سوال
تین سال قبل میں نے اپنی بیوی کو ایک طلاق دی تھی پھر دورانِ عدت رجوع کرلیا تھا ، پھر 9 ماہ قبل دوسری طلاق دی اور عدت ختم ہونے پر نیا نکاح کر لیاتھا۔ اسکے بعد دوبارہ لڑائی ہونے پر میں نے کہا کہ اب اگر بدتمیزی کی اور زبان چلائی تو تیسری طلاق خود ہوجائے گی۔اس وقت بیوی دوسرے کمرے میں تھی اور چینخ اور چلا رہی تھی ۔ اور وہ اسکے بعد بھی مسلسل بولتی رہی۔ میں نے مسجد کے امام صاحب سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ ان الفاظوں سے طلاق ہوجائے گی لہذا تم اپنے الفاظ واپس لے لوتو میں نے اپنے الفاظ واپس لے لئے ۔ لیکن مجھے لوگوں نے کہا کہ تم فتوٰی لے لو اس لئے مجھے فتوٰی چاہیے کہ تیسری طلاق ہوئی یا نہیں ہوئی۔
سائل: ابراہیم شیخ: کراچی۔
نوٹ: بیوی سے بات کی گئی تو اس نے کہا کہ میں نے شوہر کے یہ الفاظ '' اب اگر بدتمیزی کی اور زبان چلائی تو تیسری طلاق خود ہوجائے گی'' اس وقت نہیں سنے تھے مجھے ابھی پندرہ دن پہلے معلوم ہوا ہے اور اس کے بعد میں نے کسی طرح کی بدتمیزی نہیں کی۔جبکہ شوہر کا کہنا ہے کہ بیوی نے اس وقت اور اسکے بعد دونوں طرح بدتمیزی کی ہے۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ صورتِ حال میں عورت کو تیسری طلاق واقع ہوگئی ہے کیونکہ مرد کے قول '' اب اگر بدتمیزی کی اور زبان چلائی تو تیسری طلاق خود ہوجائے گی''کے بعد عورت کی جانب سے بدتمیزی اور زبان درازی پائی گئی ہے۔ شرط کاعورت کے علم میں ہوناضروری نہیں بلکہ وقوعِ طلاق کے لئے اس شرط کا وجود کافی ہے جس پر مرد نے طلاق کو معلق کیا ہے۔
اب عورت مرد پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہے اب دونوں کا آپس میں بغیر حلالہ شرعیہ کے رہنا ناجائز و حرام ہے۔
طلاق کے فورا بعد ہی عورت کی عدت شروع ہوگئی ہے، عدت کی تفصیل یہ ہے کہ اگر عورت حاملہ نہیں ہے تو مکمل تین حیض عدت گذارنا ضروری ہے، اگر حیض نہ آتا ہو تو تین ماہ گزارے ۔اور اگر عورت حاملہ ہے تو اس کی عدت وضع حمل ہے، یعنی طلاق کے بعد جب بچہ پیدا ہوجائے جب اس کی عدت پوری ہوگی۔
طلاق کو کسی شرط (condition)پر مشروط کرنا تعلیق ِطلاق کہلاتا ہے اور تعلیق کے معنٰی یہ ہیں کہ کسی چیز کا ہونا دوسری چیز کے ہونے پر موقوف کیا جائے یہ دوسری چیز جس پر پہلی موقوف ہے اس کو شرط کہتے ہیں جبکہ عام حالات میں بغیر کسی شرط کے جو طلاق دی جاتی ہے وہ تنجیزا طلاق دینا کہلاتا ہے ۔تنویر الابصار مع الدر المختار (باب التعلیق ،ج:3ص:341،طبع:دار الفکر ،بیروت)میں تعلیق کی تعریف ان الفاظ میں کی ہے : ربط حصول مضمون جملة بحصول مضمون جملة أخرى۔اعلٰی حضرت امام اہلسنت علیہ الرحمہ اس عبارت کی وضاحت کر تے ہو ئے فر ما تے ہیں :تعلیق ربطِ مضمونِ جملہ بمضمونِ آخر ہے نہ کہ خبطِ مضمون بربطِ آخر ان دخلت الدار فانت طالق (اگر تو گھر میں داخل ہو تو تجھے طلاق) کہنے والے نے انت طالق کے مفادِ شرعی کو دخولِ دار پر معلق کیا تو ہنگامِ دخول اسی مفاد کا نزول ہوگا۔(اور وہ طلاق ہے)۔(فتاوی رضویہ ،باب التعلیق ،ج13ص137)
اور تعلیق کا حکم یہ ہے کہ جس چیز پر طلاق کو معلق کیا ہے اس چیز کے وجود کےبعد طلاق واقع ہوجائے گی۔چناچہ الہدایہ مع البنایہ میں ہے:(وإذا أضافه) أي أضاف الرجل الطلاق (إلى شرط وقع عقيب الشرط، مثل أن يقول لامرأته إن دخلت الدار فأنت طالق) لأن المعلق بالشرط كالمنجز عند وجود الشرط (وهذا بالاتفاق)ترجمہ:جب کوئی شخص طلاق کو معلق کر دے کسی شرط پر تو شرط کے پائے جانے پر واقع ہو جائے گی جیسے کوئی شخص اپنی بیوی سے کہے "اگر تو گھر میں داخل ہوئی تو طلاق والی ہے "اور یہ اس لیے ہے کہ کسی شیء کو شرط کے ساتھ معلق کرنا ایسا ہی ہے جیسے شرط کے پائے جانے پر نافذ کرنا ،اور اس پر سب کا اتفاق ہے ۔( الہدایہ مع البنایہ ،باب الایمان فی الطلاق ،ج:5،ص:413،طبع:دارالکتب العلمیہ)
سیدی اعلٰی حضرت سے سوال کیا گیا: زید نے اپنی زوجہ ہندہ کے پدر سے کسی تذکرہ میں کہا تھا کہ اگر میری بیوی فلاں مکان میں جائے گی تو میری بیوی ہی نہ رہے گی پھر اس کے چند روز بعد دوسرے جلسے میں زید نے پدرِ ہندہ سے الفاظ مذکورہ دوبارہ پھر ادا کئے کہ ہندہ اگر فلاں مکان میں جائے گی تو میری بی بی ہی نہ رہے گی، بعد تھوڑے عرصہ کے ہندہ بلارضا مندی اپنے شوہر کے اس مکان میں چلی گئی جس کی بابت زید دومرتبہ دو جلسوں میں پدر ہندہ سے عدمِ رضا مندی اپنی ظاہر کرچکا تھا اور اب عرصہ پانچ ماہ سے ہندہ اسی مکان میں مقیم ہے،پس اس صورت میں نکاح زید سے قائم رہا یانہیں؟
آپ جوابا ارشاد فرماتے ہیں: اگر زید نے وہ الفاظ دونوں بار خواہ ایک بار بہ نیت ایقاعِ طلاق کے کہے تھے یعنی یہ مطلب تھا کہ اگر وہ وہاں جائے تو اس پر طلا ق ہے تو وہاں جانے سے عورت پر ایک طلاق بائن ہوگی۔(فتاوٰی رضویہ، کتاب الطلاق ، باب التعلیق جلد 12 ص 208)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:04 ربیع الاول 1443 ھ/11 اکتوبر 2021 ء