Baaye ka mushtari ki mutayyan chaandi ke iwaz doosri chaandi dena
سوال
مفتی صاحب میرے گھر میں 24 کیرٹ کی 10 تولہ چاندی راڈ کی صورت میں رکھی ہے، اس کے علاوہ مزید اسی کے جیسی 10 تولہ چاندی کی راڈ میں نے اپنے دوست سے خرید کر اپنے قبضے میں لے کر اسی کو امانت رکھوا دی، دونوں کی کوالٹی وغیرہ ایک جیسی ہے، میں نے اپنے گھر میں رکھی چاندی کا سودا ایک دکاندار سے فون پر کیا، اور اسے کہا کہ وہی چاندی بیچتا ہوں جو آپ سے خریدی تھی، اب میں یہ چاہ رہا ہوں کہ دوست کے پاس رکھی چاندی دکاندار کو دے کر اس کی پیمنٹ دکاندار سے وصول کروں کیا یہ جائز ہے؟ یا گھر میں رکھی چاندی دینا ہی لازم ہے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
بِسْمِ اﷲالرَّحْمٰنِ ا لرَّحِیْمِ
اَلْجَوابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَایَۃَ الْحَقِّ وَالصَّوَاب
آپ نے فون پر فقط ایجاب و قبول کیا لیکنروپوں پر قبضہ کرنے کی کوئی تصریح موجود نہیں اور سوال سے بھی یہ لگتا ہے کہ آپ کو رقم دکاندار کی جانب سے موصول نہیں ہوئی اس لحاظ سے مجلس میں کسی ایک جانب قبضہ نہ ہونے کی وجہ سے یہ بیع منعقد نہیں ہوئی۔
اور تاہم جب آپ چاندی دیں گے یا وہ روپے دے گا تو اس وقت یہ بیع تعاطی کے طور پر منعقد مانی جائے گی اور اخلاقی لحاظ سے وہی چاندی کا راڈ دینا چاہیے ۔
تفصیل:
درج بالا بیع چاندی کی روپوں کے عوض بیع مطلق ہے اور چونکہ عوضین از قبیل دین ہیں عین نہیں سو اس لیے مجلسِ عقد میں کسی ایک پر قبضہ ضروری تھا اور جہاںدین کی دین کے عوض بیع ہو وہاں کسی ایک چیز پر قبضہ ضروری ہوتا ہے ورنہ بیع الکالی بالکالی (ادھار کی ادھار کے عوض بیع)لازم آتی ہے جس سے حدیثمیں منع فرمایا گیا ہے ۔ اگرچہ یہ چاندیعین نہیں دین ہے اور دین متعین کرنے سے بھی متعین نہیں ہوتا سو اگر دونوں راڈیں وزن، معیار اور اوصاف میں یکساں ہوں تو اصولاً ان میں سے کوئی بھی راڈ دیا جاسکتا ہےمگر چونکہ مشتری (دکاندار)نے گفتگو سے جس راڈ کو پہلے محلِ عقد بنایا تھا اب تعاطی میں بھی اس کےپیش نظر وہی راڈ ہے اس لیے بہتر ہے کہ وہی راڈ دیں۔
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ ” أن النبی صلی اللہ علیہ وسلم نھی عن بیع الکالئ بالکالئ“ترجمہ: نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم نےدَین کی دَین کےبدلے بیع سے منع کیا ہے ۔(سنن دارقطنی،کتاب البیوع، جلد4، صفحہ40، مؤسسۃ الرسالہ ، بیروت) (مشکوۃ المصابیح، ج 02، ص 531، مطبوعہ:بیروت)
دین کی دین کے عوض بیع اگر کسی ایک چیز پر مجلس عقد میں قبضہ نہ ہو تو عدم تعین کی وجہ سے بیع باطل جاتی ہے مبسوط سرخسی میں ہے:وإن لم یتقابضا حتی افترقا بطل العقد، لأنہ دین بدین، والدین بالدین لا یکون عقدا بعد الافتراق...... ترجمہ: اور اگر اس مسئلے میں دونوں طرف سے قبضہ نہ ہوا یہاں تک کہ وہ دونوں جدا ہوگئے، تو یہ عقد باطل ہو جائے گا ،کیونکہ یہ دَین کی دَین کے عوض (بیع )ہے اوردَین کے بدلے میں دَین (کی بیع )جدائی کے بعد عقد نہیں رہتی ۔(مبسوط للسرخسی، جلد14،صفحه 24-25، دار المعرفہ، بیروت)
در مختار میں ہے: " فلو تفرقا قبل قبضھا بطل لانہ افتراق عن دین بزازیۃ" پس اگر وہ دونوں ان درھموں پر قبضہ سے پہلے جدا ہوگئے تو خریداری باطل ہو جائے گی کیونکہ یہ قرض سے افتراق ہے (بزایہ) ۔" (در مختار مع رد المحتار، ج 07، ص 411 تا 412، مطبوعہ: کوئٹہ)
امام اہلسنت علیہ الرحمہ فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ روپیہ کے سترہ آنے یا ساڑے سولہ آنے ٹھہرا کر دو چار روز میں لینا کیسا ہے ؟
جواباً فرماتے ہیں :اگر روپیہ سترہ آنے یا سولہ آنے کا برضائے مشتری بیچا ور قیمت چار دن یا دو دن یا دس برس بعد دینی ٹھہری تو یہ جائز ہے جبکہ روپیہ اسی جلسہ میں دے دیا گیا ورنہ بیع باطل ہوجائے گی، لکونہ افتراقا عن دین بدین ویکفی قبض احدالجانبین کما حققناہ فی کفل الفقیہ۔کیونکہ افتراق ہے دین سے دین کے بدلے میں اور ایک جانب سے قبضہ کا پایا جانا کافی ہے جیساکہ اس کی تحقیق ہم نے کفل الفقیہ میںکردی ہے۔(فتاوی رضویہ جلد:17،صفحہ352۔رضا فاؤنڈیشن لاہور )
مختصر القدوری میں ہے:وَالدَّرَاهِمُ وَالدَّنَانِيرُ لَا يَتَعَيَّنَانِ فِي الْعَقْدِ إِلَّا فِي الْيَمِينِ۔ترجمہ: اور درہم و دینار (جو کہ ثمن اور دیون کی اصل ہیں) عقد میں متعین کرنے سے متعین نہیں ہوتے، سوائے قسم کے مسائل کے (کہ وہاں تعیین معتبر ہوتی ہے۔(مختصر القدوری (مشمولہ الحاوی القدسی)، کتاب البیوع، جلد: ۲، صفحہ: ۷، ناشر: دار الکتب العلمیہ)
کنز الدقائق میں ہے:لَا تَتَعَيَّنُ بِالتَّعْيِينِ لِكَوْنِهِمَا أَثْمَانًا۔ ترجمہ: نقود متعین کرنے سے متعین نہیں ہوتے کیونکہ وہ اثمان ہیں۔(کنز الدقائق، کتاب البیوع، باب الصرف، صفحہ: ۲۲۸، ناشر: دار الکتب العلمیہ۔)
اس بارے میں، علامہ علاء الدین سمرقندی (متوفی ۵۳۹ ھ) فرماتے ہیں: "إنَّ الْمَبِيعَ فِي الْأَصْلِ مَا يَتَعَيَّنُ بِالتَّعْيِينِ وَالثَّمَنَ فِي الْأَصْلِ مَا لَا يَتَعَيَّنُ بِالتَّعْيِينِ... لَكِنَّ الثَّمَنَ الْمُطْلَقَ هُوَ الدَّرَاهِمُ وَالدَّنَانِيرُ . وَإِنَّمَا لَا يَتَعَيَّنَانِ فِي عُقُودِ الْمُعَاوَضَاتِ فِي حَقِّ الِاسْتِحْقَاقِ وَإِنْ عُيِّنَتْ... حَتَّى لَوْ أَرَادَ الْمُشْتَرِي أَنْ يَمْنَعَهَا وَيَرُدَّ غَيْرَهَا لَهُ ذَلِكَترجمہ: مبیع اصل میں وہ ہے جو متعین کرنے سے متعین ہو جائے، جبکہ ثمن (دین) اصل میں وہ ہے جو متعین کرنے سے متعین نہ ہو۔ لیکن ثمنِ مطلق درہم اور دینار ہیں، اور یہ دونوں معاوضات کے عقود میں استحقاق کے حق میں متعین نہیں ہوتے اگرچہ انہیں متعین کر دیا گیا ہو یہاں تک کہ اگر مشتری ان مخصوص سکوں کو دینے سے منع کر دے اور ان کے علاوہ دوسرے (اسی جنس کے) دینا چاہے تو اسے یہ حق حاصل ہے(تحفۃ الفقہاء، کتاب البیوع، بیان حکم البیع، جلد: 02، صفحہ: 142 تا143، ناشر: دار الکتب العلمیہ)واللہ اعلم بالصواب کتبـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــہ
محمدیونس انس القادری
الجـــــواب صحــــیـح
ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
05صفر المظفر 1447ھ/21جولائی 2026ھ