aulad ko baap se na milne dena kaisa
سوال
السلام علیکم مفتی صاحب
میرا سوال یہ ہے کہ میں نے اپنی بیوی کو میں طلاق دے دی تھی اس وقت میری ایک بیٹی تھی جو صرف ماہ 10کی تھی اور اب وہ 12سال کی ہے ، لیکن میری بیوی اور اسکے رشتہ دار مجھے اس سے ملنے نہیں دیتے ، اس وقت کچھ لوگ ضامن بنے تھے کہ تم خرچہ دیا کرو اور اپنی بیٹی سے مل بھی لیا کرو میں خرچہ دیتا رہا لیکن اب وہ ضمانتی لوگ ضمانت سے انکار کر رہے ہیں اور اپنا کیا ہوا وعدہ پورا نہیں کررہے برائے کرم مجھے بتائیں کہ میں کیا کروں۔ اور ان پر اس کا کیا گناہ ہوگا۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
طلاق یا فرقت کے بعد لڑکے کی عمر سات سال ہونے تک اور لڑکی کے نو سال کی ہونے تک ماں پرورش کی زیادہ حقدار ہے،اسکے بعد پرورش کا حق باپ کا ہے، اور باپ پر انکی پرورش کا خرچہ لازم ہوگا ،صورت مذکورہ میں بچی کو والدسے نہ ملنے دینا ظلم ،نا انصافی اور قطع رحمی ہے اس سے احتراز لازم ہے۔اور قطع رحمی از خود کبیرہ گناہوں میں سے ہے ۔
ارشاد باری تعالیٰ ہےوَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا:ترجمۂ کنز الایمان :اوراللہ سے ڈرو جس کے نام پر مانگتے ہو اور رشتوں کا لحاظ رکھو بے شک اللہ ہر وقت تمہیں دیکھ رہا ہے ۔
یعنی رشتوں کو توڑنے سے بچواورارشاد فرماتا ہے:فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ (22) أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْترجمۂ کنز الایمان :تو کیا تمہارے یہ لچّھن(انداز) نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی اور انہیں حق سے بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں ۔
یونہی احادیث پاک میں اسکی مذمت آئی ہے صحیح مسلم ،کتاب البروالصلۃ ،باب صلۃ الرحم وتحریم قطیعتھا ،الحدیث:۶۵۱۸،ص۱۱۲۶۔ میں ہے ۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّ اللهَ خَلَقَ الْخَلْقَ حَتَّى إِذَا فَرَغَ مِنْهُمْ قَامَتِ الرَّحِمُ، فَقَالَتْ: هَذَا مَقَامُ الْعَائِذِ مِنَ الْقَطِيعَةِ، قَالَ: نَعَمْ، أَمَا تَرْضَيْنَ أَنْ أَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ، وَأَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ؟ قَالَتْ: بَلَى، قَالَ: فَذَاكِ لَكِ " ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اقْرَءُوا إِنْ شِئْتُمْ: {فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ، أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ، أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَى قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا} [محمد: 23]
حضرت سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلَّی اللہ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسلم نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ جب مخلوق کو پیدا فرما چکا تو رحم (یعنی رشتہ داری) نے کھڑے ہو کر عرض کی: ’’(اے اللہ)یہ (میرا) کھڑا ہونا تجھ سے قطع رحمی سے پناہ مانگنے کا سبب ہے۔‘‘ تو اللہ عَزَّوَجَلَّ نے ارشادفرمایا:’’کیا تو اس سے راضی نہیں کہ جو تجھ سے تعلق جوڑے گا میں اس سے جوڑوں گا اور جو تجھ سے توڑے گامیں اس سے توڑوں گا؟ اس نے عرض کی: ہاں کیوں نہیں ، میں راضی ہوں۔‘‘اللہ تعالیٰ َنے ارشاد فرمایا: تیرے لئے ہے۔پھرآپ صلَّی اللہ عَلَیہِ وَاٰلِہٖ وَسلم نے ارشاد فرمایا:اگر تم چاہو تو یہ آیت ِکریمہ پڑھ لو فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ (22) أُولَئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَى أَبْصَارَهُمْ ترجمۂ کنز الایمان :تو کیا تمہارے یہ لچّھن (انداز) نظر آتے ہیں کہ اگر تمہیں حکومت ملے تو زمین میں فساد پھیلاؤ اور اپنے رشتے کاٹ دو یہ ہیں وہ لوگ جن پر اللہ نے لعنت کی اور انہیں حق سے بہرا کردیا اور ان کی آنکھیں پھوڑ دیں ۔
اور جن لوگ اس سلسلہ میں ضمانتی بنے تھے ان پر بھی اس ضمانت کے تقاضوں کو پورا کرنا لازم ہے ، کہ یہ ایک طرح کا وعدہ ہے اور وعدہ پورا کرنا از روئے شرع کے لازم ہے ۔
چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:وَأَوْفُواْ بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْؤُولاً (بنی اسرائيل، 17: 34):ترجمہ: عہد کو پورا کرو، کیوں کہ قیامت کے دن عہد کے بارے میں انسان جواب دہ ہو گا۔
قرآن نے مؤمنین کی علامت اس طرح بیان کی۔ ارشاد فرمایا:وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَانَاتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رَاعُونَ (مومنون، 23: 8 ):ترجمہ: اور جو لوگ اپنی امانتوں اور اپنے وعدوں کی پاسداری کرنے والے ہیں۔
سورئہ صف میں کچھ اس طرح سخت انداز میں ارشاد:
یَااَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْ الِمُ تَقُوْلُوْنَ مَا لَا تَفْعَلُوْنَ کَبُرَ مَقْتًا عِنَدْاللہِ اَنْ تَقُوْلُوْامَالَا تَفْعَلُوْنَ (الصف آیت 7):اے ایمان لانے والو! تم ایسی باتیں کیوں کہاکرتے ہو جن کے کرنے کا تمہیں ارادہ نہیں ہوتا، خدا کے نزدیک یہ بڑے غضب کی با ت ہے کہ تم ایسی بات کہو جس پر عمل نہ کرو!
اس آیت شریفہ کی تفسیر میں حضرت امام جعفر صادق سے مروی ہے کہ آپ نے فرمایا:عِدَةُ الْمُوٴْمِنِ اَخاَہُ نَذْرُ لَہُ فَمَنْ اَخْلَفَ فبِخُلْفِ اللہِ بَدَءَ وَلِمُقْتِہ تَعَرَّضَ:مومن کا اپنے مومن بھائی سے وعدہ ایک ایسی نذر ہے جس کا کوئی کفارہ تو نہیں ہے لیکن جو شخص وعدہ خلافی کرتاہے وہ خدا کی مخالفت اور دشمنی کاآغاز کردیتا ہے اور خدا کے غضب کو چھیڑ بیٹھتا ہے۔
یوں ہی احادیث مبارکہ میں اس کو منافقین کی علامت قرار دیا صحيح مسلم،باب بیان خصال المنافق جلد1 ص78 میں ہے:عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّی اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ آيَةُ الْمُنَافِقِ ثَلَاثٌ إِذَا حَدَّثَ کَذَبَ وَإِذَا وَعَدَ أَخْلَفَ وَإِذَا اؤْتُمِنَ خَانَ:حضرت ابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: منافق کی تین علامتیں ہیں جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو خلاف ورزی کرے اور جب اس کے پاس امانت رکھوائی جائے تو اس میں خیانت کرے۔
خلاصہ یہ ہوا کہ آپ اپنی بیٹی سے مل سکتے ہیں بلکہ اگر چاہیں تو اپنی پرورش میں لے سکتے ہیں کیونکہ بالغ ہونے کے بعد پرورش باپ کا حق ہے ۔
بدائع الصنائع فصل فی بیان من لہ الحضانۃ جلد 4ص41میں ہے وأما بیان من لہ الحضانة فالحضانة تکون للنساء في وقت وتکون للرجال في وقت، والأصل فیہا النساء لأنہن أشفق وأرفق وأہدی إلی تربیة الصغار، ثم تصرف إلی الرجال لأنہم علی الحمایة والصیانة وإقامة مصالح الصغار أقدر:ترجمہ: کبھی پرورش کا حق عورت کا ہوتا ہے اور کبھی مرد کا اس میں اصل عورتیں ہیں کیونکہ یہ بچوں کے لئے زیادہ شفیق اور نرم دل اور بچوں کی تربیت کے زیادہ لائق ہیں اسکے بعد مردوں کی طرف حق منتقل ہوجاتا ہے کیونکہ بچوں کی مدد ، دیکھ بھال اور انکے مصالح قائم کرنے میں زیادہ قادر ہوتے ہیں۔
اور جن لوگوں نے ضمانت دی ان پر لازم ہے کہ ضمانت کے تقاضے پورے کریں ۔ اور بات چیت اور صلح صفائی کے ذریعے باپ اور بچی کی ملاقات کی راہ ہموار کریں۔
واللہ اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی