سوال
بہت سی کمیونٹیز میں یہ دیکھا گیا ہے، ان کی کمیونٹی کے شادی شدہ میمبرز ماہانہ پیسے جمع کرواتے ہیں، تو جو پیسے جمع کرتے ہیں ان پیسوں کو ’’کنی‘‘ کا نام دیتے ہیں۔ کسی بھی ممبر کے گھر میں انتقال ہو جاتا ہے، کمیونٹی والے ان پیسوں سے میت کیلئے کفن وغیرہ کے جو معاملات ہوتے ہیں وہ پورا کرتے ہیں اور تدفین کے بعد ان کا جماعت خانہ ہوتا ہے وہاں پر کمیونٹی کی طرف سے جو کھانا کھلایا جاتا ہے اس کو کنی کا کھانے کہتے ہیں۔ کیا یہ سب درست طریقے ہیں؟ ان میں رہنمائی فرما دیں ،جزاک اللہ خیرا۔
سائل: عبد اللہ (واٹس ایپ)
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
کمیونٹی میں ’’کنی‘‘ کے نام سے ماہانہ رقم جمع کرنے کا موجودہ طریقہ کار شرعی اعتبار سے ’’چندہ‘‘ کے ذریعے باہمی مدد و نصرت کی ایک جائز صورت ہے۔ اس طریقہ کار میں جمع کی جانے والی رقم، جمع کرنے والے کی ملکیت سے خارج نہیں ہوتی، بلکہ یہ اس کی ملکیت میں ہی رہتی ہے۔ چونکہ یہ رقم ممبر کی ملکیت میں ہوتی ہے، اس لیے کسی حادثے یا ضرورت کے وقت اس فنڈ سے حاصل ہونے والی امداد کی وہ رقم جو ممبر کے اپنے جمع کردہ چندے سے زیادہ ہو، وہ شرعاً اس کے ذمے ’’قرض‘‘ شمار ہوگی۔
البتہ اس نظام کو شرعی طور پر مزید محفوظ و مستحکم بنانے کیلئے ضروری ہے کہ متعلقہ جماعت یا کمیونٹی اسے صرف ایک چندہ مہم کے طور پر نہ چلائے، بلکہ اسے باقاعدہ ایک ’’وقف فنڈ(تکافل ماڈل)‘‘ کی صورت دے۔ اس کیلئے ضروری ہے کہ وقف کے باقاعدہ شرائط و ضوابط طے کیے جائیں تاکہ رقم دینے والے کی ملکیت سے نکل کر وقف کی ملکیت میں چلی جائے، جس کے بعد اس فنڈ سے حاصل ہونے والی امداد ’’قرض‘‘ نہیں کہلائے گی بلکہ وقف سے ملنے والا شرعی فائدہ شمار ہوگی۔
ضمناً یہاں ’’تکافل‘‘ کی شرعی حیثیت پر کلام موضوع ہے، چنانچہ ؛
سودی انشورنس کا متبادل ’’تکافل‘‘ دراصل باہمی کفالت اور مدد و نصرت پر مشتمل ہے، جس کی قرآن و حدیث میں بڑی ترغیبات وارد ہوئی ہیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کے پانچ ماہ بعد وہاں کے یہودیوں کے ساتھ ایک معاہدہ فرمایا تھا، جو میثاقِ مدینہ کے نام سے مشہور ہے۔ اس معاہدے کی ایک دفعہ یہ تھی کہ ’’ہر گروہ کو عدل وانصاف کے ساتھ اپنی جماعت کا فدیہ دینا ہوگا‘‘، یعنی جس قبیلے کا جو قیدی ہو گا اس قید ی کو چھڑانے کا فدیہ اسی قبیلے کے ذمہ ہو گا۔یہ اسلام میں باہمی امداد اور بھائی چارے کی اوّلین مثال ہے۔ اسی طرح کُتبِ فقہ میں ’’کتاب الکفالۃ‘‘ کا پورا باب اسی موضوع پر ہے جس کا تقاضا ہے کہ مسلمان مصیبت میں ایک دوسرے کا سہارا بنیں، جیسا کہ ہمدرد سگے بھائی آپس میں کرتے ہیں۔ یہی نظریہ ’’تکافل‘‘ کی بنیاد ہے۔
باہمی کفالت کے اِن فنڈز میں جمع شدہ رقم کی شرعی حیثیت قرض کی نہیں ہوتی، بلکہ یہ رقم شرکاء فنڈز کے فلاح و بہبود اور حادثاتی نقصانات کی تلافی کیلئے ’’وقف‘‘ کر دی جاتی ہے۔ چونکہ یہ رقم شرکاء کی ملکیت سے نکل کر وقف فنڈ کا حصہ بن جاتی ہے، اس لیے اس فنڈ سے حاصل ہونے والی امداد کو قرض پر نفع (سود) قرار نہیں دیا جا سکتا۔ قرآنِ کریم کا اصول ہے ’’ہل جزاء الاحسان الا الاحسان‘‘ (نیکی کا بدلہ نیکی ہی ہے)۔ انتظامیہ یہاں مالک نہیں بلکہ بطور ’’وکیل‘‘ کام کرتی ہے، جس کا مقصد قرآنی حکم ’’تعاون علی البر والتقوی‘‘ کی تعمیل ہے۔
یہ نظام سودی انشورنس جیسا نہیں ، کیونکہ انشورنس میں جمع کردہ رقم کمپنی پر قرض ہوتی ہے اور وہ اضافے کے ساتھ واپس کرتی ہے جو کہ سود ہے۔ نیز اس میں رقم رِسک پر لگائی جاتی ہے (اگر حادثہ ہوا تو زیادہ ملے گا، ورنہ جمع شدہ رقم بھی جائے گی) جو کہ جوّا ہے اور حرام ہے۔ اس کے برعکس تکافل میں رقم اللہ کی رضا کے لیے وقف کی جاتی ہے۔
بعض لوگ اعتراض کرتے ہیں کہ ’’نقدی (روپیہ پیسہ) کبھی بھی وقف نہیں ہو سکتی‘‘، کہ وقف کیلئے ضروری ہے اصل کو باقی رکھتے ہوئے اس کے منافع سے استفادہ کیا جائے، جبکہ نقد کو استعمال کیے بغیر استفادہ ممکن نہیں ۔یہ اعتراض کم علمی پر مبنی ہے۔ فقہ حنفی کی مستند حوالوں سے ثابت ہے کہ ’’وقفِ نقود‘‘ (درہم و دینار یا روپوں کے وقف) کا مسئلہ مختلف فیہ ہے۔ امام محمد رحمہ اللہ کے نزدیک اگر اس پر عرف موجود ہو تو ایسا وقف درست ہے ۔جبکہ امام زفر رحمہ اللہ کے نزدیک بلا عرف بھی یہ وقف جائز ہے۔پھر اصول ہے کہ کسی مسئلے میں فقہائے کرام کے درمیان اختلاف ہو اور قاضی کسی ایک مؤقف پر اپنی قضاء نافذ کر دے، تو وہ معاملہ متفق علیہ ہو جاتا ہے کہ قضائے قاضی اختلاف کو اٹھا دیتی ہے۔ اور چونکہ تکافل کمپنیز سرکاری اداروں سے اپنی کمپنی کی قانونی رجسٹریشن کرواتے ہیں، جن میں حکومت کی طرف سے متعین افسران قاضی کا حکم رکھتے ہیں اور ان کی رجسٹری’’قضائے قاضی‘‘ کی حیثیت رکھتی ہے۔لہٰذا، تکافل کمپنیز فنڈز کا باقاعدہ ضوابط طے کرنا اور قانونی رجسٹریشن کرانا،اس وقف کو بلا خلاف شرعاً درست اور لازم کردیتا ہے۔
دلائل و جزئیات:
قرآن مجید میں باہمی امداد کی ترغیب وارد ہوئی ہے، چنانچہ ارشاد ہوا:وَتَعَاوَنُواْ عَلَی الْبرِّ وَالتَّقْوَی. ترجمہ: اور نیکی اور پر ہیز گاری پر ایک دوسرے کی مدد کرو۔(المائدۃ:2)
دو سرے مقام پر ارشاد باری ہے: "إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَۃٌ".تر جمہ:مسلمان مسلمان بھائی ہیں۔(الحجرات :10)
نیکی کا بدلہ دینا سنتِ سرکار علیہ الصلاۃ والسلام ہے،چنانچہ سنن ابو داود کی روایت ہے :"عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْبَلُ الْهَدِيَّةَ وَيُثِيبُ عَلَيْهَا»".ترجمہ:اماں عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہدیہ قبول فرماتے تھے، اور اس کا بدلہ دیتے تھے۔(سنن ابي داود،کتاب الاجارۃ،باب فی قبول الہدایا،3/290،رقم الحدیث: 3536، المكتبة العصريۃ)
ہر چندہ وقف نہیں ہوتا، صدر الشریعہ حضرت علامہ مفتی محمد امجد علی اعظمی (المتوفی:1367ھ) فرماتے ہیں:’’عمو مایہ چندے صدقہ نافلہ ہوتے ہیں ان کو وقف نہیں کہا جا سکتا کہ وقف کے لئے یہ ضرور ہے کہ اصل حبس (محفوظ) کر کے اس کے منافع کام میں صرف کئے جائیں۔جس کے لئے وقف ہو، نہ یہ کہ خود اصل ہی کو خرچ کر دیا جائے ۔ یہ چندے جس خاص غرض کے لئے کئے گئے ہیں اس کے غیر میں صرف نہیں کئے جاسکتے ۔ اگر وہ غرض پوری ہو چکی ہو تو جس نے دیئے ہیں اس کو واپس کئے جائیں ۔ یا اس کی اجازت سے دوسرے کام میں خرچ کریں۔ بغیر اجازت خرچ کرنا نا جائز ہے‘‘۔ (فتاویٰ امجدیہ، 3/38، مکتبہ رضویہ،کراچی)
قرض پرمشروط نفع سود ہوتا ہے۔چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:"كل قرض جر منفعة فهو ربا".ترجمہ:ہر وہ قرض، جو نفع کھینچے،تو وہ سود ہے ۔ (کنز العمال ،حرف الدال،الکتاب الثانی،الباب الثانی،فصل فی لواحق کتاب الدین،6/238،رقم:15516،مؤسسۃ الرسالۃ)(نصب الرایۃ،کتاب الحوالۃ،4/6،مؤسسۃ الریان)
سود سے متعلق ارشاد باری تعالی ہے: قَالُوْۤا اِنَّمَا الْبَیْعُ مِثْلُ الرِّبٰواۘ-وَ اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا.ترجمہ: انہوں نے کہا بیع بھی تو سُود ہی کے مانند ہے اور اللہ نے حلال کیا بیع اور حرام کیا سُود۔(البقرۃ:275)
جوئے کے بارے میں ارشاد ہے : یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَیْسِرُ وَالْاَنْصَابُ وَالْاَزْلَامُ رِجْسٌ مِّنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِ فَاجْتَنِبُوْهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ .ترجمہ: اے ایمان والو ! شراب اور جُوا اور بُت اور پانسے ناپاک ہی ہیں شیطانی کام تو ان سے بچتے رہنا کہ تم فلاح پاؤ۔ (المائدۃ : 90 )
تکافل اور انشورنس میں فرق کو واضح کرتے ہوئے تاج الفقہاء مفتی وسیم اختر المدنی مدّ ظلہ العالی لکھتے ہیں:’’ تکا فل اورمروجہ انشورنس میں کئی وجوہ (پہلو) سے فرق ہے: (۱) تکافل محض عقدِ تبر ع(احسان) ہے ۔ (ا قول: ا سکا مطلب یہ ہواکہ کلائنٹ جو رقم جمع کروائے گا وہ رقم اس کی طرف سے ذکر کردہ مخصوص فلاحی کاموں کے لیے فنڈ (چندہ)ہوگی، قرض ہر گز نہیں ہو گی اور اگر تکافل کمپنی کو ھبہ(گفٹ) کی جائے ۔ تو یہ رقم اس شخص کی ملکیت سے نکل جائے گی اوراب اُس رقم کی مالک تکافل کمپنی ہو گئی اور یہ شخص اس رقم کے حوالے سے کسی قسم کا دعوٰی نہیں کر سکتا اگرچہ کمپنی اس کو فائدہ دے یانہ دے ۔یہ الگ بات ہے کہ کمپنی لوگوں کو اپنی طرف مائل رکھنے کے لیے ان کو فائدہ پہنچانا ضروری سمجھتی ہے وگرنہ ان کے فنڈ میں کوئی اپنی رقم کیوں جمع کروائے گالیکن یہ فائدہ پہنچانا اسی طرح تبرع واحسان ہوگا جس طرح اس شخص نے تکافل کمپنی کو رقم دے کراحسان کیا تھا۔اس کو یوں سمجھوکہ آج تم کسی کے کام آؤ کل کوئی تمہارے کام آئے گا) جبکہ مروجہ انشورنس عقد معاوضہ ہے (ا قول : ا سکا مطلب یہ ہوا کہ کلائنٹ جو رقم جمع کروائے گا وہ رقم اس کی طرف سے کمپنی پرقرض ہی ہے )اور شر عاَدو نوں کے احکام بالکل الگ الگ ہیں۔ (۲) تکافل میں دی جانے والی رقم ’’ وقف فنڈ‘‘کی ملکیت میں جاتی ہے کمپنی اس کی مالک نہیں ہوتی جبکہ مروجہ انشورنس میں ا س رقم کی مالک کمپنی ہوتی ہے۔ (۳) تکافل کا اصل مقصد تعاون علی البر والتقوی ہے، کوئی کاروبار نہیں اس لئے تکافل کے کاغذات میں ایسے الفاظ سے گریز کیاجاتاہے جن سے عقد معاوضہ یا کارو بار کا تاثر ملتاہو جیسے کہ بزنس یاکنٹریکٹ کے الفاظ جبکہ انشورنس کا اصل مقصد تجارت اور کا روبار ہے ۔ (۴) تکافل میں کمپنی کی حیثیت وکیل کی ہے جبکہ انشور نس میں کمپنی اصیل اور مالک ہے۔ (۵)تکافل نظام میں باقاعدہ شر عی بورڈہوتا ہے۔شریعہ بور ڈ کی نگرانی میں فنڈکو شر یعت کے مطابق جائز کا روبار میں لگایا جاتا ہے۔چنانچہ تکافل رولز ۲۰۰۵ء کی رو سے ہر کمپنی کا شریعہ بورڈ ضروری ہے ،جس میں کم سے کم تین ممبر ہوں جن کا عالمِ دین اور خریدوفروخت کے شرعی مسائل پر عبورحاصل ہونا ضروری ہے جبکہ انشو رنس میں اس طرح کی کسی قسم کی کو ئی نگرانی نہیں ہوتی اور نہ ہی اس طرح کی کو ئی پابندی ہے۔جہاں فائدہ نظر آتا ہے وہا ں سر مایہ کاری ہوتی ہے اس میں یہ نہیں دیکھا جاتا کہ کارو بار شر عا جائز اور حلال بھی ہے یا نہیں ۔(وسیم الفتاوی،غیر مطبوعہ)
نقدی (روپیہ پیسہ)کے وقف کی تحقیق میں خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "(قوله: بل ودراهم ودنانير) عزاه في الخلاصة إلى الأنصاري وكان من أصحاب زفر، وعزاه في الخانية إلى زفر حيث قال: وعن زفر شرنبلالية وقال المصنف في المنح: ولما جرى التعامل في زماننا في البلاد الرومية وغيرها في وقف الدراهم والدنانير دخلت تحت قول محمد المفتى به في وقف كل منقول فيه تعامل كما لا يخفى؛ فلا يحتاج على هذا إلى تخصيص القول بجواز وقفها بمذهب الإمام زفر من رواية الأنصاري والله تعالى أعلم، وقد أفتى مولانا صاحب البحر بجواز وقفها ولم يحك خلافا. اهـ. ما في المنح قال الرملي: لكن في إلحاقها بمنقول فيه تعامل نظر إذ هي مما ينتفع بها مع بقاء عينها على ملك الواقف، وإفتاء صاحب البحر بجواز وقفها بلا حكاية خلاف لا يدل على أنه داخل تحت قول محمد المفتى به في وقف منقول فيه تعامل؛ لاحتمال أنه اختار قول زفر وأفتى به وما استدل به في المنح من مسألة البقرة الآتية ممنوع بما قلنا إذ ينتفع بلبنها وسمنها مع بقاء عينها لكن إذا حكم به حاكم ارتفع الخلاف اهـ ملخصا.قلت وإن الدراهم لا تتعين بالتعيين، فهي وإن كانت لا ينتفع بها مع بقاء عينها لكن بدلها قائم مقامها لعدم تعينها، فكأنها باقية ولا شك في كونها من المنقول، فحيث جرى فيها تعامل دخلت فيما أجازه محمد ولهذا لما مثل محمد بأشياء جرى فيها التعامل في زمانه قال في الفتح: إن بعض المشايخ زادوا أشياء من المنقول على ما ذكره محمد لما رأوا جريان التعامل فيها، وذكر منها مسألة البقرة الآتية ومسألة الدراهم والمكيل حيث قال: ففي الخلاصة: وقف بقرة على أن ما يخرج من لبنها وسمنها يعطى لأبناء السبيل، قال: إن كان ذلك في موضع غلب ذلك في أوقافهم رجوت أن يكون جائزا، وعن الأنصاري وكان من أصحاب زفر فيمن وقف الدراهم، أو ما يكال أو ما يوزن أيجوز ذلك قال: نعم قيل وكيف قال يدفع الدراهم مضاربة، ثم يتصدق بها في الوجه الذي وقف عليه وما يكال أو يوزن يباع ويدفع ثمنه لمضاربة أو بضاعة قال فعلى هذا القياس إذا وقف كرا من الحنطة على شرط أن يقرض للفقراء الذين لا بذر لهم ليزرعون لأنفسهم، ثم يوجد منهم بعد الإدراك قدر القرض، ثم يقرض لغيرهم بهذا الفقراء أبدا على هذا السبيل، يجب أن يكون جائزا قال ومثل هذا كثير في الري وناحية دوماوند اهـ. وبهذا ظهر صحة ما ذكره المصنف من إلحاقها بالمنقول المتعارف على قول محمد المفتى به وإنما خصوها بالنقل عن زفر لأنها لم تكن متعارفة إذ ذاك؛ ولأنه هو الذي قال بها ابتداء قال في النهر: ومقتضى ما مر عن محمد عدم جواز ذلك أي وقف الحنطة في الأقطار المصرية لعدم تعارفه بالكلية. نعم وقف الدراهم والدنانير تعورف في الديار الرومية. اهـ. (قوله: ومكيل) معطوف على قول المصنف ودراهم (قوله: ويدفع ثمنه مضاربة أو بضاعة) وكذا يفعل في وقف الدراهم والدنانير، وما خرج من الربح يتصدق به في جهة الوقف وهذا هو المراد في قول الفتح عن الخلاصة، ثم يتصدق بها فهو على تقدير مضاف أي بربحها، وعبارة الإسعاف ثم يتصدق بالفضل (قوله: فعلى هذا) أي القول بصحة وقف المكيل".ترجمہ: (مصنف کا قول: بلکہ دراہم اور دنانیر کا وقف بھی جائز ہے)؛ ’’الخلاصہ‘‘ میں اس قول کی نسبت امام انصاری رحمہ اللہ کی طرف کی گئی ہے جو امام زفر رحمہ اللہ کے اصحاب میں سے تھے، جبکہ ’’الخانیہ‘‘ میں اسے براہِ راست امام زفر رحمہ اللہ کی طرف منسوب کیا گیا ہے۔مصنف نے ’’المنح‘‘ میں فرمایا: چونکہ ہمارے زمانے میں روم اور دیگر ممالک میں نقدی (دراہم و دنانیر) کے وقف کا تعامل چل پڑا ہے، اس لیے یہ امام محمدرحمہ اللہ کے اس مفتیٰ بہ قول کے تحت داخل ہو گیا ہے کہ ہر وہ منقولہ چیز جس کا وقف کرنے کا رواج ہو جائے، اس کا وقف جائز ہے۔ لہذا اب اس کے جواز کو صرف امام زفر رحمہ اللہ کے مذہب (روایتِ انصاری) کے ساتھ خاص کرنے کی ضرورت نہیں رہی۔ اور اللہ بہتر جانتا ہے۔ ہمارے شیخ صاحبِ بحر (علامہ ابن نجیم رحمہ اللہ) نے بھی اس کے جواز کا فتویٰ دیا ہے اور کسی اختلاف کا ذکر نہیں کیا۔ (المنح کی عبارت ختم ہوئی) ۔علامہ رملی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: لیکن نقدی کو تعامل یافتہ منقولہ اشیاء کے حکم میں شامل کرنے میں نظر ہے، کیونکہ وقف وہ چیز ہوتی ہے جس کی اصل (عین) واقف کی ملکیت پر باقی رہے اور اس سے نفع اٹھایا جائے (جبکہ نقدی خرچ ہو جاتی ہے)۔ صاحبِ بحر رحمہ اللہ کا بغیر اختلاف ذکر کیے فتویٰ دینا اس بات کی دلیل نہیں کہ یہ امام محمدرحمہ اللہ کے تعامل والے قاعدے میں داخل ہے؛ بلکہ احتمال ہے کہ انہوں نے امام زفر رحمہ اللہ کے قول کو پسند کر کے اس پر فتویٰ دیا ہو۔ اور ’’المنح‘‘ میں جو گائے کے وقف کے مسئلے سے دلیل لی گئی ہے وہ ہمارے نزدیک درست نہیں، کیونکہ گائے کے دودھ اور گھی سے نفع اٹھایا جا سکتا ہے جبکہ اس کی ذات (عین) باقی رہتی ہے۔ لیکن (خلاصہ یہ ہے کہ) اگر کوئی حاکم (قاضی) اس (نقدی کے وقف) کا فیصلہ کر دے تو اختلاف ختم ہو جائے گا۔ (مصنف کی بحث کے بعد) میں (علامہ شامی رحمہ اللہ) کہتا ہوں: اس سے یہ ظاہر ہو گیا کہ مصنف نے جو دراہم (نقدی) کو امام محمدرحمہ اللہ کے اس مفتیٰ بہ قول کے ساتھ ملحق کیا ہے کہ تعامل یافتہ منقولہ اشیاء کا وقف جائز ہے، وہ بالکل درست ہے۔ فقہاء نے پہلے اسے امام زفررحمہ اللہ کے ساتھ اس لیے خاص کیا تھا کیونکہ اس زمانے میں نقدی کا وقف عام نہیں تھا، اور اس لیے بھی کہ امام زفررحمہ اللہ ہی وہ پہلے بزرگ تھے جنہوں نے اس کے جواز کی بات کی۔ ’’النہر‘‘ میں ہے: امام محمدرحمہ اللہ کے اصول کا تقاضا تو یہ ہے کہ دیارِ مصر میں گندم وغیرہ کا وقف جائز نہ ہو کیونکہ وہاں اس کا بالکل رواج نہیں ہے۔ البتہ دراہم اور دنانیر (نقدی) کا وقف دیارِ روم میں متعارف ہے (لہذا وہاں یہ جائز ہوگا)۔ (قولہ: ومکیل): یہ مصنف کے قول ’’ودراهم‘‘ پر معطوف ہے (یعنی جس طرح نقدی کا وقف جائز ہے، ناپ کر بکنے والی چیزوں کا بھی جائز ہے)۔ (قولہ: ويدفع ثمنه مضاربة أو بضاعة): اور یہی طریقہ دراہم اور دنانیر کے وقف میں بھی اپنایا جائے گا (کہ انہیں کاروبار میں لگایا جائے گا)۔ پھر جو منافع حاصل ہوگا، اسے وقف کے مقصد پر صدقہ کیا جائے گا۔ ’’فتح القدیر‘‘ میں ’’الخلاصہ‘‘ کے حوالے سے جو یہ کہا گیا ہے کہ ’’پھر اسے صدقہ کر دے‘‘، اس سے مراد نفع کو صدقہ کرنا ہی ہے (کیونکہ اصل رقم تو محفوظ رکھی جائے گی)۔ ’’الإسعاف‘‘ کی عبارت میں یہ واضح ہے کہ پھر زائد رقم (منافع) کو صدقہ کرے۔ (قولہ: فعلى هذا): یعنی مکیل (ناپ تول والی اشیاء) کے وقف کے صحیح ہونے کے قول پر (یہ نتیجہ نکلتا ہے)۔ (رد المحتار، كتاب الوقف، مطلب في وقف الدراهم والدنانير، 4/363-364، دار الفكر)
قضائے قاضی اختلاف کو اٹھا دیتی ہے، علامہ سراج الدین عمر بن ابراہیم(المتوفی:1005 ھ) فرماتے ہیں: "فكل مسألة اختلف فيها الفقهاء فإنها تصير محل اجتهاد، فإذا قضى قاضٍ بقول ارتفع الخلاف... قال أبو الليث: رواية محمد أن كل شيء اختلف فيه الفقهاء فقضى به قاض جاز ولم يكن لغيره أن يبطله ولم يذكر فيه الاختلاف وبه نأخذ".ترجمہ: ہر وہ مسئلہ جس میں فقہاء نے اختلاف کیا ہو، وہ محلِ اجتہاد بن جاتا ہے۔ چنانچہ جب کوئی قاضی ان میں سے کسی ایک قول کے مطابق فیصلہ سنا دیتا ہے، تو وہ اختلاف ختم ہو جاتا ہے (یعنی وہ فیصلہ نافذ العمل قانون بن جاتا ہے)۔ امام ابو الليث رحمہ اللہ فرماتے ہیں: امام محمد رحمہ اللہ کی روایت یہ ہے کہ ہر وہ چیز جس میں فقہاء نے اختلاف کیا ہو، پھر قاضی اس کے مطابق فیصلہ کر دے، تو وہ جائز (نافذ) ہو جائے گا، اور کسی دوسرے (قاضی یا مفتی) کے لیے یہ جائز نہ ہوگا کہ اس فیصلے کو باطل قرار دے۔ انہوں نے اس میں (فیصلے کے بعد) کسی اختلاف کا ذکر نہیں کیا، اور ہم اسی قول کو اختیار کرتے ہیں۔ (النهر الفائق، کتاب القضاء، باب کتاب القاضی الی القاضی، 3/627، دار الکتب العلمیۃ بیروت) ۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:24 رجب المرجب 1447ھ/14جنوری 2025ء