اگر تو چھ ماہ سے پہلے میرے گھر آئی تو تجھے طلاق
    تاریخ: 20 جنوری، 2026
    مشاہدات: 40
    حوالہ: 614

    سوال

    ایک شخص نے اپنی بیوی کو والدین کے گھر چھوڑا اور کہا اگر تو 6 ماہ سے پہلے میرے گھر آئی تو تجھے طلاق ہے۔اب ایک ماہ سے دونوں الگ ہیں اور پریشان ہیں چاہتے ہیں کہ کسی طرح مسئلہ کا حل نکالا جائے۔کیسا درج ذیل صورتوں میں ساتھ رہ سکتے ہیں ۔

    1:دونوں کسی دوست یا رشتہ دار کے گھر میں رہیں۔

    2:بیوی مکان کرائے پر لے لے اور شوہر وہاں آجائے۔

    3: شوہر بیوی کے والدین جاکر بیوی کے ساتھ چھ سات دن رہا ہے اور طلاق سے رجوع بھی کرلیا ہے تو کیا اب اپنے بچوں کے ساتھ ایک گھر میں رہ سکتے ہیں یا نہیں؟

    سائل:محمد رفیق: کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    طلاق کو کسی شرط (condition)پر مشروط کرنا تعلیق ِطلاق کہلاتا ہے اور تعلیق کے معنٰی یہ ہیں کہ کسی چیز کا ہونا دوسری چیز کے ہونے پر موقوف کیا جائے یہ دوسری چیز جس پر پہلی موقوف ہے اس کو شرط کہتے ہیں جبکہ عام حالات میں بغیر کسی شرط کے جو طلاق دی جاتی ہے وہ تنجیزا طلاق دینا کہلاتا ہے ۔تنویر الابصار مع الدر المختار (باب التعلیق ،ج:3ص:341،طبع:دار الفکر ،بیروت)میں تعلیق کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے : ربط حصول مضمون جملة بحصول مضمون جملة أخرى۔اعلٰی حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ اس عبارت کی وضاحت کر تے ہو ئے فر ما تے ہیں :تعلیق ربطِ مضمونِ جملہ بمضمونِ آخر ہے نہ کہ خبطِ مضمون بربطِ آخر ان دخلت الدار فانت طالق (اگر تو گھر میں داخل ہو تو تجھے طلاق) کہنے والے نے انت طالق کے مفادِ شرعی کو دخولِ دار پر معلق کیا تو ہنگامِ دخول اسی مفاد کا نزول ہوگا۔(اور وہ طلاق ہے)۔(فتاوی رضویہ ،باب التعلیق ،ج13ص137)

    اور تعلیق کا حکم یہ ہے کہ جس چیز پر طلاق کو معلق کیا ہے اس چیز کے وجود کےبعد طلاق واقع ہوجائے گی۔چناچہ الہدایہ مع البنایہ میں ہے:(وإذا أضافه) أي أضاف الرجل الطلاق (إلى شرط وقع عقيب الشرط، مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق) لأن المعلق بالشرط كالمنجز عند وجود الشرط (وهذا بالاتفاق)ترجمہ:جب کوئی شخص طلاق کو معلق کر دے کسی شرط پر تو شرط کے پائے جانے پر واقع ہو جائے گی جیسے کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے "اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو طلاق والی ہے "اور یہ اس لیئے ہے کہ کسی شیء کو شرط کے ساتھ معلق کرنا ایسا ہی ہے جیسے شرط کے پائے جانے پر نافذ کرنا ،اور اس پر سب کا اتفاق ہے ۔( الہدایہ مع البنایہ ،باب الایمان فی الطلاق ،ج:5،ص:413،طبع:دارالکتب العلمیہ)

    لہذا اگر آپ بیوی کے ساتھ کسی کے بھی گھر میں رہیں گے تو آپکی بیوی کو ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے گی۔ خواہ وہ آپکا اپنا ذاتی گھر ہو یا کرائے کا گھر ہو یا کسی نے رہنے کے لئے دیا ہو ہر صورت میں اس مخصوص مدت سے قبل ساتھ رہنے پر تعلیق کا وقوع ہوجائے گا اور طلاق واقع ہوجائے گی۔کیونکہ جب کوئی شخص اس طرح کی تعلیق کرے یا قسم کھائے تو اس سے خاص ملکیت کا گھر مراد نہیں ہوتا بلکہ عرف کی وجہ سے دارِ مسکونہ یعنی رہائشی گھر مراد ہوتا ہے خواہ یہ رہائشی گھر اسکا ذاتی ہو یا اجارہ کا ہو یا اعارہ کا ۔جیساکہ اصول الشاشی میں ہے:و لو حلف لا يسكن دار فلان يحنث لو كانت الدار ملكا لفلان أو كانت بأجرة او عارية۔۔۔۔۔۔۔۔لان دار فلان صار مجازا عن دار مسكونة له وذلك لا يتفاوت بين أن يكون ملكا له أو كانت بأجرة له۔ترجمہ:اور اگر کسی نے قسم کھائی کہ میں فلاں کے گھر میں نہیں رہوں گا ۔ پھر اس کے گھر میں رہا تو حانث ہوجائے گا خوہ گھر ملکیت کا ہو یا اجارہ کا ہو یا عاریت کا کیونکہ فلاں کے گھر سے مجازاََ اسکا رہائشی گھر مراد ہے اوررہائشی گھر ہونے میں ملکیت والا ہونا یا اجارہ پر ہونا دونوں برابر ہیں۔(اصول الشاشی، ص 46،دارالکتب العربیہ ۔بیروت)

    البحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:وَفِي الْبَدَائِعِ حَلَفَ لَا يَسْكُنُ دَارَ فُلَانٍ، فَيَنْوِي السَّكَنَ بِالْإِجَارَةِ وَالْإِعَارَةِ لَا يَصِحُّ أَصْلًا۔ ترجمہ:اگر کسی نے قسم کھائی کہ فلاں کے گھر نہیں رہوں گا۔ اور اس سے اجارہ یا اعارہ کے گھر میں رہنے کی نیت کی تو اس کی نیت اصلا درست نہ ہوگی۔( البحر الرائق شرح کنز الدقائق، جلد 4 ص 354ملخصا)

    نیز آپکا بیوی کے ساتھ اسکے والدین کے گھر جاکر رہنا رجوع نہیں کہلائے گا کیونکہ رجوع طلاق کے واقع ہونے کے بعد ہوتا ہے یہاں ابھی تک طلاق واقع ہی نہیں ہوئی تو رجوع کیسا؟

    لہذا آپ اگر 6 ماہ سے پہلے ساتھ رہنا چاہتے ہیں توزوجہ کو گھر لے آئیں ،گھر لاتے ہی ایک طلاق رجعی واقع ہوجائے جسکے بعد آپ رجوع کرسکتے ہیں، یعنی زبان سے کہہ دے کہ میں رجوع کرتا ہوں یا میاں بیوی والے معاملات خواہ شہوت کے ساتھ چھونا ہو کرلیں تو رجوع ہوجائے گا۔تنویر الابصار مع الدر المختار میں ہے:وَتَصِحُّ (بِنَحْوِ رَجَعْتُكِ) (وَ) بِالْفِعْلِ مَعَ الْكَرَاهَةِ(بِكُلِّ مَا يُوجِبُ حُرْمَةَ الْمُصَاهَرَةِ) كَمَسٍّ وَلَوْ مِنْهَا اخْتِلَاسًا، أَوْ نَائِمًا (ملخصا) ترجمہ: اور اس '' میں نے تجھ سے رجوع کیا''جیسے الفاظ کے ساتھ رجوع درست ہے ، اور فعل کے ذریعے کراہت کے ساتھ رجوع درست ہے،یوں ہی ہر اس فعل سے بھی رجوع درست ہے جو حرمت مصاہرت ثابت کردے، جیسا چھونا(شہوت کے ساتھ)اگر چہ اس سے چمٹ کر ہو یا نیند کی حالت میں ہو۔( تنویر الابصار مع الدر المختار کتاب الطلاق باب الرجعۃ جلد 3ص 398)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:16 صفر المظفر 1442 ھ/03 اکتوبر 2020 ء