طلاق دینے میں شک ہو تو کیا حکم ہے ؟
    تاریخ: 6 جنوری، 2026
    مشاہدات: 48
    حوالہ: 529

    سوال

    میرا نام صادقین عارف اور بیوی کا نام آمنہ عروج بنت محمد سعید عالم ہے ۔بری صحبت کی وجہ سے میری نشہ کی عادت ہے ۔ میر ی بیوی اپنے والدین کے گھر تھی میں ایک دن اسے لینے گیا اورجاکر بیوی سے کہا کہ چلنا ہے یا نہیں یا ساتھ چلو بیوی نے کہا نہیں چلنا نشہ کی وجہ سے مجھےکچھ یاد نہیں کہ کیا الفاظ ادا کیے میری بیوی اور ساس کے مطابق یہ الفاظ ادا کیے ’’میں تمہیں طلاق دیتا ہوں میں تمہیں طلاق دیتا ہوں میں تمہیں طلاق دیتا ہوں ‘‘مجھے اپنی بیوی اورساس کےبیان پریقین ہے کہ وہ سچ بول رہی ہیں ،وہ اس معاملے میں جھوٹ نہیں بول سکتیں۔یہ فرمائیں کہ کیا طلاق واقع ہو گئی ؟ کتنی طلاقیں ہوئیں اور رجوع کی کیا صورت ہے ؟

    سائل :صادقین عارف :کراچی


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پوچھی گئی صورت میں آپ کی بیوی آمنہ عروج بنت محمد سعید عالم پر تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں اور وہ آپ پر حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہو چکی ہے اب بغیر شرعی حلالہ کے رجوع کی کوئی صورت نہیں ۔نشے کی حالت میں بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے جبکہ بلااکراہِ شرعی شراب وغیرہ نشہ آور اشیاء سے نشہ كياہواور دواکے طور پربھی نہ ہو۔

    تفصیل اس مسئلہ کی یہ ہے کہ جب طلاق دینے یا نہ دینے میں شک ہو کہ دی ہے یا نہیں دی ،تو جب تک شک ہی ہے توطلاق نہ دینا شمار ہو گا ہاں اگرخود کو ظن غالب ہو کہ دی ہے یا دوسروں کے بتانے پر طلاق دینے کاظن غالب ہو جائے یا شرعی گواہ گواہی دیں کہ طلاق دی ہے تو طلاق ہی شمار ہو گی ۔

    صورت مسئولہ میں عورت اس بات کی مدعیہ ہے کہ شوہر نے نشے کی حالت میں اسے تین طلاقیں دیدی ہیں، مگر عورت کے پاس اپنے دعوٰی پر شرعی گواہ موجود نہیں ہے ۔ گواہی کے لیے سب سے بنیادی چیز اس کا نصاب ہے یعنی کم ازکم دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتیں گواہی دیں اس نصاب کے بعد تزکیہ شہود و گواہی کے الفاظ وغیرہ دیگر اشیاء کو ملاحظہ کرنے کے بعد کوئی فیصلہ کیا جاتا ہے ،یہاںگواہی کا نصاب ہی مکمل نہیں کہ گواہوں میں فقط دو عورتیں ہیں جبکہ شوہر کا کہنا یہ ہے کہ میں نشے میں تھا، جس کی وجہ سے(طلاق دینا ، نہ دینا ) مجھے کچھ بھی معلوم نہیں ہے ۔ایسی صورت میں محض عورت کے بیان پر طلاق کا حکم نہیں دیا جاسکتا۔

    البتہ عورت کے بیان کی تصدیق سے متعلق شوہر کا ظن غالب ضرور معتبر ہے ۔ کیونکہ فقہیات میں ظن غالب ملحق بالیقین(یعنی یقین کے درجہ میں)ہے۔خاص طلاق کے معاملہ میں فقہاء صراحت فرماتے ہیں کہ طلاق کا محض و ہم و گمان ہو تو اس سے طلاق واقع نہیں ہوگی لیکن اگر ظن غالب ہوجائے تو اس صورت میں طلاق واقع ہوجائے گی ۔لہٰذا جب شوہربیوی کے بیان کوتسلیم کررہاہے اوراس کاظن غالب یہ ہے کہ عورت درست بیان دے رہی ہےتو اس ظن غالب کی وجہ سے تین طلاقیں واقع ہوگئی ہیں۔

    بدائع الصنائع میں ہے: ’’أما السکران إذا طلق امرأتہ فإن کان سکرہ بسبب محظور بأن شرب الخمر حتی سکر وزال عقلہ فطلاقہ واقع عند عامۃ العلماء وعامۃ الصحابۃ رضی اللہ عنہم‘‘یعنی نشہ کرنے والا جب اپنی بیوی کو طلاق دے تو اگر اس کا نشہ محظور شرعی کے سبب تھا اس طرح کہ اس نے شراب پی یہاں تک کہ اسے نشہ ہو گیا اور اسکی عقل زائل ہو گئی تواکثرعلماء کرام اور صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نزدیک اس کی طلاق واقع ہو جائے گی ۔(بدائع الصنائع، جلد4 ،صفحہ213، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ)

    درمختارمیں ہے :’’علم أنہ حلف ولم یدر بطلاق أو غیرہ لغا کما لو شک أطلق أم لاولو شک أطلق واحدۃ أو أکثر بنی علی الأقل۔ یعنی اتنامعلوم ہے کہ اس نے حلف اٹھایاتھالیکن یہ پتانہیں کہ طلاق کاحلف تھایاکسی اورچیزکاتویہ حلف لغوہے جیسے اگرطلاق دینے میں شک ہو،اوراگرشک ہوکہ آیاایک طلاق دی ہے یازیادہ توکم کولیاجائے گا ۔(درمختارمع ردالمحتار،ج3،ص283،مطبوعہ بیروت)

    الاشباہ والنظائر میں قاعدہ ثالثہ ’’الیقین لا یزول بالشک ‘‘کے تحت فرمایا :’’صرحوا فی الطلاق بأنہ اذا ظن الوقوع لم یقع،واذا غلب علی ظنہ وقع‘‘یعنی علماء نے اس قاعدہ کے تحت فرمایا کہ اگر طلاق کا فقط گمان ہے تو طلاق واقع نہ ہو گی ہاں اگر غالب گمان ہے تو طلاق واقع ہو جائے گی ۔ (الاشباہ والنظائر ’’ قاعدہ ثالثہ ’’الیقین لا یزول بالشک ‘‘ج01،ص223،مطبوعہ کراچی)

    صدرالشریعہ ،بدرالطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ الرحمہ طلاق میں شک کے متعلق فرماتے ہیں :’’ اس میں شک ہے کہ طلاق دی ہے یا نہیں تو کچھ نہیں اور اگر اس میں شک ہے کہ ایک دی ہے یا زیادہ تو قضاءً ایک ہے دیا نۃً زیادہ۔ اور اگر کسی طرف غالب گمان ہے تو اُسی کا اعتبار ہے اور اگر اس کے خیال میں زیادہ ہے مگر اُس مجلس میں جو لوگ تھے وہ کہتے ہیں کہ ایک دی تھی اگر یہ لوگ عادل ہوں اور اِس بات میں اُنھیں سچا جانتا ہو تو اعتبار کرلے۔ (بہار شریعت ،ج2(الف)ح8،ص125،مطبوعہ مکتبۃالمدینہ،کراچی)

    فتاوی فیض الرسول میں ہے : جب کہ اس بات میں شک ہے کہ دو طلاق دی ہیں یا تین، تو اس صورت میں دو ہی طلاق مانی جائیں گی ، جیسا کہ در مختار مع شامی جلد 2 صفحہ 454میں ہے: لو شک أطلق واحدا أو أكثر مبني على الأقل اور ایک شخص کی گواہی سے تین طلاق کا حکم نہ کیا جائے گا تا وقتیکہ دو عادل گواہوں سے اس کا ثبوت نہ ہو۔ البتہ اگر شوہر کو تین طلاق دینا یاد ہے مگر وہ حلالہ سے بچنے کے لئے اس طرح کا بیان دیتا ہے تو وہ زنا کار ومستحق نار ہوگا ۔ (فتاوی فیض الرسول جلد 2صفحہ 248 مطبوعہ شبیر برادر لاہور)

    شہزادۂ اعلیٰ حضرت مفتی ٔ اعظم ہندحضرت علامہ مفتی محمد مصطفےٰ رضاخان قادری نوری رحمۃ اللہ علیہ ایک سوال کے جواب میں ارشادفرماتے ہیں،’’اگراسے شک ہواوروہاں جوشخص موجودہواس کے بیان سے اسے ایک طرف گمان غالب ہوتوایک ہوئی اوراگراسے دوکاگمان غالب ہوخودیاوہاں جوہواس کے بیان سے تودوسمجھےاوراگرخوداپناگمان زیادہ کاہواورحاضرین جوعادل ہوں ان کابیان کم کاہوپھران کاصدق اس کے دل پرجمے توایک ہی سمجھ سکتاہے۔(فتاوٰی مصطفویہ ، صفحہ 371، مطبوعہ :شبیر برادرز ، لاہور )

    تین طلاقیں واقع ہونے کے بعدمیاں بیوی کا ساتھ رہنا حرام ہے ،اب اگر دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم حلالہ شرعی پر عمل کرنا ہوگا ،ارشاد باری تعالی ہے:''فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ،پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدود ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''( البقرہ 230)

    حدیث پاک میں حلالہ کابیان واضح طور پر موجود ہے، بخاری میں ہے:عن عائشة رضي الله عنها جاءت امرأة رفاعة القرظي النبي صلى الله عليه وسلم فقالت كنت عند رفاعة فطلقني فأبت طلاقي فتزوجت عبد الرحمن بن الزبير إنما معه مثل هدبة الثوب فقال أتريدين أن ترجعي إلى رفاعة لا حتى تذوقي عسيلته ويذوق عسيلتك ترجمہ: حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ حضرت رفاعہ کی بیوی نبی کریم ﷺ کےپاس آئیں اورعرض کی کہ میں پہلےرفاعہ کی بیوی تھی توانہوں نے مجھے طلاق دےدی پھرمیں نےعبدالرحما ن بن زبیرسےنکاح کیالیکن وہ نرم کپڑےکی طرح ہیں( یعنی مردانہ اعتبار سے)تونبی کریمﷺنےارشاد فرمایاکہ کیاآپ رفاعہ کےپاس واپس جاناچاہتی ہیں انہوں نےعرض کی ہاں!آپ نےکیاجب تک تم اورعبدالرحمان ایک دوسرےکےشہدسےنہ چکھ لو(یعنی ازدواجی تعلقات قائم نہ کرلواس وقت تک)نہیں جاسکتی۔( صحیح البخاری کتاب الشہادات باب شہادۃ المختبی حدیث نمبر 2639)

    امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ المنان حلالہ کی وضاحت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :''حلالہ کے یہ معنٰی ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے یا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سے نکلے گی۔اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے۔۔۔وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعد طلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اور حمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔ (فتاویٰ رضویہ جلد 12ص 84 رضا فاؤنڈیشن کراچی)۔واللہ تعالٰی اعلم بالصواب


    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:ابو امير خسرو سيد باسق رضا

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 24 محرم الحرام 1443 ھ/02 ستمبر 2021 ء