سوال
میں فون پر اپنی بہن سے باتیں کررہا تھا ، میری بہن سے بحث ہورہی تھی بیگم کے بارے میں کہ میری بیگم نے تنگ کرکے رکھا ہوا ہے مجھے، اور پھر میں نے اچانک صرف یہ بولا طلاق، طلاق،طلاق ۔ نہ میں نے بیگم کا نام لیا اور نہ ہی بیگم کی طرف دیکھا۔
نوٹ : شوہر کو دارالافتاء میں بلاکر پوچھا گیا کہ '' طلاق، طلاق،طلاق'' بولنے سے آپکا کیا مقصد تھا تو انہوں نے اقرار کیا کہ اس سے مقصد بیوی کو چھوڑنا تھا۔
سائل: سید نوید معین علی : کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذکورہ صورت میں عورت کو قضاء تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں ۔کیونکہ طلاق دینے میں ایقاع یعنی طلاق کا واقع کرنا ضروری ہے اور ایقاع بغیر وقوع کے ممکن نہیں اور وقوع طلاق کے لیے طلاق کی نسبت لفظوں میں یا نیت میں عورت کی طرف ہونا ضروری و لازم ہے ، وگرنہ محض لفظ طلاق کہنے سے طلاق واقع نہ ہوگی ۔
سیدی اعلیٰ حضرت نے اس باب کی مکمل تفصیل اپنے فتاویٰ و جد الممتار میں شرح و بسط سے ذکر فرمائی ہے چناچہ آپ رقمطراز ہیں :وذٰلک لان الطلاق لاوقوع لہ الابالا یقاع ولا ایقاع الاباحداث تعلق الطلاق بالمرأۃ ولایتاتی ذلک الابالاضافۃ ولو فی النیۃ، فاذا خلیا عنہ لم یکن احداث تعلق اذلاتعلق الا بمتعلق فلم یکن ایقاعا فلم یورث وقوعا وھذاضروری لایرتاب فیہ،مجرد تلفظ بلفظ طلاق ہی بے اضافت بزن نہ درلفظ ونہ درقصد اگر موجب تطلیق شود ہر کسے کہ لفظ طلقت یا طلاق دادم یامی دہم برزبان آرد زن او مطلقہ شود اگر چہ ہمیں قصد حکایت دارد۔ترجمہ: کیونکہ طلاق کا وقوع بغیر واقع کرنے(ایقاع) کے نہیں ہوتا اور ایقاع اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک طلاق کا تعلق بیوی سے نہ کیاجائے اور یہ اضافت کے بغیر ممکن نہیں اس لئے اضافت ضروری ہے خواہ نیت میں ہو، تو طلاق جب اضافت لفظی یا قلبی سے خالی ہو تو طلاق کا تعلق پیدا نہ ہوگا کیونکہ تعلق بغیر متعلق نہیں ہوسکتا، اس لئے ایقاع نہ ہوگا، تو وقوع بھی نہ ہوگا، اتنی بات واضح ہے جس میں کوئی شبہ نہیں ہوسکتا، اسلئے کہ اگر زبان پر لفظ طلاق نسبتِ لفظی یا ارادی کے بغیر ہی طلاق دینے کا موجب قرار پائے تولازم آئے گا کہ جو شخص بھی کسی صورت میں اپنی زبان سے لفظ طلاق استعمال کرے اس کی بیوی کو طلاق ہوجائے خواہ حکایت کرتے ہوئے ہی استعمال کرے۔(فتاویٰ رضویہ جلد 12 ص 338)
پھر یہاں اس صورت میں نیت کا قرینہ موجود ہے جو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ مرد نے جو '' طلاق، طلاق،طلاق''کے الفاظ کہے ان کی اضافت عورت کی ہے جیسا کہ مرد کا قول ''اس سے مقصد بیوی کو چھوڑنا تھا'' سے ظاہر ہے۔سیدی اعلیٰ حضرت لکھتے ہیں :پھر یہ تحقیق کی کہ اگرلفظ ہر طرح اضافت سے خالی ہوں تو وہاں دیکھا جائے گا کہ یہاں کوئی ایسا قرینہ موجود ہے جس سے اضافت کا ارادہ راجح طور پر معلوم ہوتا ہو تو قضاءً ظاہر قرینہ کی بناء پر طلاق کا حکم کردیا جائے گا۔( فتاویٰ رضویہ جلد 12 ص 338)
بحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے:لو قال طالق فقیل من عنیبت فقال امرأتی طلقت امرأتہ :ترجمہ: کسی نے کہا طالق، تو پوچھا گیا کہ تو نے کس مقصد سے کہا، اس نے کہا میں نے اپنی بیوی کو (طلاق دینے )کے مقصد سے کہا ہے، تو بیوی کو طلاق ہوجائے گی۔( بحر الرائق شرح کنز الدقائق باب الفاظ الطلاق جلد 3 ص273)
خلاصہ یہ ہوا کہ مذکورہ صورت میں تین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں جسکے بعد عورت مرد کے لیے حرمت مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ، طلاق واقع ہوتے ہی عدت شروع ہو چکی ہے جسکی تفصیل یہ ہے کہ طلاق یافتہ کی عدت تین حیض ،اگر حیض نہیں آتے تو تین مہینےعدت ہے اور اگر عورت حاملہ ہوتو مذکورہ تمام صورتوں میں عدت وضع حمل ہوگی۔ارشاد باری تعالیٰ ہے:وَالْمُطَلَّقٰتُ یَتَرَبَّصْنَ بِاَنْفُسِہِنَّ ثَلٰثَۃَ قُرُوْء ترجمہ:طلاق والیاں اپنے کو تین حیض تک روکے رہیں۔(البقرۃ: 228)
دووسری جگہ ارشاد فرمایا:والائی یَئِسْنَ مِنَ الْمَحِیْضِ مِنْ نِّسَآئِکُمْ اِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُہُنَّ ثَلٰثَۃُ اَشْہُرٍوالائی لم یَحِضْنَ وَ اُولَاتُ الْاَحْمَالِ اَجَلُہُنَّ اَنْ یَّضَعْنَ حَمْلَہُنَّ۔ترجمہ:اور تمھاری عورتوں میں جوحیض سے نا امید ہوگئیں اگر تم کو کچھ شک ہو تو اُن کی عدت تین مہینے ہے اور اُن کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا ہے اور حمل والیوں کی عدت یہ ہے کہ اپنا حمل جن لیں۔(الطلاق :4)
ا ب اگر دونوں دوبارہ ایک ساتھ رہنا چاہیں تو اس کے لئے اللہ تعالی کے حکم حلالہ شرعی پر عمل کرنا ہوگا ،ارشاد باری تعالی ہے:
''فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا تَحِلُّ لَہُ مِنْ بَعْدُ حَتَّی تَنْکِحَ زَوْجًا غَیْرَہُ فَإِنْ طَلَّقَہَا فَلَا جُنَاحَ عَلَیْہِمَا أَنْ یَتَرَاجَعَا إِنْ ظَنَّا أَنْ یُقِیمَا حُدُودَ اللَّہِ وَتِلْکَ حُدُودُ اللَّہِ یُبَیِّنُہَا لِقَوْمٍ یَعْلَمُونَ''ترجمہ کنز الایمان:پھر اگر تیسری طلاق دے دی تو وہ عورت اس کے لئے حلال نہ ہوگی جب تک دوسرے خاوند کے پاس نہ رہے ، پھر وہ دوسرا اسے طلاق دے دے تو ان دونوں پر گناہ نہیں کہ آپس میں مل جائیں ،اگر سمجھتے ہوں کہ اللہ کی حدیں نبھائیں گے اور اللہ یہ حدیث ہیں جنہیں بیان کرتا ہے دانش مندوں کےلئے ''۔( البقرہ 230)
امام اہل سنت الشاہ امام احمد رضا خان رحمہ اللہ تعالیٰ حلالہ کی وضاحت میں فرماتے ہیں :''حلالہ کے یہ معنیٰ ہیں کہ اس طلاق کے بعد عورت حیض والی ہے تو اسے تین حیض ختم ہوجائیں اور اگر حیض والی نہیں مثلا نو برس سے کم عمر لڑکی ہے ےا پچپن برس سے زائد عمر کی عورت ہے اور اسکی طلاق کے بعد تین مہینے کامل گزر جائیں یا اگر حاملہ ہے تو بچہ پیدا ہولے ،اس وقت اس طلاق کی عدت سےنکلے گی اسکے بعد دوسرے شخص سے نکاح بر وجہ صحیح کرے،وہ اس سے ہم بستری بھی کرے اور اس کے بعدطلاق دے اور اس طلاق کی عدت گزر لے کہ تین حیض ہوں اور حیض نہ آتا ہو تو تین مہینے اورحمل رہ جائے تو بچہ پیدا ہونے کے بعد پہلا شوہر اس سے نکاح کر سکتا ہے''۔ ( فتاوی رضویہ کتاب الطلاق جلد 12ص 84)
واللہ تعالی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:03 ربیع الثانی 1440 ھ/11 دسمبر 2018 ء