکر و مونث ایک جنس شمار کیے جاتے ہیں ،کیوں کہ عموما مذکر و مونث کی اغراض ایک ہی ہوتی ہیں۔ لہذا بکرے کی جگہ بکری یا گائے کی جگہ بچھڑا ذبح کردیا تو اس سے کچھ لازم نہیں آئے گا۔تاہم ایسی صورتحال میں ادارہ ڈونر کومعاملہ سے آگاہ کرکے اجازت حاصل کرلے تاکہ کسی بھی طرح کی قباحت سے بچاجا سکے۔

    ردالمحتار مع الدرالمختار میں ہے:الذَّكَرُ وَالْأُنْثَى مِنْ بَنِي آدَمَ جِنْسَانِ لِلتَّفَاوُتِ فِي الْأَغْرَاضِ، وَفِي الْحَيَوَانَاتِ جِنْسٌ وَاحِدٌ لِلتَّقَارُبِ فِيهَا هـ قَالَ فِي الْبَحْرِ وَالْأَصْلُ الْمَذْكُورُ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ هُنَا وَيَجْرِي فِي سَائِرِ الْعُقُودِ۔ ترجمہ:انسانوں میں مذکر و مونث دو الگ الگ جنس ہیں ،کیونکہ انکی اغراض میں تفاوت ہے۔ اور حیوانات میں مذکر و مونث ایک ہی جنس شمار کی جاتی ہے ،کیونکہ ان کی اغراض قریب قریب ہیں ۔بحر میں فرمایا : یہ اصل ہمارے ہاں متفق علیہ ہے اور اسی پر تمام عقود جاری ہوتے ہیں۔(رد المحتار مع الدرالمختار کتاب الاضحیۃ جلد 5 ص 53)

    ہدایہ میں ہے: وفي الحيوانات جنس واحد لقلة التفاوت فيها۔ترجمہ:اور مذکر و مونث حیوانات میں ایک جنس شمار ہوتے ہیں ،کیونکہ ان میں تفاوت انتہائی کم ہے۔(ہدایہ شرح بدایۃ المبتدی، کتاب البیوع ،باب بیع الطریق وھبتہ جلد 3 ص 47)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:21 صفر المظفر1441 ھ/21 اکتوبر2019 ء