آٹے کے بدلے آٹا دینا

    aate ke badle aata dena

    تاریخ: 1 اگست، 2026
    مشاہدات: 18
    حوالہ: 1691

    سوال

    عموماً گاؤں دیہات میں لوگ آٹا نمک چینی وغیرہ ختم ہونے کی صورت میں ایک دوسرے سے مانگ لیتے ہیں، اور بعد میں اتنا ہی واپس کردیتے ہیں۔ہم نے سنا ہے یہ سود اور رباہے آپ سے گزارش ہے رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ واقعی سود ہے یا قرض کی صورت ہے۔وضاحت فرمادیں۔

    سائل:مولانا توصیف مدنی : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    بلاشبہ مذکورہ طریقہ قرض کی صورت ہے، نہ کہ ربا (رباالنسیئہ)،کیونکہ ربا النسیئہ بیع میں متحقق ہوتا ہےنہ کہ قرض میں ، بیع عقد معاوضہ ہے جبکہ قرض عقدِ تبرع ہے۔ربا عقدِ بیع میں ایسی زیادتی کا نام ہے جو بلاعوض ہو ،اور قرض ایسا عقد ِتبرع ہے جس میں مثلی چیز اس لیے دی جاتی ہے تاکہ بعد میں اس کا تقاضا کیا جاسکے۔ اور بے شک مثلی چیز بطورِ قرض دینا جائز و مباح ہے۔

    البتہ اس قرض کے طریقے میں تفصیل یہ ہےکہ دیکھا جائے گا، مذکورہ تبادلے میں اگر اشیاء کی مقدار اتنی ہو جو پیمانۂِ کیل کی ادنٰی مقدار نصف صاع میں بھی داخل نہ ہوسکے جیسا کہ عموماًگھروں میں خورد و نوش کی اشیاء (مثلاً: نمک چینی و غیرہ) کی جو باہم لین دین کی جاتی ہے، وہ بہت کم مقدار میں ہوتی ہے تو اب اندازاً قرض دینا بھی جائز ہے، کیل ضروری نہیں ۔

    اور اگر اشیاء کی مقدار اتنی ہو جو پیمانۂِ کیل کی ادنٰی مقدار کے مساوی یا اس سے زائد ہو تو اب کیل یا وزن کے اعتبار سے اسکی مقدار معلوم و معین ہونا ضروری ہے، اندازے سے لین دین جائز نہیں ہے ۔

    ہاں ۔۔۔۔! یہاں یہ احتیاط لازم و ضروری ہے کہ جانبین سے دی گئی مقدار سے زائد دینے کی شرط نہ ہو ، وگرنہ یہ صریح ربا میں داخل ہوگا کہ یہ قرض پر منفعت ہوگی اور قرض پر ہر منفعت بحکمِ حدیث ربا اور سود ہے، جیساکہ فرمایا:كُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَةً، فَهُوَ رِبًا۔ترجمہ:ہر وہ قرضہ جو نفع دے وہ سود ہے ۔( مصنف ابن ابی شیبہ ،باب من کرہ کل قرض جر منفعۃ، رقم :20690)

    سو اس شرط کے ساتھ نہ ان اشیاء کو بطورِ قرض نہ لینا جائز نہ دینا۔

    البتہ۔۔۔۔۔! اگر جانبین سے زائد کی شرط نہ ہو اور بعد میں دہندہ اپنی جانب سے کچھ زائد دے دے تو کچھ حرج نہیں کہ سود تو وہ ہے جسکی عقد میں شرط لگادی جائے اور یہ جب بلاشرط ہے تو بدلۂِ احسان ہوا، کما قال اللہ تعالٰی ھل جزاء الاحسان الاحسان ۔ترجمہ: احسان کا بدلہ صرف احسان ہی ہے۔(الرحمان: 60)

    عنایہ شرح ہدایہ، فتح القدیراور مبسوطِ سرخسی میں ہے:و اللفظ لہ : الإقراض جائز في كل مكيل، أو موزون، وكذلك في العدديات المتقاربة كالجوز، والبيض؛ لأنها مضمونة بالمثل۔ ترجمہ:ہر مکیلی و موزونی چیز میں قرض جائز ہے ، یونہی عددی متقارب میں بھی جیسے اخروٹ انڈہ وغیرہ کیونکہ مثل کے ذریعے اسکا ضمان ممکن ہے۔ (مبسوط سرخسی، جلد 14 ص 31، بیروت)

    یونہی ہندیہ میں ہے : ویجوز القرض فیما ھو من ذوات الامثال کالمکیل والموزون۔ ترجمہ: مثلی چیزیں مثلا مکیلی یا موزونی میں قرض جائز ہے۔ (الفتاوی الھندیۃ: الباب التاسع عشر فی القرض و الاستقراض،جلد 3 ص 201)

    سیدی اعلٰی حضرت ارشاد فرماتے ہیں: قرض تو ایک دوسرا عقد ہے بیع کے سوا جسے شرع مطہر نے حاجات ناس کے لئے جائز فرمایا غلہ کیا، بڑا قرض تو روپے کا ہوتا ہے روپیہ خود اموال ربویہ سے ہے کہ روپے کے عوض روپیہ یا چاندی ہو تو قدر و جنس دونوں موجود اور فضل و نسیہ دونوں حرام مگر روپیہ قرض لینا جائز ہی ہے اور خود غلہ قرض لینا صحیح حدیث میں حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے ثابت ہے اور رب العزت جل وعلا فرماتا ہے : یٰایھاالذین اٰمنوااذاتداینتم بدین الی اجل مسمی فاکتبوہ ۔ اے ایمان والو! جب تم ایک مقررہ مدت تک کسی دین کا لین دین کرو تو اس کو لکھ لیا کرو۔(فتاوٰی رضویہ، جلد 17 ص 324، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    یہاں یہ اشکال وارد ہوسکتا ہے کہ حدیث مبارک میں یداً بیدٍ کے الفاظ موجود ہیں جس کا مطلب ہم جنس کے تبادلہ میں ادھار ممنوع ہے، ہاتھوں ہاتھ ہی جائز ہوگا، بطورِ قرض منع ہوگا۔

    ازالۂِ اشکال:

    فقیۂِ اعظم مفتی نور اللہ بصیر پوری اس وہم کے ازالے میں فرماتے ہیں: باقی رہی وہ حدیث شریف جس میں یداً بیدٍ کی قید ہے، اس سے قرض کی ممانعت سمجھنی نہایت ہی بیجا ہے کہ اس حدیث شریف میں اور رعایتِ رفع میں لفظ بیع مقدر ہے،اور روایتِ نصب میں بیعوا، مبسوط ج 2 ص 110، ہدایہ مطبوع مع الفتح ج 6 ص 147 ، فتح القدیر وعنایہ شرح ہدایہ ج 6 ص 147 والنظم من العناية وروى بروایتین بالرفع مثل بمثل وبالنصب مثلابمثل ومعنى الاول بیع الحنطة الى ان قال ومعنى الثاني بيعوا، بحرالرائق ج 6 ص 127، قسطلانی شرح صحیح البخاری ج 4ص 64 عینی شرح صحیح البخاری ج 1 ص 252،والنظم للعينی وقولہ والبر بالبر ای و بیع البر بالبر وهكذا يقدم في البواقی ،ترمذی شریف ج 1ص149 میں حدیثِ مذکور کے تحت ہے :و العمل على هذا عند اهل العلم لا يرون ان يباع البربالبر الامثلا بمثل اور ایسے ہی بیع، مؤطاامام مالک ج 1 ص 344 اور ا شعۃ اللمعات شرح مشکوۃ ج 3 ص 19 میں ہے بلکہ اس حدیث شریف کے طرق و روایات کثیرہ میں مادہ بیع موجود، حدیث دانی صرف اس کا نام نہیں کہ ایک روایت سے حدیث کو دیکھ لیا اور حکم لگا دیا بلکہ طرق مختلف پر نظر کر کے نتیجہ نکالنا لازم ہے۔۔۔۔۔۔تو روزِ روشن کی طرح معلوم ہوا کہ یداً بیدٍ کی قید بیع میں ہے تو خواہ مخواہ قرض کو اس حدیث شریف سے کیوں ممنوع قرار دیا جاتا ہے اور اگر یہی شوق دامنگیر ہے تو صرف قرض ِ گندم نہیں بلکہ رو پیہ اشرفی وغیرہ کا قرض بھی حرام ہو جائے گا کہ اس حدیث شریف میں گندم کے ساتھ سونے چاندی کا بھی ذکر ہے ، یہ عجب کہ ایک چیز حرام ہو جائے اور دوسری حلال حالانکہ دونوں ایک ہی حدیث شریف میں یکساں مذکور ہوں،تو بیع تو مبادلة المال بالمال بالتراضی کا نام ہے اور قرض ما تعطیہ من مثلى لتقاضاه یعنی وہ مثلی شئی جسے دیا جائے اور اسی کا تقاضا کیا جائے، یہیں سے معلوم ہوا کہ قرض در حقیقت ایک خاص قسم کی عاریت کا نام ہے توجواز، خود بخود ہی ثابت ہو گیا۔ مبسوط ج 14ص 31 میں ہے :ان القرض في معنى العارية لان ما يسترد ہ المقرض فى الحكم كانہ عين ما دفع اذ لو لم يجعل كذلك كان مبادلة الشيئ بجنسہ نسيئة وذلك حرام اور ایسے ہی ص 34میں ہے یعنی قرض معنی عاریت میں ہے اور جو چیز قرض دینے والا واپس لیتا ہے حکماً ایسا ہے گویا کہ اسی چیز کو واپس لیتا ہے جس کو اس نے دیا ہے اور یہ مبادلہ نہیں ، ہاں اگرمبادلہ ہوتا تو تمام مکیلات و موزونات میں قرض حرام ہوتا اور صرف گندم کی تخصیص نہ ہوتی مگر جب حقیقۃً مبادلہ نہیں تو جائز ہے اور صورت مبادلہ کا اعتبار نہیں اور یہی وجہ ہے کہ لفظ عاریت سے بھی قرض ثابت ہو جاتا ہے، مبسوط ج14 ص34 ، فتاوی عالمگیری ج3 ص 100میں ہے: والنظم من الهندية وعارية كل شيئ يجوز قرضہ ،تو امس وشمس کی طرح واضح ولائح ہوا کہ قرض ِگندم جائز ہے ۔ (فتاوٰی نوریہ، جلد 4 ص 128،129،130)

    الدرالمختار میں ہے: وفيها استقراض العجين وزنا يجوز۔ ترجمہ: قنیہ میں ہے، گوندھا ہوا آٹا وزن کرکے قرض دینا جائز ہے۔

    اسکے تحت شامی میں ہے: (قوله استقراض العجين وزنا يجوز) هو المختار مختار الفتاوى واحترز بالوزن عن المجازفة، فلا يجوز بحر ۔ ترجمہ:ماتن کا قول (گوندھا ہوا آٹا وزن کرکے قرض دینا جائز ہے) یہی مختار ہے، مختار الفتاوٰی میں ہے اوروزن بول کر اندازے سے احتراز کیا ہے لہذا اندازے سے جائز نہیں۔ بحر ۔(رد المحتار علی الدر المختار شرح تنویرالابصار ، جلد5 ص 167)

    خمیرہ کے بارے میں الدرالمختار میں ہے: وينبغي جوازه في الخميرة بلا وزن سئل رسول الله صلى الله عليه وسلم عن خميرة يتعاطاها الجيران أيكون ربا فقال ما رآه المسلمون حسنا فهو عند الله حسن وما رآه المسلمون قبيحا فهو عند الله قبيح۔ ترجمہ:اور خمیرہ (آٹے کا چھان)میں بغیر وزن کے قرض جائز ہونا چاہیے، رسول اللہ ﷺ سے خمیرہ کے بارے میں سوال کیا گیا کہ پڑوسی ایک دوسرے کو (بطورِ قرض)دیتے ہیں کیا یہ سود ہے؟ تو رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جسکو مسلمان اچھا سمجھیں تو وہ اللہ کے نزدیک بھی اچھی ہے اور جس کو برا سمجھیں وہ اللہ کے ہاں بھی بری ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار شرح تنویرالابصار ، جلد5 ص 167)

    ہم جنس اشیاء کا نصف صاع سے کم میں كمي زیادتی کے ساتھ لین دین جائز ہے ۔ چنانچہ فتاوٰی ہندیہ میں ہے: و يجوز بيع الحفنة بالحفنتين والتفاحة بالتفاحتين، وما دون نصف صاع في حكم الحفنة۔ ترجمہ:اور ایک یا دو مٹھی کی بیع اور ایک سیب کی دو سیب کی بیع جائز ہے اور جو نصف صاع سے کم ہووہ مٹھی بھر کے حکم میں ہے۔ ( الفتاوى الھندیۃ : كتاب البيوع ، الباب التاسع، الفصل السادس في تفسير الربا وأحكامه، جلد 3 ص 117، رشیدیه، كوئٹه)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ: محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:29 رجب المرجب 1444 ھ/21 فروری 2023 ء