سوال
کیا مسلمان قادیانی کے ساتھ کاروبار کر سکتا ہے؟ کیا اپنی دکان سے قادیانی کو سودا دینا درست ہے؟ اگر کسی شخص کا قادیانی ہونا مشہور ہو، اور دکاندار اس بات سے واقف ہو، پھر بھی لین دین کرے تو کیا حکم ہے ؟ اور اگر واقعی وہ قادیانی ہو مگر دکاندار کو اس کا علم نہ ہو، تو ایسی صورت میں کیا حکم ہے؟ کیا محض کاروبار کی بنیاد پر مسلمان قادیانی کے ساتھ معاملہ کرنے کی وجہ سے کافر ہو جاتا ہے یا نہیں؟ سائل :عبد اللہ
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
رسول اکرم نور مجّسم ،شفیع معظّم ،خاتم النبیّین(صلّی اللہ علیہ و آلہ وسلّم ) کو آخری نبی اور رسول ماننا ضروریات ِدین میں سے ہے۔ جو اس کے خلاف عقیدہ رکھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی نہ مانے وہ دائرہ اسلام سے خارج وکافر اور مرتد ہے۔ اس میں کسی قسم کا کوئی شَک نہیں کہ مرزا قادیانی اپنے آپ کو رسول اللہ اور نبی اللہ کہتا ہے اس کو ماننے والے اس کے معتَقِدین اس جھوٹے ،لعنتی ،خبیث کو نبی اور مُرسَل(العیاذ باللہ ) مانتے ہیں ۔ رسول اکرم ،نور مجّسم، شفعیع معظّم ،خاتم النبیّین ،(صلّی اللہ علیہ وآلہ وسلّم )کے بعد دعو یٰ نبوت بالاجماع کفر ہے اس سے اس گروہ کا مرتد ہونا ثابت ہوا ۔
کفار کی اقسام میں سے سب سے زیادہ بدترین کفّار، مرتدّین ہیں، انکے ساتھ کسی بھی قسم کا معاملہ یا سلوک جو مسلمانوں کے ساتھ کیا جاتا ہے یا دیگر ذمی کفار وغیرہ سے کیا جاتا ہے،اس کی قطعاً کوئی شرعی اجازت نہیں ، جس طرح حرام جانوروں میں سب سے زیادہ سخت حکم خنزیر کا ہے، بالکل اسی طرح کفّار میں سب سے زیادہ سخت حکم مرتدّین ،قادیانیوں،مرازئیوں وغیرہ کا ہے ۔
قادیانیوں، مرزائیوں کا جب مرتد ہونا ثابت ہے تو ان کے ساتھ کاروبار کرنا ،ان کے ہاتھ کوئی چیز بیچنا ،ان سے خریدنا حتّٰی کے ان سے مِلنا جُلنا،بات چیت ،کرنا ،کھانا پینا سب ناجائز و حرام ہیں ۔؛کیونکہ جناب رسول اللہ (صلّی اللہ علیہ و آلہ وسلّم )فرماتے ہیں" ایّاکم وایّاھم "اُن سے دُوربھاگو انہیں اپنے سے دور رکھو۔
اگر دکاندار کو یہ علم ہو کہ سامنے والا شخص قادیانی ہے، اور وہ قادیانیوں کے عقائد و نظریات سے بھی واقف ہو، یعنی یہ بات جانتا ہو کہ قادیانی رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم کو آخری نبی نہیں مانتے، پھر بھی ان کو کافر نہ مانے، تو ایسا شخص خود کافر و مرتد ہے۔ اور اگر دکاندار جانتا ہے کہ یہ شخص قادیانی ہے اور قادیانیوں کو کافر بھی مانتا ہے، لیکن پھر بھی کسی ذاتی مفاد یا دنیاوی منفعت کی خاطر اس سے خرید و فروخت یا دیگر لین دین کے معاملات رکھتا ہے، تو وہ سخت گناہ گار ہے۔ اور اگر دکاندار کو علم ہی نہ ہو کہ جس سے معاملہ کر رہا ہے وہ قادیانی ہے یا نہیں، تو ایسی صورت میں وہ گناہ گار نہیں؛ کیونکہ اسے معلوم ہی نہیں۔ تاہم اگر بعد میں اس کو علم ہو جائے یا شک پیدا ہو جائے، تو پھر ایسے شخص سے معاملات سے باز رہنا واجب ہے۔
دلائل و جزئیات:
بے دینوں اور بد مذہبوں کے ساتھ نہ بیٹھوں اس بارے اللہ تبارک و تعالٰی کا فرمان مبارک ہے:"وَ لَا تَرْكَنُوْۤا اِلَى الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا فَتَمَسَّكُمُ النَّارُۙ-وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ اَوْلِیَآءَ ثُمَّ لَا تُنْصَرُوْنَ. ترجمہ: اور ظالموں کی طرف نہ جھکو کہ تمہیں آ گ چھوئے گی اور اللہ کے سوا تمہاراکوئی حمایتی نہیں پھر مدد نہ پاؤ گے۔(ھود:113)
اسی آیت مقدسہ کے تحت حضرت سیدنا مولاناسیّد محمد نعیم الدین مُراد آبادی (علیہ رحمۃ اللہ الھادی )صاحب فرماتے ہیں :" اس سے معلوم ہوا کہ خدا کے نافرمانوں کے ساتھ یعنی کافروں اور بےدینوں اور گمراہوں کے ساتھ میل جول رسم وراہ مودت ومحبت ان کی ہاں میں ہاں ملانا ان کی خوشامد میں رہنا ممنوع ہے"(تفسیر خزائن العرفان ،ص:437،مکتبۃ المدینہ )
بد مذہبوں ،گمراہوں سے خود کو بچاؤ اس کے متعلق 'صحیح مسلم 'میں ہے :" مسلم بن يسار أنه سمع أبا هريرة يقول: قال رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم يكون في آخر الزمان دجالون كذابون يأتونكم من الأحاديث بما لم تسمعوا أنتم ولا آباؤكم، فإياكم وإياهم لا يضلونكم ولا يفتنونكم. ترجمہ :حضرت مسلم بن یسار نےحضرت ابو ہریرہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ آلہ وسلم نے فرمایا آخری زمانہ میں دجال کذاب تمہارے پاس ایسی باتیں لے کر آئیں گے جن کو نہ تم نے سنا ہوگا ،نہ ہی تمہارے بڑوں نے ،خاص کر خود کو ان جیسوں سے بچاؤ کہ یہ تمہیں گمراہ نہ کردیں اور فتنہ میں نہ ڈال دیں ۔(صحیح مسلم ، باب في الضعفاء والكذابين ومن يرغب عن حديثهم،ج:1،ص:9، دار الطباعة العامرة ، تركيا)
جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد کسی کی نبوت کو مانے وہ کافر اور مرتدہے تو قادیانیوں کے متعلق اعلحضرت عظیم البرکت الشاہ امام احمد رضا خاں (علیہ رحمۃ الرحمن )فرماتے ہیں :" "لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ ﷺ کے بعد کسی کو نبوت ملنے کا جو قائل ہو وہ تو مطلقا کافر مرتد ہے اگرچہ کسی ولی یا صحابی کے لئے مانے.لیکن قادیانی تو ایسا مرتد ہے جس کی نسبت تمام علماےکرام حرمین شریفین نے بالاتفاق تحریر فرمایا ہےکہ "مَن شَکَّ فی کفرہ فقد کفر" یعنی جو اس کے کفر میں شک کرے تو وہ بھی کافر ہو جاےگا.( فتاوی رضویہ.ج:21.صفحہ279،80 رضا فاؤنڈیشن )
مرتدین کے احکام کے متعلق البحرالرائق میں ہے :" ومن أحكامه أنه لا عاقلة له لأنها للمعونة وهو لا يعاون كذا في البدائع وقد مضى في باب نكاح الكافر وقوع الفرقة بردة أحد الزوجين وفي المحرمات أنه لا ينكح ولا ينكح وسيأتي أنه لا يرث من أحد لانعدام الملة والولاية فقد ظهر أن الردة أفحش من الكفر الأصلي في الدنيا والآخرة وأطلق في القتل فشمل الحر والعبد…. وفي شرح المجمع معزيا إلى الحقائق ولا تجالس ولا تواكل ولا تباع. ترجمہ: "اور (مرتد) کے بعض احکام میں سے یہ بھی ہے کہ اس کے لیے عاقلہ نہیں ہے؛ کیونکہ عاقلہ دیت میں تعاون کرنے والے ہوتے ہیں ، جبکہ مرتد کسی کی اعانت نہیں کرتا۔ اسی طرح 'البدائع' میں ہے۔ اور نکاحِ کافر کے باب میں گزر چکا ہے کہ میاں بیوی میں سے کسی ایک کے مرتد ہونے سے فرقت(یعنی نکاح ختم ) ہو جاتا ہے، اور محرمات کے باب میں آیا ہے کہ مرتد نہ نکاح کر سکتا ہے اور نہ ہی اس کا نکاح کیا جا سکتا ہے۔اور آگے یہ بات آئے گی کہ مرتد کسی سے بھی وراثت نہیں پاتا، دین اور ولایت کے نہ ہونے کی وجہ سے ۔ پس تحقیق یہ بات ظاہر ہوگئی کہ مرتد ہونا دنیا و آخرت میں اصلی کفر سے زیادہ قبیح ہے۔اور قتل کے معاملے میں جب مطلق لفظ استعمال کیا گیا تو آزاد اور غلام دونوں کو شامل کر لیا...........اور شرح المجمع میں، الحقائق کی نسبت سے نقل کیا گیا ہے کہ:مرتد کے ساتھ نہ بیٹھا جائے، نہ کھانا کھایا جائے، اور نہ ہی اس سے خرید و فروخت کی جائے۔ (البحر الرائق ،کتاب السیر، باب أحکام المرتدین،ج:5،ص:138، دار الكتاب الإسلامي)
قادیانی سے لین دین کے متعلق اعلحضرت سے سوال ہو کہ:" قادیانیوں کے ہاتھ مال فروخت کرناکیساہے؟اس کا جواب دیتے ہوئے آپ فرماتےہیں :" قادیانی مرتد ہیں، اُن کے ہاتھ نہ کچھ بیچاجائے نہ اُن سے خریداجائے، اُن سے بات ہی کرنے کی اجازت نہیں۔ نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں :" ایّاکم وایّاھم "اُن سے دُوربھاگو انہیں اپنے سے دور رکھو۔واﷲ تعالٰی اعلم.(فتاوی رضویہ ،ج:23،ص:599،رضا فاؤنڈیشن)
کوئی بھی دنیوی معاملہ ہو مرتدین و قادیانیوں کے ساتھ رکھنا جائز نہیں اس بارے اعلحضرت (رحمۃ اللہ علیہ و آلہ وسلم )فرماتے ہیں: دنیوی معاملت جس سے دین پر ضرر نہ ہو سواے مرتدین کے کسی سے ممنوع نہیں۔ (فتاوی رضویہ ،ج:24،ص:322،رضا فاونڈیشن)
قادیانیوں کے ساتھ ذمی کافروں والوں کی طرح سلوک کرناجائز نہیں قادیانی مثل سور کے ہیں اس کے متعلق فرماتےہیں:" مرتدکے ساتھ کوئی معاملہ مسلمان بلکہ کافر ذمی کے مانند بھی برتنا جائز نہیں، مسلمانوں پر لازم ہے کہ اٹھنے بیٹھنے کھانے پینے وغیرہ تمام معاملات میں ا سے بعینہ مثل سور کے سمجھیں۔ (فتاوی رضویہ ، ج: 24 ،ص:320،رضافاؤنڈیشن)
مفتی اعظم پاکستان علامہ وقارالدین رضوی رضی اللہ عنہ تحریر فرماتے ہیں:"قادیانیوں کے دونوں گروپ لاہوری اور احمدی کافر و مرتد ہیں اور مرتد کے احکام اہل کتاب اور مشرکین سے جدا ہیں شریعت کے مطابق مسلمان مرتد سے معاملات بھی نہیں کرسکتا اس سے ملنا جلنا کھانا پینا سب ناجائز ہے لہذا ان سے تجارت رکھنا اٹھنا بیٹھنا کھانا پینا سب حرام ہیں.(وقار الفتاوی.ج:1ص: 272،بزم وقار الدین کراچی)
واﷲ تعالٰی اعلم بالصواب
کتـــــــــــــــــــــــــــــبه: محمّد سجاد سلطانی
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:13صفر المظفر 1447ھ/08اگست 2024ء