Agar apni maa ke ghar gayi to talaq
سوال
"السلام علیکم میرا نام نبیل حسین ہے میں سیالکوٹ سے ہوں مجھے ۱ شرعی مسئلہ ہے میری شادی کو ۱۰ سال ہو گئے ہیں ماشاءاللہ ۳ بچے بھی ہیں میرا میری بیوی سے کسی بات پر جھگڑا ہو گیا اور میں نے اسے غصے سے بول دیا کہ تم اپنی ماں کے گھر نہیں جا سکتی اگر تم وہاں گئی تو میری طرف سے تمہیں ۳ طلاقیں اور تم فارغ میری طرف سے بس جب تمہاری ماں فوت ہو گی یا تمہارے بھائی کی شادی ہو گی تب ہی جا سکتی ہو یہ الفاظ ادا کرنے کے بعد میری بیوی اپنی ماں کے گھر بالکل بھی نہیں گئی اس بات کا ۱ سال ہو گیا ہے اب ہم دونوں ہسبنڈ وائف یہ پوچھنا چاہ رہے ہیں کہ کیا اس مسئلے کا کوئی سولیوشن ہے ؟ کیا شریعت میں کوئی حل ہے جس سے میری بیوی اپنی ماں کے گھر چلی جائے اور اسے طلاق بھی میری طرف سے نہ ہو اور گناہ بھی نہ ہو ؟"
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورت مسئولہ میں بیوی اگر ماں کی زندگی میں اپنی ماں کے گھر چلی گئی تو فورا تین طلاقیں واقع ہوجائیں گی جسکے بعد بیوی مرد پر حرمتِ مغلظہ کیساتھ حرام ہوجائے گی۔ البتہ ایک صورت ہے جس میں تین طلاقوں سے بچاؤ ممکن ہے البتہ ایک طلاقِ بائن اس صورت میں بھی پڑ جائے گی۔ وہ یہ کہ مرد اس وقت اپنی بیوی کو ایک طلاقِ بائن دے دے ان الفاظ کے ذریعے کہ میں اپنی بیوی کو ایک طلاقِ بائن دیتا ہوں جس کے بعد عورت فورا مرد کے نکاح خارج ہوجائے گی کیونکہ طلاق بائن سے نکاح فورا ختم ہوجاتا ہے پھر عورت اپنی ماں کے گھر چلی جائے اس صورت میں مرد کی تعلیق ختم ہوجائے گی ۔بعد ازاں مرد نئے حق مہر کیساتھ نئے گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کرلےاوردونوں ساتھ رہیں۔
تو آئندہ صرف دو طلاقوں کا حق باقی رہے گابشرطیکہ اس واقعہ سے پہلی کبھی طلاق نہ دی ہو۔