نازیبا کلمات اور گالیاں دینے والے امام کی امامت کا حکم
نازیبا کلمات اور گالیاں دینے والے امام کی امامت کا حکم
تاریخ: 21 اکتوبر، 2025
مشاہدات: 5
حوالہ: 19
سوال
محترم المقام جناب مفتی……………………………………………….. صاحب
سوال :کیا فرماتے ہیں علمائے اہلسنت بیچ اس مسئلے کے؟
مسجد کے امام و خطیب جو کہ عالم دین بھی ہیں اور گزشتہ تقریبا 20 سال سے امامت کے شعبے سے وابستہ ہیں مسجد انتظامیہ کے ساتھ کچھ انتظامی امور کے مسائل کے چلتے انتظامیہ کے ایک خاص فرد کو اور پوری انتظامیہ کو بھی مسجد کے باہر کھڑے ہوکر،مسجد کےعین اندر موجود ہو کر بھی اور یہاں تک کہ مصلے پر کھڑے ہو کر بھی، بغیرت ،خبیث ،ذلیل، کمینے اور کتے وغیرہ کی طرح عام گالیوں کے ساتھ ساتھ انتہائی فحش اور نازیبہ کلمات ادا کرنےوالے اور گالیاں دینا والے شخص کے پیچھے نماز ادا ہو جائے گی اور کیا ایسا شخص امامت کے عہدے کا اہل ہے یا نہیں رہنمائی فرمائیے؟
(مندرجہ بالا واقعات کے گواہان موجود ہیں۔)
جو فحاش الفاظ ادا کیے گئے اور گالیاں دی گئیں وہ مندرجہ ذیل ہیں۔
• بہن کے ساتھ بدفعلی کرنے والی گالی۔
• ماں کے ساتھ بد فعلی کرنے والی گالی۔
• اپنا نام لے کر ایسا کہنا کہ "مجھے چو٭٭ مت سمجھنا"۔
• میں اندر ہاتھ ڈال کے پنجا کھول دوں گا اور(" گ " والی گالی دے کر کہنا کہ)پھاڑ دونگا۔
• اجتماعی طور پر پوری انتظامیہ کا حوالہ دے کے کہنا کہ سب کی ماں کے ساتھ بدفعلی کردونگا۔
• میں کوئی سرائیکی یا باہر والا امام نہیں ہوں،یہیں کا ہوں ایسی تیسی کر دوں گا ایسا کہنا۔
سوال : اس طرح کے تمام جہالت سے بھرے ہوئے الفاظ ادا کرنے والے شخص پر امامت جائز ہے؟
سوال:اور اہل ِ محلہ کے لئے اس طرح کی باتیں ایک امام کے منہ سے سننّے کے بعد ان کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ مسئلے کے لیے فریقین کے ساتھ دار الافتاء سیلانی تشریف لائیں کہ نزاعی اور اختلافی موضوعات کا یک طرفہ جواب نہیں دیا جا تا۔