مسجد کے محراب کے رُخ کے متعلق شرعی حکم
    تاریخ: 20 جنوری، 2026
    مشاہدات: 43
    حوالہ: 617

    سوال

    ہمارے علاقے میں پرانی مسجد کو شہید کرکے نئی مسجد تعمیر کی جا رہی ہے۔ قدیم مسجد میں قبلہ رخ میں تقریباً 30 ڈگری کا فرق تھا۔ اب جب نئی مسجد تعمیر کی جا رہی ہے تو پھر بھی قبلہ رخ میں تقریباً 30 ڈگری کا جھکاؤ لازمی آئے گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مسجد کے دائیں اور بائیں مکانات موجود ہیں، جن کی وجہ سے مسجد کو بالکل عین قبلہ پر بنانا ممکن نہیں۔آپ رہنمائی فرمائیں کہ اگر ہم اسے 30ڈگری کے فرق پر بنائیں تو کیا بامری مجبوری یہ درست ہے ۔ سائل: ساجد حسین


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    تعمیر مسجد میں قبلہ کا رخ 45ڈگری کےاندر اندر ہونا لازم اور واجب ہےاور اس کے باہر ہونا جائز نہیں ،اگر 45ڈگری کے اندر اندر رہ کر فرق ہوجائے تو جہت قبلہ میں کوئی فرق نہیں آئے گا ۔

    تفصیل مسئلہ:

    جو شخص ایسی تحقیق کرسکتا ہو کہ وہ نماز میں بالکل عین کعبہ کی طرف رخ کرے، جیسا کہ وہ مکۂ مکرمہ میں کسی ایسے مقام پر موجود ہو جہاں سے کعبہ نظر آ رہا ہو، تو اس پر لازم ہے کہ نماز میں عین کعبہ کی طرف رخ کرے۔ اگر ایسا شخص عین کعبہ سے انحراف کرے گا تو اس کی نماز درست نہ ہوگی۔لیکن جس شخص کے لیے اس طرح کی تحقیق ممکن نہ ہو، خواہ وہ مکۂ معظمہ ہی میں موجود ہو، اس کے لیے حکم یہ ہے کہ وہ جہتِ قبلہ کی طرف رخ کرے۔ جہتِ قبلہ سے مراد یہ ہے کہ عین کعبہ کے دائیں جانب 45 ڈگری اور بائیں جانب 45 ڈگری تک کا رخ قبلہ شمار ہوگا۔ چنانچہ اگر کوئی شخص اس دائرے سے باہر رخ کرے گا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی، اور اگر 45 ڈگری کے اندر رہے گا تو اس کی نماز درست اور بلاکراہت ہوگی۔ البتہ ایسے شخص کے لیے یہ سنتِ مستحبہ ہے کہ وہ اپنی تحقیق کے مطابق زیادہ سے زیادہ عین قبلہ کی طرف رخ کرنے کی کوشش کرے۔

    جہتِ قبلہ کی مختصر وضاحت یہ ہے کہ ایک دائرہ کل 360 ڈگری پر مشتمل ہوتا ہے، اور اسے چار سمتوں میں تقسیم کیا جائے تو ہر سمت 90 ڈگری پر مشتمل ہوتی ہے۔ لہٰذا قبلہ کی سمت بھی 90 ڈگری پر محیط ہوگی۔ اس میں سے عین کعبہ کے دائیں طرف 45 ڈگری اور بائیں طرف 45 ڈگری تک کا علاقہ "سمتِ قبلہ" کہلائے گا۔

    دلائل وجزئیات

    فتاوی رضویہ میں ہے: علمائے کرام کا حکم تو یہ ہے کہ جہت سے بالکل خروج ہو ،تو نماز فاسد اور حدود جہت میں بلاکراہت جائز کہ آفاقی کا قبلہ ہی جہت ہے، نہ کہ اصابت عین ۔بدائع امام ملک العلماء ابوبکر مسعود کاسانی، پھر حلیہ امام ابن امیر الحاج حلبی میں ہے:’’قبلتہ حالۃ البعد جھۃالکعبۃ وھی المحاریب لاعین الکعبۃ‘‘ کعبہ سے دوری کی صورت میں جہتِ کعبہ ہی قبلہ ہے اور وہ محرابِ مسجد ہے، نہ کہ عین قبلہ۔ہاں حتی الوسع اصابت عین سے قرب مستحب۔ اس بارے میں ملتقط و حلیہ وغیرہما کے نصوص بعونہ تعالیٰ آگے آتے ہیں اور خیریہ میں فرمایا: ’’ھوافضل بلاریب ولامین‘‘ ۔۔۔(وہ بغیر کسی شبہ کے افضل ہے۔)۔۔اور ترک مستحب ،مستلزم کراہت تنزیہ بھی نہیں ،کراہت تحریم تو بڑی چیز ،بحر الرائق باب العیدین میں ہے:’’ لایلزم من ترک المستحب ثبوت الکراھۃاذلابدلھامن دلیل خاص ‘‘ترکِ مستحب سے کراہت لازم نہیں آتی، کیونکہ اس کے ثبوت کے لیے خاص دلیل کا ہونا ضروری ہے ۔ (فتاوی رضویہ ،جلد6،صفحہ64،رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

    اعلیٰ حضرت علیہ الرحمۃ ایک مقام پرفرماتے ہیں: ہر جہت کا حکم اُس کے دونوں پہلوؤں میں 45، 45 درجے تک رہتا ہے، جس طرح نماز میں استقبالِ قبلہ۔ (فتاوی رضویہ، جلد4،صفحہ608، رضا فاؤنڈیشن ،لاھور)

    صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ :جہت کعبہ کو منہ ہونے کا یہ مطلب ہے کہ مونھ کی سطح کا کوئی جز کعبہ کی سمت میں واقع ہو تو اگر قبلہ سے کچھ انحراف ہے مگر مونھ کا کوئی جز کعبہ کے مواجہہ میں ہے ،نماز فاسد ہوجائے گی ،اس کی مقداد 45درجہ رکھی گئی ہے ،تو اگر 45 درجہ سے زائد انحراف ہے ،استقبال نہ پایا گیا نماز نہ ہوئی ۔(مسئلہ:۵۲،حصہ سوم ،ص:487مکتبہ المدینۃ العلمیہ ) واللہ اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــــه:عبد الخالق بن محمد عیسیٰ

    الجـــــواب صحــــيـح:ابو الحسنينن مفتي وسيم اخترالمدني

    تاريخ اجراء: 1447 ھ/30ستمبر 2025ء