سوال
ہماری مسجد کے امام صاحب نے تراویح میں دو کے بجائے تین رکعات ایک قعدہ کے ساتھ پڑھا دیں، اسکے بعد انہوں نے دو رکعت واپس پڑھائیں لیکن تین رکعتوں میں کی جانے والی تلاوت کا اعادہ نہیں کیا ؟ سوال یہ ہے کہ کیا اس قرات کا اعادہ ضروری ہے یا نہیں ؟شرعی رہنمائی فرمائیں۔
سائل: عبداللطیف: کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مسئولہ میں قرات کا اعادہ ضروری ہے تاکہ نمازِ صحیح میں ختمِ قرآن ہوجائے، کہ جب دو کے بجائے تین رکعت پڑھنے کے سبب وہ رکعتیں فاسد ہوگئیں تو وہ قرات بھی فاسد ہوگئی ، لہذا اب ان رکعتوں کے ساتھ ساتھ ان رکعتوں میں کی جانے والی قرات کا اعادہ ضروری ہے ۔
تین رکعتیں پڑھیں اور دوسری پر قعدہ نہ کیا تو نماز نہ ہوگی، ان کے بدلے کی پھر سے دورکعت پڑھے ۔فتاوی ہندیہ میں ہے :وَإِذَا صَلَّى التَّرَاوِيحَ عشرَ تَسْلِيمَاتٍ كُلُّ تَسْلِيمَةٍ ثَلاثُ رَكَعَاتٍ وَلَمْ يَقْعُدُ فِي كُلِّ ثَلَاثٍ عَلَى رَأسِ الثَّانِيَةِ فِى الْقِيَاسِ وَهُوَ قَولُ مُحَمَّدٍ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى وَإِحْدَى الرِّوَايَتَينِ عَنْ أبِي حَنِيفَةَ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى عَلَيْهِ قَضَاءُ التراويح لَا غَيْر ۔ ترجمہ : کسی نے دس سلاموں کے ساتھ تراویح پڑھیں ، ہر سلام میں تین رکعتیں پڑھیں ، اور ہر تین رکعتوں میں دوسری رکعت پر نہ بیٹھا، تو قیاس یہ ہے اور یہی امام محمد رحمہ اللہ کا قول ہے اور امام اعظم کی دو روایتوں میں سے ایک ہے کہ اس پر تراویح کی قضا ہوگی ، اس کے علاوہ کچھ نہیں۔ (الفتاوى الهندية، كتاب الصلاۃ ، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح، ج 1، ص 118 دارالفکر بیروت)
نماز تراویح فاسد ہو جائے تو جتنا قرآن مجیدان رکعتوں میں پڑھا ہے اسکا اعادہ کریں تا کہ ختم میں نقصان نہ رہے۔ جیساکہ اسی میں ہے:وَإِذَا فَسَدَ الشَّفَعُ وَقَدْ قَرَأَ فِيهِ لَا يَعْتَدُّ بِمَا قَرَأَ فِيهِ وَيُعِيدُ الْقِرَاءَةَ لِيَحُصُلَ له الحم في الصَّلَاةِ الْحَائِرَةِ وَقَالَ بَعْضُهُمْ يَعْتَدُّ بِهَا، كَذَا فِي الْجَوْهَرَةِ النيرة ۔ترجمہ : اگر کسی کی شفع یعنی دور کعتیں فاسد ہو جائیں تو ان میں جو قراءت ہوگی وہ شمار نہیں کی جائے گی ، اس قراءت کا اعادہ کیا جائے گا ۔ بعض نے کہا شمار کی جائے ، ایسا ہی جو ہرہ نیرہ میں ہے۔ (المرجع السابق)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح: ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:5 رمضان المبارک 1444 ھ/27 مارچ 2023 ء