سوال
سیلانی اپارٹمنٹ میمن گوٹھ کے اطراف میں دو مساجد اہلسنت ،ریاض الجنہ اور خدیجہ مسجد سیلانی اپارٹمنٹ سے دور ہیں ریاض الجنہ کا فاصلہ پیدل 12سے 15منٹ جبکہ خدیجہ مسجد کا فاصلہ 12منٹ ہے بالخصوص نماز فجر میں اپارٹمنٹ کے رہائشی نماز فجر کے دوران ڈکیتی کا شکار ہوئے مساجد دور ہونے کے باعث رہائشی افراد کی اکثریت باجماعت نماز پڑھنے سے محروم ہے لہذا تربیتی ڈیپارٹمنٹ (بی بلاک سامنے جائے نماز بنا نا چاہتا ہے) جہاں پانچوں نماز ِ باجماعت کے ساتھ رمضان میں تروایح کا بھی سلسلہ کیا جاسکے اور سامنے روڈ سے آتی جاتی دیگر عوام بھی باجماعت نماز کی سعادت پاسکے۔ برائے کرم سیلانی دار الافتاء تحریری حکم فرمائے کہ کیا یہاں جائے نماز بنائی جاسکتی ہے ؟
سائل: سید کامران چشتی: کراچی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
اگر معاملہ ایسا ہی ہے جیسا ذکر کیا گیا تو اس صورت میں متعینہ جگہ پر جائے نماز کا قیام جائز ہے۔
اسکی تفصیل یہ ہے کہ جس جگہ تک مسجد کی اذان کی آواز بغیر اسپیکر کےوبلا شور و غل پہنچے،اس حدود کے اندر کسی قسم کے جائے نماز کا قیام جائز نہیں کہ اس سے مسجد کی جماعت کا ترک لازم آئے گااور یہ تقلیلِ جماعت کا سبب بھی ہے۔
اس حدود کے درمیان رہنے والے تمام عاقل،بالغ غیرمعذور افراد پر اس مسجد کی جماعت واجب ہے۔لہذا بلاعذر اس مسجد کی جماعت ترک کرنا یا اس حدود کے اندر دوسری جگہ جماعت کا قیام ناجائز ہے۔ہاں اگر یہ صورت نہ پائی جائے تو وہاں جائے نماز کا قیام جائز ہے۔
ابن ماجہ شریف میں جناب عبداللہ ابن عباس سے مروی ہے: ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يَأْتِهِ، فَلَا صَلَاةَ لَهُ، إِلَّا مِنْ عُذْرٍ»ترجمہ:نبی کریم ﷺ سے روایت ہے کہ آپ نے ارشاد فرمایا جو شخص اذان سنے اور مسجد نہ آئے تو اسکی نماز نہیں مگر یہ کہ کوئی عذر ہو۔(سنن ابن ماجہ، باب التغلیط فی التخلف عن الجماعۃ،حدیث نمبر 793)
السنن الکبرٰی للبیھقی میں ہے:عن عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ أَنَّهُ قَالَ: " لَا صَلَاةَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ ". وَرُوِيَ ذَلِكَ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرْفُوعًا۔ ترجمہ:حضرت علی سے مروی ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ مسجد کے پڑوسی کی نماز نہیں مگر مسجد میں ۔ اور یہ جنابِ ابو ہریرہ سے نبی کریم ﷺ سے مرفوعا مروی ہے۔( السنن الکبرٰی للبیھقی، باب الماموم یصلی خارج المسجد، حدیث نمبر 5246)
منصف عبدالرزاق میں ہے: عَنْ عَلِيٍّ قَالَ:«لَا صَلَاةَ لِجَارِ الْمَسْجِدِ إِلَّا فِي الْمَسْجِدِ» . قَالَ الثَّوْرِيُّ فِي حَدِيثِهِ قِيلَ لِعَلِيٍّ: وَمَنْ جَارُ الْمَسْجِدِ؟ قَالَ: «مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ» ترجمہ: حضرت علی سے مروی ہے کہ انہوں نے ارشاد فرمایا کہ مسجد کے پڑوسی کی نماز نہیں مگر مسجد میں ۔ امام سفیان ثوری کی حدیث میں ہے کہ حضرت علی سے سوال کیا گیا کہ مسجد کا پڑوسی کون ہے؟ آپ نے ارشاد فرمایا جو اذان کی آواز سنے۔(مصنف عبدالرزاق الصنعانی، باب من سمع النداء حدیث نمبر 1915)
حکیم الامت، مفسر شہیر مفتی احمد یار خان نعیمی مراۃ المناجیح میں اس حدیث کے تحت ارشاد فرماتے ہیں:جہاں تک اذان کی آواز پہنچے وہاں تک کے لوگوں کو مسجد میں آنا بہت ضروری ہے ،وہ دور کے لوگ جہاںآواز نہیں پہنچتی انکے لئے بھی مسجد آنا بہتر ہے مگر اتنی سختی نہیں اور اس حدیث کا یہی مطلب ہے ۔۔۔ اذان کی آواز پہنچنے سے مراد آ ج کل کے لاؤڈ اسپیکر کی نماز نہیں ! کہ یہ تو دو دو میل تک پہنچ جاتی ہے۔(مراۃ المناجیح شرح مشکوۃ المصابیح جلد2 ص 168)
سیدی اعلٰی حضرت ارشاد فرماتے ہیں: مگرفرائض بے عذر قوی مقبول اگرحجرہ میں پڑھے اور مسجد میں نہ آئے گنہگار ہے، چندبار ایساہو توفاسق مردود الشہادۃ ہوگا، حدیث میں ہے :رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:لاصلٰوۃ لجار المسجد الافی المسجد۔ واﷲ تعالٰی اعلم۔(فتاوٰی رضویہ، کاتب الصلوۃ جلد7ص 393)
پھر جب یہ مصلٰی قائم ہوگا تو یقینا یہاں نماز پڑھنے والے لوگ مسجد میں نہ جائیں گے تو مسجد کی جماعت میں قلت واقع ہوگی جبکہ شریعت میں تکثیر جماعت مطلوب ،اور ہر اس امر سے احتراز ضروری و لازم ہے جو تقلیلِ جماعت کا سبب بن رہا ہو۔جیساکہ عامہ کتب فقہ میں مصرح ہے۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:18 شعبان المعظم 1445ھ/ 29 فروری 2024 ء