نانی کی سوتیلی بہن سے نکاح
    تاریخ: 21 فروری، 2026
    مشاہدات: 1
    حوالہ: 826

    سوال

    ایک شخص جس کا نام محمد میاں ہے اسکی دو بیویاں ہیں ۔ ایک کا نام اختری دوسری کا نام شیریں ہے ۔ دونوں سے ایک ایک بیٹی ہے اختری بیگم سے رشیدہ اورشیریں سے سدرہ ہے پھر رشیدہ کی شادی ہوئی اسکی ایک بیٹی قیصر ہے جس کا نکاح محمد میاں کی بہن کے بیٹے محمد عابد سے ہوا ۔ اب محمد عابد اورقیصر میاں بیوی ہیں ان سے ایک لڑکا اسامہ پیدا ہوا ۔ اب اسامہ کا نکاح سدرہ ہے ہورہا ہے کیا یہ نکاح جائز ہے یا نہیں ؟سائل: عبداللہ : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    مذکورہ صورت میں نکاح ناجائز و حرام ہے ، کیونکہ یہ درحقیقت ماں کی خالہ سے نکاح ہے ،جس طرح ماں کی بہن (یعنی خالہ خواہ سگی ہو یا سوتیلی) سے نکاح حرام ہے بعینہ ماں کی ماں کی بہن( یعنی ماں کی خالہ خواہ سگی ہو یا سوتیلی)سے نکاح حرام ہے، کہ یہ بھی اس کے لئے خالہ کا حکم رکھتی ہے ، اس پر تمام فقہاء کا اجماع ہے،خالہ کے بارے میں ارشاد باری تعالٰی ہے :حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالَاتُكُمْ۔ ترجمہ: حرام ہوئیں تم پر تمہاری مائیں ،اور بیٹیاں ، اور بہنیں اور پھوپھیاں اور خالائیں۔ (سورۃ النساء : 23)

    علامہ ابومحمدعبداللہ بن احمدبن محمدبن قدامہ حنبلی فرماتے ہیں: وَأَخَوَاتُ الْجَدَّاتِ وَإِنْ عَلَوْنَ وَقَدْ ذَكَرْنَا أَنَّ كُلَّ جَدَّةٍ أُمٌّ، فَكَذَلِكَ كُلُّ أُخْتٍ لِجَدَّةٍ خَالَةٌ مُحَرَّمَةٌ؛ لِقَوْلِهِ تَعَالَى {وَخَالاتُكُمْ} ترجمہ: اور نانیوں،دادیوں کی بہنیں بھی حرام ہیں ۔اگر چہ اوپر کتنے درجہ ہوں۔اور ہم نے ذکر کیا کہ جدہ ماں کے حکم میں ہے۔ یوں ہی جدہ کی ہر بہن خالہ کے حکم میں ہے جوکہ اللہ تعالٰی کے فرمان وخالاتکم کی وجہ سے حرام ہے۔(المغنی لابن قدامہ ، جلد 7 ص 110،بیروت لبنان )

    علامہ ابن عابدین شامی حاشیۃ البحر میں فرماتے ہیں : وَلَا يَحِلُّ تَزَوُّجُ أُخْتَ أُمِّ الْأُمِّ۔ ترجمہ:اور نانی کی بہن سے نکاح حلال نہیں ہے۔(منحۃ الخالق علی البحر الرائق ،کتاب النکاح جلد 3 ص 100)

    سیدی اعلٰی حضرت سے سوال کیا گیا :سوتیلی خالہ سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں:خالہ سگی ہو یا سوتیلی، مثل ماں کے حرام قطعی ہے، قال اللہ تعالٰی:وخالتکم(اور تمھاری خالائیں۔)

    درمختارمیں ہے: الاشقاء وغیرھن(سوتیلی وغیرہ)(فتاوٰی رضویہ ،کتاب النکاح جلد 11 ص 437،رضا فاؤڈیشن لاہور)واللہ تعالٰی اعلم بالصواب


    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمد زوہیب رضا قادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 26 محرم الحرام 1441 ھ/26 ستمبر 2019 ء