فتویٰ

    ہمار ہاں مسجد میں امام صاحب ک پاس عورتیں اپن بچوں کو یا خود کو دم کروان آتی ہیں میرا سوال ہ کہ کیا امام صاحب کا عورتوں کو دم کرنا جائز ہ واضح رہ کہ امام صاحب عورتوں ک ساتھ خلوت میں نہیں ہوت بلکہ بعد مغرب مسجد میں ہی ہوت ہیں جہاں ان ک پاس عورتیں آتی ہیں اور کیا امام صاحب ک پیچھ نماز ہو جائ گی

    تاریخ: 25 فروری، 2026
    مشاہدات: 3
    حوالہ: 872

    سوال

    ہمارے ہاں مسجد میں امام صاحب کے پاس عورتیں اپنے بچوں کو یا خود کو دم کروانے آتی ہیں ، میرا سوال ہے کہ کیا امام صاحب کا عورتوں کو دم کرنا جائز ہے ؟ واضح رہے کہ امام صاحب عورتوں کے ساتھ خلوت میں نہیں ہوتے بلکہ بعد مغرب مسجد میں ہی ہوتے ہیں ، جہاں ان کے پاس عورتیں آتی ہیں ۔ اور کیا امام صاحب کے پیچھے نماز ہو جائے گی ؟

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت کا شرعی حکم یہ ہے کہ فی نفسہٖ دم کرنا اور کروانا، خواہ پیسوں کے عوض ہو یا فی سبیل اللہ، جائز ہے۔ البتہ اگر یہ دم پیسوں کے عوض کیا جائے تو مسجد میں اس طرح دم کرنا اور کروانا جائز نہیں؛ کیونکہ مسجد خالص اللہ عزوجل کے ذکر کے لیے ہے، نہ کہ معاملات اور خرید و فروخت کی جگہ۔رہا عورتوں کا مسجد میں آ کر دم کروانا، تو یہ متعدد شرعی قباحتوں کی بنا پر منع ہے ، مثلاً: عورتوں کا بغیرِ پردۂ شرعی مسجد میں آنا، حالتِ حیض میں داخل ہونا، اور ایسے بچوں کو ساتھ لانا جو مسجد میں شور و غل یا شرارت کریں، جس سے مسجد کے تقدس کی پامالی ہو یا اس کے ناپاک ہونے کا اندیشہ ہو، لہٰذا ان مفاسد کی وجہ سے عورتوں کا مسجد میں آ کر دم کروانا منع ہے ۔مزید یہ کہ اگر عورتیں بے پردہ ہو کر آئیں اور امام اپنی نگاہوں کی حفاظت نہ کرے اور نہ ہی انہیں بے پردگی سے منع کرے تو امام گناہ گار ہوگا، اور اگر وہ اعلانیہ طور پر ایسا کرے تو فاسقِ معلن قرار پائے گا۔اس کے پیچھے نماز پڑھنا مکروہ تحریمی واجب الاعادہ ہوگی البتہ اگر امام میں یہ قباحتیں نہ پائی جائیں، احکامِ شرعیہ کا پابند ہو تو ایسے شخص کو امام بنانا بھی جائز ہے اور اس کے پیچھے نماز پڑھنا بھی بلا کراہت جائز ہے۔

    دَم کرانا اور اس کے عوض رقم لینا جائز ہے اس بارے'صحیح بخاری' میں حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے فرماتے ہیں:”أن نفرا من أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم مروا بماء فيهم لديغ أو سليم فعرض لهم رجل من أهل الماء فقال هل فيكم من راق إن في الماء رجلا لديغا أو سليما فانطلق رجل منهم فقرأ بفاتحة الكتاب على شاء فبرأ فجاء بالشاء إلى أصحابه فكرهوا ذلك وقالوا أخذت على كتاب الله أجرا حتى قدموا المدينة فقالوا يا رسول الله أخذ على كتاب الله أجرا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن أحق ما أخذتم عليه أجرا كتاب الله “.ترجمہ: صحابہ کرام علیہم الرضوان کی ایک جماعت کسی گھاٹ سے گزری،جس میں سانپ یا بچھو کا ڈسا ہوا شخص تھا،گھاٹ والوں میں سے ایک شخص صحابہ کرام علیہم الرضوان کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کرنے لگا: کیا تم میں سے کوئی دَم کرنے والا ہے؟ کیونکہ گھاٹ میں ایک شخص سانپ یا بچھوکا کاٹا ہوا ہے۔ صحابہ کرام علیہم الرضوان میں سے ایک صحابی ان کے ساتھ چلے گئے اور بکریاں لینے کی شرط پر سورۂ فاتحہ کے ذریعے دَم کیا، تو وہ شخص ٹھیک ہو گیا، دَم کرنے والے صحابی دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان کے پاس (دَم کے بدلے وصول کی جانے والی) بکریاں لے کر آئے، تو دیگر صحابہ کرام علیہم الرضوان نے اسے ناپسند کیا اور کہا کہ تم نے کتاب اللہ پر اُجرت لی ہے،جب مدینہ شریف میں آئے ،تو سرکار صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہو کر عرض کی کہ فلاں صحابی نے کتاب اللہ پر اُجرت لی ہے، تو حضور ِاکرم صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جن چیزوں پر تم اُجرت لیتے ہو ان میں زیادہ حقدار کتاب اللہ ہے ۔(صحیح بخاری،حدیث 5737، صفحہ 937، ریاض)

    مساجد میں خریدوفروخت کرنا ،بچوں اور پاگلوں کو لانے سے منع کیا گیا 'سنن ابن ماجہ 'میں اس بارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان عالی شان ہے :”جنبوا مساجدکم صبیانکم ومجانینکم وشراءکم وبیعکم وخصوماتکم ورفع اصواتکم واقامۃ حدودکم وسل سیوفکم واتخذوا علی ابوابھا المطاھر وجمروھا فی الجمع“.ترجمہ: مساجد کو بچوں ، پاگلوں، خرید و فروخت، جھگڑے، آوازیں بلند کرنے، حدود قائم کرنے، تلواریں کھینچنے سے بچاؤ اور ان کے دروازوں پر طہارت خانے بناؤ اور جمعہ کے دن مساجد کو دھونی دیا کرو۔(سننِ ابنِ ماجہ، باب ما يكره في المساجد،حدیث:750، دار إحياء الكتب العربية)

    دنیوی معاملات میں مشغول ہونا ،خریدو فروخت کرنا،کسی کام کرنے پر مسجد میں اجرت لینا جائز نہیں اس بارے ’’الجو ہرة النیرة ‘‘ میں ہے:’’ وَأَمَّا الْبَيْعُ وَالشِّرَاءُ لِلتِّجَارَةِ فَمَكْرُوهٌ لَلْمُعْتَكِفِ وَغَيْرِهِ إلَّا أَنَّ الْمُعْتَكِفَ أَشَدُّ فِي الْكَرَاهَةِ وَكَذَلِكَ يُكْرَهُ أَشْغَالُ الدُّنْيَا فِي الْمَسَاجِدِ كَتَحْبِيلِ الْقَعَائِدِ وَالْخِيَاطَةِ وَالنِّسَاجَةِ وَالتَّعْلِيمِ إنْ كَانَ يَعْمَلُهُ بِأُجْرَةٍ‘‘. ترجمہ : اور باقی رہا خرید و فروخت کرنا تجارت کے لیے تو یہ اعتکاف کرنے والے اورنہ کرنے والے دونوں کے لیے مکروہ ہے، البتہ اعتکاف کرنے والے کے لیے کراہت زیادہ ہے۔ اسی طرح مسجدوں میں دنیاوی کاموں میں مشغول رہنا بھی مکروہ ہے ، جیسے عورتوں کے لیے کپڑے سینا (یا گھریلو کام)، سلائی کرنا، بُنائی کرنا، اور تعلیم دینا جبکہ اس پر اجرت لی جائے۔(الجوہرة النیرة،باب الاعتكاف،ج:1،ص:147، المطبعة الخيرية)

    عورتوں کا حیض کی حالت میں مطلقا جانا منع ہے چاہےمسجد میں دم کرانے کی غرض سے ہو یا کسی اور غرض سے اس بارے 'الاختیار لتعلیل المختار ' میں ہے :’’ وَلَا يَجُوزُ لِلْجُنُبِ قِرَاءَةُ الْقُرْآنِ. وَيَجُوزُ لَهُ الذِّكْرُ وَالتَّسْبِيحُ وَالدُّعَاءُ، وَلَا يَدْخُلُ الْمَسْجِدَ إِلَّا لِضَرُورَةٍ، وَالْحَائِضُ وَالنُّفَسَاءُ كَالْجُنُبِ‘‘.ترجمہ:جنبی شخص کے لیے قرآن مجید کی قراءت کرنا جائز نہیں ذکر و تسبیح اور دعا کرنا جائز ہے ۔اور جنبی شخص مسجد میں بغیر کسی ضرورت کے داخل نہ ہوحیض اور نفاس والی عورت کا حکم بھی جنبی کی طرح ہے۔(الاختیار لتعلیل المختار ،ما يحرم على المحدث والجنب والحائض،ج:1،ص:13، دار الكتب العلمية)

    ایسے بچوں کو مسجد لانا جن سے مسجد کی ناپاکی یا شور و غل کا اندیشہ ہو، مکروہِ تحریمی ہےاس بارے در مختار میں ہے : وَيَحْرُمُ إدْخَالُ صِبْيَانٍ وَمَجَانِينَ حَيْثُ غَلَبَ تَنْجِيسُهُمْ وَإِلَّا فَيُكْرَهُ. ترجمہ: اور بچوں اور مجنونوں کو مسجد میں لانا حرام ہے جہاں ان سے مسجد کے ناپاک ہونے کا غالب گمان ہو، ورنہ مکروہ ہے ۔( رد المحتار ،ج:1،ص:156،دار الفکر بیروت)

    فاسق کی امات مکروہ تحریمی ہے اس بارے 'مراقی الفلاح' میں ہے:’’و» لذا كره إمامة «الفاسق» العالم لعدم اهتمامه بالدين فتجب إهانته شرعا فلا يعظم بتقديمه للإمامة ‘‘.ترجمہ:اور اسی لیے فاسق عالم کی امامت مکروہ ہے، کیونکہ وہ دین کی پرواہ نہیں کرتا، لہٰذا شرعاً اس کی اہانت کرنا واجب ہے، پس اسے امامت کے لیے آگے بڑھا کر تعظیم نہ دی جائے۔(مراقی الفلاح، فصل في الأحق بالإمامة وترتيب الصفوف ،ج:،ص:115، المكتبة العصرية )والله تعالى اعلم بالصواب