ہبہ عوض کی شرط کے ساتھ
    تاریخ: 28 نومبر، 2025
    مشاہدات: 9
    حوالہ: 298

    سوال

    1:۔مرحوم قادر بخشعطاری کا انتقال 28 اپریل 223 کو ہوا انھوں نے اپنی زندگی میں دو گھر بنائے ان میں سے ایک گھر (جو کہ مری چوک پرواقع ہے ) اپنی زندگی میں اپنی بہو کے نام اپنی بیٹی کے مکان کے بدلے کر دیا اور بہو کو اس مکان کا قبضہ بھی دے دیا جسے عرصہ چھ سال ہو چکا ہے۔ (نوٹ: یہ طے ہوا ادھر سےداماد ان کی بیٹی کو گھر دےگا اور ادھر سے وہ داماد کی بہن یعنی اپنی بہو کو گھر دیں گے تو داماد نے بھی گھر دے دیا)۔اس تمام تر واقعہ میں مرحوم کے خاندان کے کسی بھی فرد نے دعوی نہیں کیا ۔ جبکہ اب مرحوم کی دوسری بیوی کہتی ہے کہ چونکہ یہ مکان میرے خاوند کا تھا لہذا اس میں اس کا حصہ بنتا ہے۔

    2:۔دوسرا مکانمگسی کالونی نزد فیضان ِمدینہ میں موجود ہے جس کا مرحوم نے خاندانکے کسی فرد کے نام ملکیت (ہبہ)کا دعوینہیں کیا۔ لیکن مرحوم کے انتقال کے بعدمرحوم کی دوسری بیوی اور بیٹے احمد رضا اور خضر کے حوالے سے مرحوم کی ایک تحریر جو کہ اسٹام پیپر موجود ہے جس میں مرحومنے مگسی کالونی والا گھر ان کے نام کیا ہے۔(نوٹ :یہ اسٹام پیپر ہم نے سوال کے ساتھ منسلک کر دیا ہے )

    مہربانی فرما کر ان سوالوں کے جواب عنایت فرما کر عند اللہ ماجور ہوں !!

    سائل: غلام محی الدین عطار

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    پہلے مسئلہ کا جواب یہ ہے کہ مرحوم قادر بخشنے اپنے داماد کے ساتھ جو معاہدہکیا یہ ہبہ بشرط العوض ہے کہ میں اپنا مکانتمہاری بہن کو اس شرط کے ساتھ دوں گا کہ تم بھی میری بیٹی کو مکان دو گے ۔ چناچہ داماد نے بیوی کو مکان ہبہ کر دیا پھر قادر بخش نے بھی مکان ہبہ کر دیا جس پر طرفین کی جانب سے قبضہ بھی ہو گیا ۔لہذا جس مکان کے متعلق سوال پوچھا گیا یہ مکان قادر بخش کی بہو کی ملکیت ہے اس میں کوئی شخص ملکیت کا دعوی نہیں کر سکتا ۔اس لیے کہ ہبہ بشرط العوض میں موہوب لہ جب قبضہ کر لے تو اس کی ملکیت ثابت ہو جاتی ہے۔

    ہبہ بشرط العوض یہ ابتداء ہبہ اور انتہاء بیع کہلاتی ہے ۔در مختار میں ہے:الھبۃ بشرط العوض المعین فھی ھبۃ ابتداء وبیع انتھاء وھذا اذاقال وھبتک علی ان تعوضنی کذا ۔ترجمہ:معین عوض کی شرط کے ساتھ ہبہ کرنا یہ ابتداء ہبہ اور انتہاء بیع ہے اور اس وقت ہے جب کہا کہ میں تجھے ہبہ کرتا ہوں اس شرط پر کہ تم مجھے یہ چیز بدلے میں دو گے ۔ ملخصا(الدر المختار،،باب الرجوع فی الھبۃ جلد5 صفحہ 705،دار الفکر بیروت)

    اسی میں ہے : فَيُشْتَرَطُ التَّقَابُضُ فِي الْعِوَضَيْنِ۔ترجمہ:اور جب ہبہمعین عوض کی شرط کے ساتھ واقع ہو تویہ ابتداء ہبہ ہے پس (اس میں )عوضین پر قبضہ شرط ہے۔(الدر المختار،،باب الرجوع فی الھبۃ جلد5 صفحہ 705،دار الفکر بیروت)

    محقق الاسلام سیدی ابن عابدین الشامی رحمۃ اللہ علیہ (قَوْلُهُ التَّقَابُضُ)کے تحت لکھتے ہیں: أَيْ فِي الْمَجْلِسِ وَبَعْدَهُ بِالْإِذْنِ ۔ترجمہ: یہ قبضہ مجلس میں اور مجلس کے بعد اجازت سےہو سکتا ہے۔(رد المحتار علی الدر المختار،،باب الرجوع فی الھبۃ جلد5 صفحہ 705،دار الفکر بیروت)

    (قَوْلُهُ فِي الْعِوَضَيْنِ) کے تحت غایۃ البیان کے حوالہ سے لکھتے ہیں :فَإِنْ لَمْ يُوجَدْ التَّقَابُضُ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا أَنْ يَرْجِعَ وَكَذَا لَوْ قَبَضَ أَحَدُهُمَا فَقَطْ، فَلِكُلٍّ الرُّجُوعُ، الْقَابِضُ وَغَيْرُهُ سَوَاءٌ غَايَةُ البیان۔ترجمہ:اگر قبضہ نہ پایا جائے تودونوں میں سے ہر کے لیے رجوع کرنا جائز ہے ۔اسی طرح اگر کسی ایک نے قبضہ کیا ہو تو ہر ایک کے لیے رجوع کرنا جائز ہو گا ۔ قابض و غیر قابض اس میں برابر ہیں ۔(رد المحتار علی الدر المختار،،باب الرجوع فی الھبۃ جلد5 صفحہ 705،دار الفکر بیروت)

    مبسوط سرخسی میں ہے : الْهِبَةُ بِشَرْطِ الْعِوَضِ إنَّمَا تُثْبِتُ الْمِلْكَ لِلْمَوْهُوبِ لَهُ إذَا قَبَضَ الْكُلَّ۔ترجمہ:ہبہ بشرط العوض موہوب لہ کی ملکیت کو اس وقت ثابت کرتا ہے جب موہوب لہ کل پرقبضہ کر لے۔( الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6 / 236)

    2:۔ہم نے اسٹام پیپر کو ملاحظہ کیا تو اس میں صرف ہبہ کے وعدہ کا ذکر ہے کہ قادر بخش یہ مکان مذکورہ تین لوگوں کو برابر دے گا ۔اور محض ہبہ کا وعدہ کرنا کہ میں مکان دوں گا یہ ہبہ نہیں ۔بلکہ ضروری تھا کہ وعدہ ہبہ کے بعد مرحوم مکان ہبہ بھی کرتے تب ان لوگوں کی ہبہ کے طور پرملکیت ثابت ہو سکتی تھی ۔پس جب تک ہبہ کا کامل ثبوت مع شرائطِ ہبہ نہیں پایا جاتا تب تک یہ مکان موروثی کہلائے گا ۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:محمدیونس انس القادری

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 24ربیع الثانی 1444 ھ/08نومبر2023 ء