منکوحہ کے والد کا نام نہ لینا 2

    Mankooha ke walid ka naam na lena

    تاریخ: 17 اپریل، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 1144

    سوال

    نکاح کی مجلس میں تمام شرعی گواہ اور اولیاء و محارم موجود تھے۔ ابتدائی کارروائی کے طور پر برائیڈل روم Bridal Room میں دلہن کے والد اور دونوں شرعی گواہوں کی موجودگی میں دلہن سے دولہا کا پورا نام لے کر اجازت لی گئی، دلہن نے تین بار قبول کیا اور حقِ مہر کی رقم بھی دلہن کے حوالے کر دی گئی۔ والد نے باقاعدہ اجازت لے کر نکاح رجسٹر کی کارروائی مکمل کروائی۔ اس کے بعد اسٹیج پر پہنچ کر قاضی صاحب نے والد سے اجازت لی اور دلہن کے والد سے تین بار ایجاب و قبول کروایا کہ: "آپ کی بیٹی (دلہن کا نام) کا نکاح (دولہا کا نام) سے کیا جاتا ہے، کیا آپ کو قبول ہے؟" والد نے دو بار کہا: "قبول ہے" اور تیسری بار بیٹی کا نام لے کر کہا: "میری بیٹی کو قبول ہے"۔ اس کے بعد قاضی صاحب نے دولہا سے ایجاب و قبول کرواتے وقت صرف دلہن کا نام لیا، لیکن دلہن کے والد کا نام (یعنی بنتِ فلاں) لینا بھول گئے، جبکہ حقِ مہر اور گواہوں کی موجودگی کا ذکر کرتے ہوئے دولہا کا پورا نام لے کر اس سے تین بار قبول کروایا۔ دریافت یہ کرنا ہے کہ: کیا دولہا سے ایجاب و قبول کے وقت دلہن کے والد کا نام نہ لینے (صرف دلہن کے نام پر اکتفا کرنے) سے نکاح کی صحت پر کوئی اثر پڑتا ہے؟ شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا یہ نکاح شرعاً درست اور مکمل ہو گیا ہے؟

    سائل :صفدر اقبال :کراچی

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    یہ نکاح شرعاً بالکل درست، صحيح اور مکمل ہو چکا ہے۔ کیونکہ نکاح کے منعقد ہونے کے لیے ایجاب و قبول کے وقت عاقدین (دلہن اور دولہا) کی تعیین شرط ہوتی ہے تاکہ کسی قسم کا ابہام باقی نہ رہےخواہ وہ تعیین نام کے ذریعے ہو یا اشارے کے ذریعے ہو۔ چونکہ مجلسِ نکاح میں دلہن کی تعیّن بالکل واضح تھی، وہ سب کے علم میں تھی اور والد سے اجازت بھی لی جا چکی تھی، نیز ایجاب و قبول کے وقت دلہن کا اپنا نام صراحت کے ساتھ لیا گیا۔ تمام شرعی گواہ، اولیاء اور مجلس کے حاضرین کو علم تھا کہ کس کا نکاح کس کے ساتھ ہو رہا ہے، اس لیے دولہا سے ایجاب و قبول کرواتے وقت دلہن کے ساتھ اس کے والد کا نام (بنتِ فلاں) نہ لینےسے تعیّن پر کوئی اثر نہیں پڑتا حتی کہ بعض صورتوں میں اگرعاقدین میں لڑکی متعین ہواور گواہوں کو اسکا علم ہو تو بغیر نام لئے بھی نکاح منعقد ہوجاتا ہے۔ لہٰذا اس سے نکاح کی صحت پر کوئی منفی اثر نہیں پڑتا اور نکاح شرعاً بلا کلام نافذ ہو چکا ہے۔

    شامی میں ہے: قلت : وظاهره أنها لو جرت المقدمات على معينة وتميزت عند الشهود أيضا يصح العقد وهي واقعة الفتوى ، لأن المقصود نفي الجهالة ، وذلك حاصل بتعينها عند العاقدين والشهود، وإن لم يصرح باسمها۔ ترجمہ: میں نے کہا: اور ظاہر یہ ہے کہ اگر پیشگی بات چیت کسی معین عورت کے بارے میں چلی ہو اور گواہوں کے نزدیک بھی اس کی تعیین ہو چکی ہو، تو عقد درست ہو جائے گا اور یہی فتوٰی کی حقیقت ہے، کیونکہ مقصود جہالت کی نفی ہے اور وہ عاقدین اور گواہوں کے نزدیک اس عورت کی تعین سے حاصل ہو جاتی ہے، اگرچہ اس کے نام کی صراحت نہ کی گئی ہو۔(شامی، جلد 3 ص 15 ، دارالفکر، بیروت)

    محیط برہانی میں ہے:امرأة وكلت رجلاً ليزوجها من نفسه، فذهب الوكيل، وقال لجماعة: اشهدوا أني قد تزوجت فلانة ولم يعرف الشهود فلانة لا يجوز النكاح ما لم يذكر اسمها واسم أبيها، واسم جدها، لأنها غائبة، والغائب لا يعرف إلا بهذه الأشياء.....فأما إذا كانوا يعرفونها وذكر الزوج اسمها لا غير جاز النكاح، وإن كانت غائبة إذا عرف الشهود أنه أراد به المرأة التي عرفوها لأن المقصود هو التعريف وقد حصل التعريف بمجرد ذكر الاسم۔ ترجمہ: ایک عورت نے ایک شخص کو وکیل بنایا تاکہ وہ اپنے آپ سے اس کا نکاح کر دے، تو وکیل گیا اور لوگوں کی ایک جماعت سے کہا: تم گواہ رہو کہ میں نے فلاں عورت سے نکاح کر لیا، اور گواہ اس فلاں عورت کو نہ جانتے ہوں، تو جب تک اس کا نام، اس کے باپ کا نام اور اس کے دادا کا نام نہ بتایا جائے نکاح جائز نہیں ہوگا، کیونکہ وہ غائب ہے اور غائب کی پہچان انہی چیزوں سے ہوتی ہے۔… پس بہرحال اگر گواہ اس عورت کو جانتے ہوں اور شوہر صرف اس کا نام ذکر کرے تو نکاح جائز ہے، اگرچہ وہ غائب ہو، جب کہ گواہ یہ بات جانتے ہوں کہ اس کی مراد وہی عورت ہے جسے وہ جانتے ہیں، کیونکہ مقصد تو شناخت قائم کرنا ہے اور صرف نام کے ذکر سے شناخت حاصل ہو چکی ہے۔(المحیط البرہانی، کتاب النکاح،الفصل الخامس: في تعريف المرأة والزوج في العقد بالتسمية أو الإشارة، ج:3، ص:18-19،دار الكتب العلمية، بيروت)

    بر سبیلِ تنزل جب قاضی نے لڑکی کے پاب کی اجازت سے دولہے کا نام لیکر تین بار ایجاب کروالیا تو یہ نکاح فضولی ہوگیا جو کہ دولہے کی اجازت پر موقوف تھا بعد ازاں دولہے نے اسے قبول کرلیا تو اس صورت میں بھی یہ نکاح منعقد ہوگیا ۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    الجـــــواب صحــــیـح

    ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ

    محمد زوہیب رضا قادری

    18 ربیع الثانی 1448ھ/ 01 اکتوبر 2026 ء