زکوۃ کی مد دئے جانے قرض سے زکوۃادا نہیں
    تاریخ: 21 فروری، 2026
    مشاہدات: 4
    حوالہ: 823

    سوال

    1:کاروبار میں نقصان ہوجانے کی وجہ سے میں قرضدار ہوچکا ہوں ، میرا بھائی مجھے زکوۃ دینا چاہتا ہے تاکہ میں قرض ادا کرسکوں تو کیا مجھے زکوۃ دینے سے بھائی کی زکوۃ ادا ہوجائے گی یا نہیں ؟

    2: میرے ایک اور بھائی کا بھی مجھ پر قرض ہے کیا وہ زکوۃ میں میرا قرض معاف کرسکتے ہیں یا نہیں ؟ رہنمائی فرمائیں ۔

    سائل: نعمان احمد : کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    1:اگر آپ شرعی فقیر ہیں یعنی اگر آپ کے پاس اتنا مال نہیں جو زکوۃ کے نصاب کو پہنچ جائے(اور زکوۃ کا نصاب سونے کے حساب سے ساڑھے سات تولہ سونا، چاندی کے حساب سے ساڑھے باون تولہ چاندی یا ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر رقم ہے، یا مال تجارت ہے جس کی مقدار چاندی کے نصاب کو پہنچ جائے )یااتنا مال تو ہے جو نصاب کی مقدار کے برابر ہے لیکن اسکی حاجت اصلیہ (ضروریاتِ زندگی مثلا رہنے کا مکان، خانہ داری کا سامان، سواری بائک وغیرہ) میں مستغرق(گھرا ہوا ہے)ہے۔ تو آپ کو زکوۃ دینے سے آپکے بھائی کی زکوۃ ادا ہوجائے گی، بلکہ دوسروں کو دینے کی بجائےآپ کو زکوۃ دی جائے کیونکہ آپکے بھائی کو اس طرح دگنا ثواب ملے گا ایک زکوۃ دینے کا اور دوسرا صلہ رحمی (رشتے داروں کے ساتھ حسن سلوک کرنے) کا۔

    ؎رشتے داروں میں سے ماں،باپ،دادا دادی،نانا،نانی،بیٹا ،بیٹی،پوتا ،پوتی،میاں ،بیوی کے علاوہ سب تمام رشتہ داروں کو زکوۃ دینا جائز ہے جو شرعی فقیر ہوں ۔

    فتح القدیر میں ہے:وَسَائِرُ الْقَرَابَاتِ غَيْرُ الْوِلَادِ يَجُوزُ الدَّفْعُ إلَيْهِمْ، وَهُوَ أَوْلَى لِمَا فِيهِ مِنْ الصِّلَةِ مَعَ الصَّدَقَةِ كَالْإِخْوَةِ وَالْأَخَوَاتِ وَالْأَعْمَامِ وَالْعَمَّاتِ وَالْأَخْوَالِ وَالْخَالَاتِ،ترجمہ: اور تمام رشتے داروں (ماسوائے ان کے جن کا اوپر ذکر ہوا) کو زکوۃ دینا جائز ہے، بلکہ انکو دینا اولیٰ ہے کیونکہ اس میں صدقہ کے ساتھ ساتھ صلہ رحمی بھی ہے ،جیسے بھائی،بہن،چچا،پھپو،خالہ،ماموںوغیرہ۔(فتح القدیر باب من یجوز دفع الصدقۃ الیہ جلد 2 ص 270 الشاملہ)

    سیدی اعلیٰ حضرت فتاویٰ رضویہ میں لکھتے ہیں :یا اپنے بہن ، بھائی،چچا،پھوپھی، خالہ ،ماموں، بلکہ انھیں دینے میں دُونا ثواب ہے زکوٰۃ وصلہ رحم(فتاویٰ رضویہ کتاب الزکوۃ جلد 10 ص 110 رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    2:قرض میں دی ہوئی رقم کو زکوۃ میں شمار کرنے سے زکوۃ ادا نہیں ہوگی ، بلکہ اس کی یہ صورت ہوسکتی ہے کہ آپکے بھائی زکوۃ کی رقم آپکو دے کر مالک بنادیں پھر جب آپ زکوۃ کی رقم پر قبضہ کرلیں پھر آپکے بھائی وہ رقم آپ سے قرض وصولی کی مد میں لے لیں ۔ اس طرح زکوۃ بھی ادا ہوجائے گی اور قرض بھی اتر جائے گا۔

    چناچہ در مختار میں ہے :وَحِيلَةُ الْجَوَازِ أَنْ يُعْطِيَ مَدْيُونَهُ الْفَقِيرَ زَكَاتَهُ ثُمَّ يَأْخُذَهَا عَنْ دَيْنِهِ۔ترجمہ:اور جواز کا حیلہ یہ ہے کہ اپنے قرضدار فقیر کو اپنی زکوۃ دے پھر وہ زکوۃ قرض کی مد میں واپس لے لے۔(الدرالمختار کتاب الزکوۃ جلد 2 ص 221)

    صدرالشریعہ مفتی امجد علی اعظمی فرماتے ہیں :فقیر پر قرض تھا معاف کر دیا اور یہ نیّت کی کہ فلاں پر جو دَین ہے یہ اُس کی زکاۃ ہے ادا نہ ہوئی۔(بہار شریعت ،جلد 01 ص 889،المدینہ)

    اسی میں ایک اور مقام پر ہے:فقیر پر قرض ہے اس قرض کو اپنے مال کی زکاۃ میں دینا چاہتا ہے یعنی یہ چاہتا ہے کہ معاف کر دے اور وہ میرے مال کی زکاۃ ہو جائے یہ نہیں ہوسکتا، البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ اُسے زکاۃ کا مال دے اور اپنے آتے ہوئے میں لے لے۔( بہار شریعت ،جلد 01 ص 890،المدینہ)

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری

    الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:16 ربیع الثانی1441 ھ/14 دسمبر2019ء