دو طلاق كا شرعی حکم
    تاریخ: 5 مارچ، 2026
    مشاہدات: 5
    حوالہ: 968

    سوال

    میری بیٹی (رمشاء) نے مجھے بتایا ہے کہ اس کے شوہر (محمد نیّر) نے اسے دو بار طلاق دی کہ ’’میں تجھے طلاق دیتا ہوں‘‘ اور تیسری بار کہا کہ ’’تو میری طرف سے فارغ ہے‘‘۔ شوہر کہتا ہے کہ میں نے دو طلاق دی ہیں، تیسری بار میں نے یہ الفاظ نہیں کہے۔

    نوٹ: شوہر (محمد نیّر) کے بیانیہ کے مطابق بیوی سے لڑائی کے دوران اس کے مطالبہ پر شوہر نے کہا ’’ٹھیک ہے، طلاق ہے طلاق ہے‘‘۔ اس کے بعد بیوی کے ماموں کے گھر اسے چھوڑنے گئے اور ماموں سے کہا ’’یہ بندی میرے دماغ سے فارغ ہے‘‘۔اور ان طلاقوں سے پہلے کوئی طلاق بھی نہیں دی، نیز شوہر سے اپنے بیانیہ کے مطابق حلف بھی لے لیا گیا ہے۔لڑکی (رمشاء) کے ماموں (بشیر) کے بیانیہ کے مطابق شوہر (محمد نیّر)نے کہا :’’ ماموں گواہ اے میرے ولوں فارغ اے، میرے ولوں فارغ اے، میرے ولوں فارغ اے‘‘۔ (گواہ میں ایک عورت تھی)۔ لڑکی (رمشاء)کا بیان دو مرتبہ تبدیل ہوا ہے، دوسری بار کا بیان وہی ہے جو ان کے والد غلام یسین نے سوال میں ذکر کی۔طلاق کا یہ معاملہ پانچ ماہ قبل پیش آیا۔

    سائل: غلام یسین


    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    شوہر کے حلفیہ بیانیہ کے مطابق یہاں قضاءً دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،البتہ چونکہ طلاق کے اس معاملے کے بعد تین ماہواریاں گزر چکی ہیں (سائل کے بیان کے مطابق)، پس عدت ختم ہوچکی ، لہذا اب رجوع کیلئے نیا نکاح نئے مہر کے ساتھ لازم ہوگا۔

    کیونکہ شوہر کا کہنا ’’ٹھیک ہے طلاق ہے طلاق ہے‘‘ دو طلاقوں کے معنی میں صریح ہے، اور چونکہ یہ جملہ بیوی کے مطالبہ پر تھا لہذا یہاں اضافت (بیوی کی طرف طلاق کی نسبت) بھی پائی گئی کہ جواب میں سوال کو دہرایا جاتا ہے، لہذا بیوی کے مطالبہ کے بعد شوہر کا جملہ یوں بنے گا کہ ’’ٹھیک ہے تجھے طلاق ہے تجھے طلاق ہے‘‘۔پس دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں۔

    یاد رہے کہ جب عدت مکمل ہو کر نکاح ختم ہوتا ہے عورت نکاح سے آزاد ہوجاتی ہے، یعنی چاہے تو اسی شوہر سے دوبارہ نکاح کرےیا کسی دوسری جگہ، شریعت کی طرف سے کوئی پابندی نہیں۔اور اگر میاں بیوی ساتھ رہنا چاہیں تو نیا نکاح کرنے کے بعد دونوں کو بہت احتیاط سے رہنا ہوگا کہ اب شوہر کو صرف ایک طلاق کا حق حاصل ہو گا خدانخواستہ اگر زندگی میں کبھی بھی ایک طلاق دے دی تو حرمت مغلظہ کے ساتھ بیوی اس شوہر پرحرام ہو جائے گی اورتحلیلِ شرعی کے علاوہ واپسی کا کوئی راستہ نہیں ہوگا۔

    بیوی اس مسئلہ میں مدعی ہیں (یعنی دعوی کرنے والے ہیں) لہذا ان پر لازم ہے کہ دو مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہیوں سے یہ ثابت کریں کہ شوہر نے آخر میں ’’تو میری طرف سے فارغ ہے‘‘ والا جملہ کہا ہے،محض دعوی سے کسی کی بات نہیں سنی جائے گی،جبکہ پوچھی گئی صورت میں بیوی کے پاس مذکورہ تعداد میں گواہ نہیں۔پھر چونکہ شوہر نے حلفیہ اس بات سے انکار کرلیا تو قضاءً شوہر کے قول کا اعتبار کیا جائے گا اور جھوٹے حلف کی صورت میں گناہ انہیں پر ہوگا۔

    دلائل و جزئیات:

    علامہ شیخ شمس الدین محمد بن عبد اللہ تمرتاشی (المتوفی:1004ھ) فرماتے ہیں:"الصَّرِيحُ يَلْحَقُ الصَّرِيحَ".ترجمہ: طلاقِ صریح طلاقِ صریح کولاحق ہوتی ہے۔(تنویر الابصار مع الدر المختار،3/306،دار الفکر)

    فقیہِ اعظم علامہ ابوالخیرنوراللہ نعیمی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:’’صریح طلاق کا لفظ شرعاً وہ لفظ ہے جس کا استعمال بمعنائے طلاق عرف ورواج میں اس قدر زیادہ ہوکہ جب بولا جائے طلاق سمجھی جائے،اورطلاق کے سواکسی اورمعنیٰ میں مستعمل نہ ہو کماصرح بہ ساداتنا الکرام رضی اللہ عنہم‘‘۔(فتاوی نوریہ،3/224، مطبوعہ دار العلوم حنفیہ فریدیہ)

    اضافت طلاق کی نفیس تحقیق میں امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں: "والذی تحصل للعبد الضعیف بتوفیق المولی اللطیف جل وعلا، ان الاضافۃ لابد منھا ام فی اللفظ وامافی النیۃ اذلاطلاق الابالایقاع الاباحداث تعلق الطلاق بالمرأۃ، ولیس ذٰلک الابالاضافۃ وھذا ضروری لاشک فیہ اذ لولاہ لزم الطلاق عل کل من تلفظ بلفظ طلاق او طالق ونحوھما وان لم یردعلی ھذاشیئا اولم یرد طلاق امرأتہ وھو باطل قطعًا فاشتراط الاضافۃ حق لامریۃ فیہ، نعم قد توجد الاضافۃ فی اللفظ فلایحتاج فی الحکم الی النیۃ وقد لاتوجد فی اللفظ فیحتاج الٰی ظھورالنیۃ. ترجمہ:عبد ضعیف کو اﷲتعالٰی لطف فرمانے والے جلّ وعلا کی توفیق سے جو حاصل ہوا ہے وہ یہ ہے کہ بیوی کو طلاق دینے دینے میں اضافت ضروری ہے لفظوں میں ہو خواہ وُہ نیت میں ہو، کیونکہ طلاق کا وقوع، ایقاع پر موقوف ہے اور ایقاع کا وجود نہیں ہوتا تاوقتیکہ طلاق کو عورت سے متعلق نہ کای جائے، اور یہ چیز ہے جس میں شک نہیں ہوسکتا،کیونکہ اگرطلاق کو عورت کی طرف منسوب کرنا اور اس کی طرف اضافت کرناضروری نہ ہوتو پھر طلاق یا طالق کا تلفظ کرنے والے ہر شخص کی بیوی کو طلاق لازم ہوجائے اگرچہ وُہ اس پر کسی چیز کا ارادہ نہ کرے یا اپنی بیوی کو طلاق دینے کا لہذا طلاق کے وقوع کے لئے نسبت اور اضافت کے شرط ہونے میں کوئی شک نہیں، ہاں اضافت کبھی لفظوں میں موجود ہوتی ہے تو اس وقت حکم کے لئے نیت کی ضرورت نہیں ہوتی اور کبھی لفظوں میں اضافت نہیں ہوتی اس وقت نیت کو ظاہر کی حاجت ہوتی ہے۔

    اما وجود الاضافۃ فی اللفظ فاقول علی ثلثۃ انحاء، الاوّل تحققھا صریحا فی کلام الزوج وھذاالذی ذکرالحلبی والطحاوی امثلتہ کقولہ انت طالق او طلقتک او ھذہ او زینب اوبنت زید او ام عمرو اواخت بکر او امرأتی طالق، الثانی تحققھا فیہ لاجل کونہ جوابا کلام تحققت فیہ فتحقق فی الجواب ایضالان السوال معاد فی الجواب وھذامافی الہندیۃ عن الخلاصۃ قالت طلاق بدست تو است، مراطلاق کن فقال الزوج طلاق می کنم وکررثلثا طلقت ثلثااھ. ترجمہ: یا لفظوں میں اضافت کا موجود ہونا ،تو میں (یعنی امام اہلسنت رحمہ اللہ)کہتا ہوں یہ تین طرح ہوتی ہے ، اوّل یہ کہ خاوند کی کلام میں صراحتا پائی جائے وہ یہ ہے جس کی مثالیں علامہ حلبی اور حاوی نئے ذکر کی ہیں ، مثلاً تو طلاق والی ہے، میں تجھے طلاق دی،(بیوی کواشارہ کرتے ہوئے) اس کو، نام لےکر، زینب کو، زید کی بیٹی کو، عمرو کی ماں، بکر کی بہن کو، میری بیوی کو، طلاق۔ دوسری صورت یہ کہ طلاق الفاظ کسی ایسی کلام کے جواب میں ذکر کئے جائیں جس میں اضافت مذکورتھی تو اس وجہ سے وہ اضافت جواباً طلاق کے الفاظ میں بھی متحقق ہوگی، کیونکہ جواب میں سوال کا اعادہ ہوتا ہے، اس کی مثالیں ہندیہ میں خلاصہ سے منقول ہیں، مثلاً بیوی کہے''طلاق تیرے ہاتھ میں ہے مجھے طلاق دے۔'' تو جواب میں خاوند کہے''میں نے طلاق دی'' تین دفعہ تکرار کیا تو تین طلاقین بیوی کو پڑیں گی اھ ۔ (فتاوی رضویہ،12/344، رضافاؤنڈیشن، لاہور )

    طلاق رجعی کا حکم بیان کرتے ہوئے علامہ ابو بکر بن مسعود الکاسانی (المتوفی:587ھ) لکھتے ہیں:"أَمَّا الطَّلَاقُ الرَّجْعِيُّ فَالْحُكْمُ الْأَصْلِيُّ لَهُ هُوَ نُقْصَانُ الْعَدَدِ، فَأَمَّا زَوَالُ الْمِلْكِ، وَحِلُّ الْوَطْءِ فَلَيْسَ بِحُكْمٍ أَصْلِيٍّ لَهُ لَازِمٍ حَتَّى لَا يَثْبُتَ لِلْحَالِ، وَإِنَّمَا يَثْبُتُ فِي الثَّانِي بَعْدَ انْقِضَاءِ الْعِدَّةِ، فَإِنْ طَلَّقَهَا وَلَمْ يُرَاجِعْهَا بَلْ تَرَكَهَا حَتَّى انْقَضَتْ عِدَّتُهَا بَانَتْ".ترجمہ: طلاق رجعی کا حکم اصلی عددِ طلاق میں کمی ہے۔ جہاں تک ملک اور حلّت ِجماع کے زوال کا تعلق ہے تو وہ اس کا حکم اصلی نہیں ہے اس لئے وہ فی الفور ثابت بھی نہیں ہوتی بلکہ عدت پوری ہونے پر ثابت ہوتی ہے۔ لہذا اگرشوہر نے بیوی کو طلاق دی اور اس سے رجوع نہیں کیا بلکہ اس کو چھوڑے رکھا یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہو گئی تو وہ بائن ہو جائے گی۔(بدائع الصنائع،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،3/180،دار الکتب العلمیۃ)

    تین طلاق سے کم والی عورت سے عدت کے بعد نکاح جائز ہے،علامہ محمد بن علی علاؤ الدین الحصکفی (المتوفی:1088ھ) فرماتے ہیں: "وَيَنْكِحُ مُبَانَتَهُ بِمَا دُونَ الثَّلَاثِ فِي الْعِدَّةِ وَبَعْدَهَا بِالْإِجْمَاعِ وَمُنِعَ غَيْرُهُ فِيهَا لِاشْتِبَاهِ النَّسَبِ ".ترجمہ:بالاجماع ثابت ہے کہ تین طلاق سے کم والی بائن عورت سے عدت اور بعدِ عدت دونوں صورتوں میں نکاح کیا جاسکتا ہے ۔البتہ اس مرد کے علاوہ کسی اجنبی کو عدت میں نکاح نسب کے مشتبہ ہونے کی بناء پر ممنوع ہے۔(الدر المختار،باب الرجعۃمطلب فی العقد علی المباینۃ،3/ 409،دار الفکر)

    علامہ ابو الحسن علی بن ابو بکر الفرغینانی (المتوفی:593ھ) فرماتے ہیں:"وَإِذَا كَانَ الطَّلَاقُ بَائِنًا دُونَ الثَّلَاثِ فَلَهُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا فِي الْعِدَّةِ وَبَعْدَ انْقِضَائِهَا) لِأَنَّ حِلَّ الْمَحَلِّيَّةِ بَاقٍ لِأَنَّ زَوَالَهُ مُعَلَّقٌ بِالطَّلْقَةِ الثَّالِثَةِ فَيَنْعَدِمُ قَبْلَهُ".ترجمہ:تین سے کم طلاق بائن ہو تو شوہر عدت میں اور عدت گزرنے کے بعد دونوں صورتوں میں نکاح کا اختیار رکھتا ہے،کیونکہ حلّتِ محل اب بھی باقی ہے کہ اس حلت کا زوال تین طلاق سے جڑا ہے تو اس سے پہلے یہ زوال منعدم ہے۔ (الہدایۃ،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،فصل فیما تحل بہ المطلقۃ،257/2،دار احیاء التراث العربی)

    مدعی پر گواہ لازم ہیں،رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا: "البینۃ علی المدعی والیمین علی من انکر".ترجمہ: مدعی پر گواہی اورمنکر پر قسم ہوتی ہے۔(مشکاۃ المصابیح،کتاب الامارۃ والقضاء،باب الاقضیۃ والشھادۃ،الفصل الاول،2/1110،رقم :3758،المکتب الاسلامی بیروت)

    نصابِ شہادت کے متعلق ارشادِ باری تعالی ہے:وَاسْتَشْهِدُوْا شَهِیْدَیْنِ مِنْ رِّجَالِكُمْۚ فَاِنْ لَّمْ یَكُوْنَا رَجُلَیْنِ فَرَجُلٌ وَّ امْرَاَتٰنِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَآءِ.ترجمہ: اور دو گواہ کرلو اپنے مردوں میں سے پھر اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ایسے گواہ جن کو پسند کرو ۔ (البقرۃ: 282)

    جھوٹے حلف کے متعلق حدیث مبارکہ میں سخت وعید وارد ہوئی:"مَنْ حَلَفَ كَاذِبًا أَدْخَلَهُ اللَّهُ النَّارَ".ترجمہ:جس نے جھوٹی قسم اٹھائی اللہ اسے آگ میں داخل کرے گا۔(نصب الرایۃ،کتاب الایمان، من حلف یمینا کاذبا،3/292،مؤسسۃ الریان بیروت)

    امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) فرماتے ہیں:’’بحالت اختلاف طلاق کا ثبوت گواہوں سے ہوگا اور دو۲ گواہ عادل شرعی شہادت بروجہ شرعی ادا کریں کہ اس شخص نے اپنی زوجہ کو طلاق دی طلاق ثابت ہوجائے گی، پھر اگر شوہر نفی کے گواہ دے گا یا اس بات کے کہ مطلقہ بعد طلاق اس سے بولی کچھ اصلا مسموع نہ ہوگا، ہاں اگر عورت گواہ بروجہ شرعی نہ دے سکے تو شوہر پر حلف رکھا جائے گا اگر حلف سے کہہ دے گا کہ اس نے طلاق نہ دی طلاق ثابت نہ ہوگی اور اگر حاکم شرعی کے سامنے حلف سے انکار کرے گا تو طلاق ثابت مانی جائے گی‘‘۔(فتاوی رضویہ، 12/452-453،رضا فاؤنڈیشن لاہور)۔

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:11 شعبان المعظم 1447ھ/31 جنوری 2025ء