Al meezan investment ka sharai hukum
سوال
میں المیزان انوسمنٹ فنڈ میں کچھ رقم انوسٹ کرنا چاہتا ہوں ، جس کے مختلف کیٹاگریز ہیں۔ اس انوسمنٹ فنڈ کا جو پرافٹ ہمیں ملے گا یہ جائز ہے یا نہیں؟ شرعی فتوٰی صادر فرمائیں۔
سائل:محمد شاہد : کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
ہم نے انٹرنیٹ سے جو معلومات اکھٹی کی ہیں اسکے مطابق المیزان انوسمنٹ مشارکہ، مضاربہ اور اس جیسے دیگر عقود کی بنیاد پر کام کرتا ہے ، لہذا اگر واقعتاً اور حقیقتاً ان تمام عقود میں شرعی حدود و قیود کا لحاظ رکھا جاتا ہے اور تمام شرعی تقاضوں کی جانچ اور نگرانی کے بعد انوسٹرز کے سرمایہ کے نفع کا طے شدہ حصہ رقم دہندگان کو دیا جاتا ہے تو اس صورت میں المیزان انوسمنٹ فنڈ میں رقم لگانا اور نفع لینا دونوں جائز ہوگا۔ بصورتِ دیگر یعنی اگر معاہدات میں تو یہ ظاہر کیا جائے کہ شرعی تقاضے کے مطابق کام ہے جبکہ خارج اور نفس الامرمیں شرعی حدود و قیودکا لحاظ نہیں کیا جاتا (جیساکہ بعض بینکس وغیرہ میں اس طرح کے معاملات سامنے آئے ہیں ) تو اس صورت میں نہ انوسمنٹ جائز ہوگی اور اس سے حاصل شدہ نفع۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:ربیع الاول 1445ھ/ 16 اکتوبر 2023 ء