allah ki taraf gali ki nisbat karna
سوال
زید نے دوران گفتگو کہا کہ ''سورہ قلم پڑھو ، لگاؤ رب پہ فتوٰی ، رب نے گالی دی ہے حرامی کہا ہے'' عمر و نے اسے ٹوکا کہ اللہ تعالٰی کی طرف گالی کی نسبت کرنا شانِ الوہیت کے خلاف ہے تو اس نے کہا میرے پاس دلیل ہے اور بطورِ دلیل قرآن کی یہ آیت پڑھی، عتل بعد ذلک زنیم۔ زید کے اس قول کا کیا حکم ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں جواب ارشاد فرمائیں۔
سائل: ابوبکر: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اللہ رب العزت کی جانب نسبت کرکے یہ کہنا کہ '' اس نے گالی دی ہے''ناجائز و، حرام اور مبنی بر کفر جملہ ہے۔ زید سخت بے ادب ، جاہل ، احکام شرع اور عرف سے نابلد ہے اس پر لازم ہے فوراً توبہ و تجدید ایمان کرے، اگر رشتہ ازدواج سے منسلک ہے تو تجدید نکاح بھی لازم یہی حکم بیعتِ شیخ کا بھی ہے ، نیز اگرزید نے علانیہ بات کہی تو توبہ بھی علانیہ کرے۔
متکلمین و معتزلہ میں یہ مسئلہ متفق علیہ رہا ہے کہ اللہ تعالٰی کی جانب افعالِ قبیحہ کی نسبت ہرگز جائز نہیں یہی وجہ ہے کہ معتزلہ نے افعالِ قبیحہ کی تخلیق من اللہ کا ہی انکار کردیا اور کہا کہ انسان اپنے افعالِ قبیحہ کا خودخالق ہے وگرنہ اللہ کی جانب قبیح کی نسبت لازم آئے گی جبکہ متکلمین کے نزدیک افعالِ قبیحہ کی تخلیق قبیح نہیں بلکہ قبیح فعل کا ارتکاب قبیح ہے جسے وہ کسب سے تعبیر کرتے ہیں ۔ سو اللہ کی طرف ایسے قول کی نسبت ایک ایسا امر ہے جو معتزلہ جیسے گمراہ فرقے نے بھی نہ کیا مگر ضرور حصہ زید بنا۔
بلاشبہ عام انسان کے حق میں گالی دینا فعلِ قبیح ہے کہ گالی بدزبانی ہے، گالی دینے والے شخص سے ہر انسان بدظن ہوتا ہے اور حتی الامکان اس سے احتراز برتتا ہے کیونکہ گالی کا معنٰی ہے '' کسی بری صِفت کا دوسرے کی طرف منسوب کرنا جبکہ وہ حقیقت میں نہ ہو '' تو کیونکہ اس پاک رب کے بارے میں یہ کہنا روا ہوگا کہ اس نے گالی دی ہے، لہذا خدائے برحق کے بارے میں یہ ایک ایسا جملہ ہے کہ جس کا کوئی بھی حقیقی معنی شان الوہیت کے مطابق نہیں ہے۔
اللہ کریم کی ذات گالی اور اس جیسی تمام صفاتِ ذمیمہ ہے مبرا ، منزااور پاک ہے، بلکہ خود رسول کریم ﷺ نے ایک عام مومن کے بارے میں یوں ارشاد فرمایا : «ليس المؤمن بالطعان ولا اللعان ولا الفاحش ولا البذيء» ۔ترجمہ: ”مومن طعنہ دینے والا، لعنت کرنے والا، بےحیاءاور بدزبان نہیں ہوتا ہے“۔(ترمذی ، حدیث نمبر: 1977)
بلکہ اللہ کریم کی ذات کے بارے میں محض ایسے الفاظ استعمال کرنا ہی حرام ہے جو مبنی بر ایہام ہوں یعنی جب میں توہین کا وہم ہو تو صورتِ مسئولہ کیونکر جائز ہوسکتی ۔
خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں:"مُجَرَّدُ إيهَامِ الْمَعْنَى الْمُحَالِ كَافٍ فِي الْمَنْعِ عَنْ التَّلَفُّظِ بِهَذَا الْكَلَامِ".ترجمہ :ایسے الفاظ جن کا معنی اللہ کے لیے محال (ناممکن) ہو ان کا صرف وہم، ان کلمات کے تلفظ کی ممانعت کے لئے کافی ہے۔ (ردالمحتار، کتاب الحظر و الاباحۃ، فصل فی البیع،6/395، دار الفکر)
اللہ عزوجل کیلئے ممنوعہ الفاظ استعمال کرنے والے کے متعلق شیخ الاسلام احمدبن محمد بن علی بن حجر ہیتمی الشافعی (المتوفی:974 ھ) فرماتے ہیں: "لو قال: وصلت إلى رتبة خلصت من رقية النفس وعتقت منها فإنه لا يكفر لكنه مبتدع مغرور، وكذا لو قال: أنا أعشق الله أو يعشقني، والعبارة الصحيحة: أحبه ويحبني".ترجمہ:اگر اس نے کہا: میں ایسے مقام پر پہنچ گیا کہ میں غمِ جان سے آزاد ہو گیا، یہ کہنے سے اس کی تکفیر تو نہیں کی جائے گی، لیکن وہ مُبْتَدِع ہے (اور) فریبِ نفس میں مبتلا ہے۔ اسی طرح اگر کہا: ''میں اللہ کا عاشق ہوں یا وہ مجھ سے عشق فرماتا ہے‘‘ (تو مبتدع ہے)، (اللہ تعالیٰ سے اظہارِ محبت کے لیے) صحیح الفاظ یہ ہیں: ''میں اللہ سے محبت کرتا ہوں اور وہ مجھ سے محبت فرماتا ہے۔(اعلام بقواطع الاسلام،ص:204،دار التقوی سوریا)
علامہ سلیمان بن عمر عجیلی شافعی (المتوفی:1204ھ) فرماتے ہیں:"فَلَا يَجُوزُ أَنْ يُقَالَ فِي اللَّهِ تَعَالَى عَاشِقٌ وَلَا مَعْشُوقٌ بَلْ يُعَزَّرُ قَائِلُهُ".ترجمہ:اللہ تعالیٰ کی ذات کو عاشق اور معشوق کہنا جائز نہیں ہے، بلکہ ایساکہنے والے کو سزا دی جائے گی (یعنی یہ ذات باری تعالیٰ کے شایانِ شان نہیں ہے)۔(حاشیۃ الجمل علی شرح المنہج،کتاب الجنائز،فصل فی صلاۃ المیت،2/194،دار الفکر)۔
لزوم و التزام کفر کے متعلق صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’اقوال کفریہ دو قسم کے ہیں (۱) ایک وہ جس میں کسی معنیٔ صحیح کا بھی اِحتِمال (یعنی پہلو) ہو(۲) دوسرے وہ کہ اس میں کوئی ایسے معنیٰ نہیں بنتے جو قائل کو کُفر سے بچاوے ۔ اِس میں اوّل کو لزوم کفر کہا جاتا ہے اور قسم دوم کو التزام کفر۔لزوم کفرکی صورت میں بھی فقہائے کرام نے حکم کفر دیا مگر متکلمین اس سے سکوت کرتے ہیں ۔ اور فرماتے ہیں جب تک التزام کی صورت نہ ہو قائل کو کافر کہنے سے سکوت کیا جائیگا اور احوط(یعنی زیادہ محتاط) یہی مذہب متکلمین ہے‘‘۔(فتاوی امجدیہ ،4/512-513،مکتبہ رضویہ کراچی)
لفظ زنیم سے استدلال:
زید کا اپنے اس قولِ شنیع کے لئے فرمانِ باری تعالٰی عتل بعد ذلک زنیم : سے استدلال کرنا محض باطل وعاطل، فاسد و کاسد ، غلط ،اور تارِ عنکبوت کی مثل کمزور و ضعیف ہے۔کیونکہ یہ آیت کسی طرح گالی پر مشتمل نہیں ہے، جسکی تفصیل یہ ہے کہ یہ آیت ولید بن مغیرہ کے حق میں نازل ہوئی جسکا ترجمہ یہ ہے،وہ دُرُشت خُو اس سب پر طُرّہ یہ کہ اس کی اصل میں خطا ۔ (ترجمہ کنز الایمان)
اس آیت میں اسکے دو عیب بیان کئے گئے ہیں کہ وہ بدخو برے اخلاق والا اور ولد الزنا ہے۔ جب یہ آیت نازل ہوئی تو ولید نے اپنی ماں سے استفسار کیا کہ تو اسکی ماں نے تصدیق کی ہاں۔۔۔! واقعی تم زنا سے پیدا شدہ ہو اپنے باپ کے بجائے ایک چرواہے کی اولاد ہو۔ چناچہ تفسیر مدارک میں ہے: رُوي أنه دخل على أمه وقال إن محمداً وصفني بعشر صفات وجدت تسعاً فيّ فأما الزنيم فلا علم لي به فإن أخبرتني بحقيقته وإلا ضربت عنقك فقالت إن أباك عنين وخفت أن يموت فيصل ماله إلى غير ولده فدعوت راعياً إلى نفسي فأنت من ذلك الراعي۔ ترجمہ: روایت ہے کہ ولید بن مغیرہ نے اپنی ماں سے جا کر کہا : محمد نے میرے بارے میں دس باتیں بیان فرمائی ہیں ،ان میں سے نو کے بارے میں تومیں جانتا ہوں کہ وہ مجھ میں موجود ہیں لیکن ان کی یہ بات کہ میں ناجائز پیداوار ہوں ، اس کا حال مجھے معلوم نہیں ، اب تو مجھے سچ سچ بتادے (کہ اصل حقیقت کیا ہے)ورنہ میں تیری گردن ماردوں گا۔ اِس پر اُس کی ماں نے کہا کہ ’’تیرا باپ نامرد تھا ،ا س لئے مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ جب وہ مرجائے گا تو اس کا مال دوسرے لوگ لے جائیں گے، تو(اس چیز سے بچنے کے لئے ) میں نے ایک چَرواہے کو اپنے پاس بلالیا اورتو اس چرواہے کی اولاد ہے ۔(تفسیر مدارک، جلد 3، ص 520)
امام رازی رحمہ اللہ اس بارے میں لکھتے ہیں جسکاترجمہ یہ ہے :'' زنیم''کے متعلق متعدد اقوال ہیں : فرا نے کہا ہے : یہ وہ شخص ہے جس کے نسب میں تہمت ہو ، وہ اپنے آپ کو کسی قوم کے ساتھ ملائے اور وہ ان میں سے نہ ہو ” زنیم “ اس ولد الزنا کو کہتے ہیں جو خود کو کسی قوم کے ساتھ منسوب کرے اور حقیقت میں وہ اس قوم میں سے نہ ہو، ولید بن مغیرہ قریش کے نسب میں متہم تھا اور ان کی اصل سے نہ تھا، اس کے باپ نے اس کی پیدائش کے اٹھارہ سال بعد دعویٰ کیا تھا کہ وہ اس کا بیٹا ہے اور بعض نے کہا ہے کہ اس کی ماں نے بدکاری کی تھی مگر مشہور نہ تھا حتیٰ کہ یہ آیت نازل ہوئی ، شعبی کا قول ہے کہ ” زنیم “ وہ شخص ہے جو اپنی برائی اور ملامت میں اس طرح مشہور ہے جیسے بکری اپنے لٹکے ہوئے کان کے ساتھ پہچانی جاتی ہے ، حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا :” زنیم “ اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنے گلے میں زائد گوشت ہونے کی وجہ سے مشہور ہوا ، اور مقاتل نے کہا : زنیم “ وہ شخص ہے جس کے کان کی جڑ میں زائد گوشت ہو ۔ (تفسیر کبیر ج 10 ص 605 ، داراحیاء التراث العربی ، بیروت : 1415 ھ)
معلوم ہوا کہ ولید کا ولد الزنا ہونا عینِ حقیقت تھا گالی جب ٹھہرتی کہ جب وہ ولد الزنا نہ ہوتا اور اسے کہا جاتا کیونکہ ابھی گزرا کہ گالی کا معنی ہے '' کسی بری صِفت کا دوسرے کی طرف منسوب کرنا جبکہ وہ حقیقت میں نہ ہو ''۔ اللہ تعالیٰ عالم الغیب و الشہادة ہے, اس نے حقیقت حال کو بیان کیا ہے کیونکہ ولید بن مغیرہ نفس الامر میں ولد الزنا ہے، اسی طرح رسول اللہ ﷺ کو وحی کے ذریعے حقیقت حال سے باخبر کر دیا تھا۔۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:صفر المظفر 1446ھ/ 05 ستمبر 2024 ء