بائیکیا کمپنی کا سروس فیس لینا کیسا

    bikeya company ka service fee lena kaisa

    تاریخ: 3 جولائی، 2026
    مشاہدات: 24
    حوالہ: 1555

    سوال

    آج کل بعض کمپنیاں جیسے "بائیکیا" یا دیگر کار و بائیک سروس کمپنیاں ایک موبائل ایپلیکیشن کے ذریعے عوام کو سفری سہولت مہیا کرتی ہیں۔ اس ایپ میں دو طرح کے صارف شامل ہوتے ہیں: ایک وہ لوگ جو ایپ کے ذریعے رائڈ بک کرتے ہیں اور اپنی منزل تک پہنچنے کے لیے سفری سہولت استعمال کرتے ہیں۔دوسرے وہ رائیڈرز (کار یا بائیک والے) جو اس ایپ کے ذریعے کسٹمر حاصل کرتے ہیں اور متعین مقام سے پک کرکے ان کو منزل تک پہنچاتے ہیں۔کمپنی کا اس میں کوئی براہِ راست حصہ نہیں ہوتا، یعنی نہ بائیک یا کار کمپنی کی ملکیت ہوتی ہے، نہ پیٹرول کمپنی فراہم کرتی ہے، اور نہ ہی رائیڈر کمپنی کا ملازم ہوتا ہے۔ کمپنی صرف ایپ کے ذریعے یہ سہولت مہیا کرتی ہے اور اس سروس کو محفوظ بنانے کے لیے رائیڈر اور کسٹمر کے درمیان رابطہ قائم کرتی ہے۔اس کے عوض کمپنی کل کرایہ (Fare) میں سے 20 یا 30 فیصد بطور فیس رکھ لیتی ہے، اور باقی رقم رائیڈر کو دے دی جاتی ہے۔سوال یہ ہے کہ:کیا کمپنی کا اس طرح فیس لینا شرعاً جائز ہے؟اس 20 یا 30 فیصد کی شرعی حیثیت کیا ہوگی؟یہی صورت اگر کار کے معاملے میں ہو تو کیا حکم ہوگا؟

    سائل:منذر علی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بائیکیا کمپنی والوں کا یہ فیس لینا جائز و حلال ہے ، کیونکہ کمپنی والے ایپ کے ذریعے رائیڈر اور کسٹمر دونوں کو سہولت دیتے ہیں جس کے ذریعے رائیڈر کے لئے کسٹمر اور اسکی لوکیشن تک رسائی ممکن ہوتی ہے، اور کسٹمر باآسانی سواری حاصل کرکے مقامِ مقصود تک پہنچ جاتے ہیں۔ اور اس عمل کے لئے کمپنی کی سروسز واضح ہیں کہ کسٹمر اور رائیڈر کو جوڑنا، سفر کو محفوظ بنانا، اور آن لائن بکنگ و لوکیشن سروس فراہم کرنا ، بلاشبہ یہ تمام جائز امور ہیں اور جائز امور پر اجرت جائز ہے۔ اس صورت میں کمپنی کی حیثیت دلال یا کمیشن ایجنٹ کی ہے، جس طرح رئیل اسٹیٹ والےگھروں کی خرید و فروخت پر براکری یا کمیشن کے طور پر کام کرکے اجرت حاصل کرتے ہیں۔

    چناچہ بخاری شریف میں ہے :وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: لاَ بَأْسَ أَنْ يَقُولَ: بِعْ هَذَا الثَّوْبَ، فَمَا زَادَ عَلَى كَذَا وَكَذَا، فَهُوَ لَكَ " وَقَالَ ابْنُ سِيرِينَ: " إِذَا قَالَ بِعْهُ بِكَذَا، فَمَا كَانَ مِنْ رِبْحٍ فَهُوَ لَكَ، أَوْ بَيْنِي وَبَيْنَكَ، فَلاَ بَأْسَ بِهِ۔ترجمہ:حضرت عبد اللہ بن عباس نے فرمایا: اس میں حرج نہیں کہ کوئی کسی کو کہے یہ کپڑا اس قیمت پربیچ دو،پھر جو اس سے زائد ہو وہ تمہارا ہے ۔ علامہ ابن سیرین نے فرمایا ایک شخص نے دوسرے سے کہا کہ یہ چیز اتنے میں بیچ دو اور(اس سے زیادہ )جو نفع ملے وہ تمہارا ہے یا ہم دونوں نصف نصف کے حق دار ہوں گے تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے۔(صحیح البخاری کتاب الاجارہ باب اجرۃ السمسرۃ ج 3ص92)

    یوں ہی شامی میں ہے: قَالَ فِي الْبَزَّازِيَّةِ: إجَارَةُ السِّمْسَارِ تَجُوزُ لِمَا كَانَ لِلنَّاسِ بِهِ حَاجَةٌ (ملخصا)ترجمہ: بزازیہ میں فرمایا کہ کمیشن کی فیس جائز ہے کیونکہ لوگوں کی اسکو حاجت ہے۔(رد المحتار علی الدرالمختار باب الاجارہ الفاسدۃ جلد 6ص 47)

    نیز فی زمانہ کمیشن بننا ،بنانا ایک مستقل پیشہ اختیار کرچکا ہے ،گویا اسکو عرف عام کی سی حیثیت حاصل ہوچکی ہے لہذا اسکی اجرت جائز ہے۔علامہ شامی شرح عقود رسم المفتی میں فرماتے ہیں:والعرف فی الشرع لہ اعتبار ۔۔۔۔۔۔۔لذا علیہ الحکم قد یدارترجمہ: شریعت میں عرف کا اعتبار ہے۔۔۔۔۔۔ اسی لیے اس پر حکم کا مدار ہے ۔( شرح عقود رسم المفتی ص 13،البشرٰی)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:12 صفر المظفر 1447ھ/ 07 اگست2025 ء