سوال
میں عرصہ دراز سے شارجہ میں مقیم ہوں، دو تین ہفتے قبل میری بیگم سے لڑائی ہوئی جس کی وجہ یہ تھی کہ میں اسے یہ سمجھانے کی کوشش کررہا تھا کہ تم ہانی، مقبول اور مظہر سے بات نہ کرنا۔نہ فون پر، نہ بالمشافہ مل کر۔لیکن وہ نہیں مان رہی تھی تو میں نے غصے میں قرآن اٹھایا اور کہا '' میں قرآن اٹھا کر کہہ رہا ہوں تم سے کہ اگر تم نے ان لوگوں سے کوئی بھی رابطہ رکھا فون پر بات کی پاکستان پر ملاقات کی تو تم فارغ ہو۔ میں نے دوبارہ کہا ، سن لو اچھی طرح میں قرآن اٹھا کر کہہ رہا ہوں تم سے کہ اگر تم نے ان لوگوں سے کوئی بھی رابطہ رکھا فون پر بات کی پاکستان پر ملاقات کی تو تم فارغ ہو۔پھر تیسری بار سمجھانے کے لئے کہا تاکہ بات بالکل واضح ہوجائے ، سن لیا تم نے میں قرآن اٹھا کر کہہ رہا ہوں تم سے کہ اگر تم نے ان لوگوں سے کوئی بھی رابطہ رکھا فون پر بات کی پاکستان پر ملاقات کی تو تم فارغ ہو۔
اب میرے کچھ سوال ہیں : کیا اس طرح طلاق واقع ہوگئی ؟اگر میری بیوی ان سے کہہ دے کہ آپ لوگ مجھے فون نہیں کرنا تو کیا طلاق واقع ہوجائے گی۔میں اسے سمجھانے کے لئے وضاحت کے ساتھ سمجھانے کی نیت سے تین بار اسے تاکیدا کہا تو بات کرنے کی صورت میں ایک بار طلاق واقع ہوگی یا تین بار ؟اگریہ لوگ کسی دوسرے نمبر سے فون کریں اور وہ فون اٹھا لے علیک سلیک بھی ہوجائے تو اس سے طلاق واقع ہوجائے گی۔ اسی طرح اگر بیگم کراچی جائے اور سرِ راہ یہ لوگ مل جائیں اور علیک سلیک بھی ہوجائے تو اس سے طلاق واقع ہوجائے گی۔ایک ہوگی یا تین؟آخری سوال یہ ہے کہ کیا میرے اس فعل کا کوئی کفارہ ہے جس سے میں توبہ کروں اور اپنے کہے ہوئے الفاظ واپس لے لوں تو کیا شرع میں اسکی کوئی گنجائش ہے ؟ جواب دے کر میری الجھنیں دور فرمائیں ۔
سائل: سید محمود احمد ہاشمی :شارجہ
نوٹ: سائل سے حلف لیا گیا کہ انہوں نے کہا کہ مذکورہ الفاظ زوجہ کو ان سے بات کرنے سے روکنے اور ڈرانے کے لئے تھے۔ اس کے علاوہ کوئی نیت نہیں تھی۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
صورتِ مستفسرہ میں مذکورہ اشخاص سے گفتگو کرنے کی صورت میں عورت کو کسی طرح کی کوئی طلاق واقع نہیں ہوگی ۔
کیونکہ مرد کے یہ الفاظ '' اگر تم نے ان لوگوں سے کوئی بھی رابطہ رکھا فون پر بات کی پاکستان پر ملاقات کی تو تم فارغ ہو'' کنایہ کی قبیل سے ہیں ،اور الفاظِ کنایہ سے طلاق واقع ہونے کے لیے ضروری ہے کہ طلاق کی نیت ہو یا مذاکرہ طلاق ہویا حالت غصہ میں کہا ہو یعنی مرد کی حالت بتاتی ہو کہ طلاق مراد ہے۔ جبکہ یہاں مذاکرہ طلاق کا نہ ہونا تو ظاہر ہے اور عدمِ نیت پر مرد نے حلف لے لیا ۔لہذا مذکورہ صورت میں عورت کو اصلا طلاق واقع نہ ہوگی۔جیساکہ تنویرالابصار مع الدر المختار میں ہے:(كِنَايَتُهُ) عِنْدَ الْفُقَهَاءِ (مَا لَمْ يُوضَعْ لَهُ) أَيْ الطَّلَاقِ (وَاحْتَمَلَهُ) وَغَيْرَهُ (فَ) الْكِنَايَاتُ (لَا تَطْلُقُ بِهَا) قَضَاءً (إلَّا بِنِيَّةٍ أَوْ دَلَالَةِ الْحَالِ) وَهِيَ حَالَةُ مُذَاكَرَةِ الطَّلَاقِ أَوْ الْغَضَبِ :ترجمہ:فقہاء کے نزدیک کنایہ وہ الفاظ ہیں جن کو طلاق کے لیے وضع نہ کیا گیا ہو بلکہ وہ طلاق اور اسکے علاوہ کا بھی احتمال رکھیں ان الفاظ سے نیت یا دلالت حال کے ساتھ ہی طلاق واقع ہوگی اور دلالت حال مذاکرہ طلاق اور غصے کی حالت ہے۔( تنویرالابصار مع الدر المختار باب الکنایات ،جلد 3ص300 الشاملہ)
اسی میں ہے :نحواخرجی یحتمل رداونحوخلیۃ یصلح سبا ونحو انت حرۃ لایحتمل السب والرد ففی حالۃ الرضاای غیر الغضب والمذاکرۃ تتوقف الاقسام الثلثۃ تاثیرا علی نیۃ للاحتمال :ترجمہ: ''نکل جا'' جیسے الفاظ رد وجواب سوال طلاق کا احتمال رکھتے ہیں، خلیہ۔ جیسے الفاظ گالی ہونے کااحتمال رکھتے ہیں، اور '' تو آزاد ہے'' جیسے الفاط سب ودشنام اور جواب ہونے کا احتمال نہیں رکھتے، توحالت رضامندی میں یعنی غصہ کی حالت میں نہ ہو اور مذاکرہ طلاق بھی نہ ہو تو یہ تینوں قسم کے کنایا ت کی تاثیر نیت پر موقوف ہوگی، کیونکہ نیت اور عدم نیت کا احتمال ہے۔(ایضا)
تم فارغ ہو اور اس جیسے الفاظ کنایہ کے ہیں اس سلسلے میں فقیہ العصر ، تاج الفقہاء مفتی وسیم اختر المدنی اپنے مبسوط فتوٰی بنام ''طلاق کےالفاظ صریح وکنایہ پرایک مبسوط فتوى'' میں فرماتے ہیں:تم فارغ ہو"یا" تم آزاد ہو" کے الفاظ فی زمانہ بھی کنایہ ہی ہیں کیونکہ صرف ان الفاظ سے طلاق کے معنی متبادر الی الفہم نہیں ہوتے بلکہ طلاق کے معنی کے ساتھ ساتھ دوسرے معنی کا احتمال بھی ذہن میں آتا ہے،مثلاً "تم کام سے فارغ ہو"، "عقل سے فارغ ہو"، "خیر سے فارغ ہو"، تم اپنی مرضی میں آزاد ہو لہٰذا یہ الفاظ کنایہ کی دوسری قسم"جس میں جواب اور سب وشتم کااحتمال ہو تاہے" کے قبیل سے ہیں۔ اور مذاکرہ طلاق کے علاوہ قضاءبھی طلاق کے وقوع کے لیے نیت ضروری ہے اور ان الفاظ سے اگرکوئی طلاق کی نیت کرے گاتو طلاق بائن واقع ہوگی۔(ماخوذ از وسیم الفتاوٰی، حوالہ نمبر 7382 غیر مطبوعہ)
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء: 13 صفر المظفر 1443 ھ/21 ستمبر 2021 ء