makan wirasat mein ba ijazat o bila ijazat tameerat ke ahkam
سوال
میرا نام اقبال حسین ہے، میرے والد (الطاف حسین)کا انتقال ہوا اس وقت ایک بیوی ، ایک بیٹا(اقبال حسین)اور چار بیٹیاں(حسینہ، رضیہ، امینہ، سبینہ) حیات تھیں ۔ پھر والدہ کا انتقال ہوا انکے ورثاء میں یہی اولاد تھی۔
پھر ایک بیٹی(رضیہ )کا انتقال ہوا انکے شوہر کا پہلے ہی انتقال ہوگیاتھا، اسکے علاوہ 4 بیٹے (رونق علی، یونس علی،جایدعلی،ساجد علی)اورتین بیٹیاں (شمیم، ساجدہ ،سائمہ)تھی جس میں سے ایک بیٹی (سائمہ )کا انتقال ان سے پہلے ہی ہوگیا۔
اسکے بعد دوسری بیٹی(حسینہ ) کا انتقال ہوا انکے ورثاء میں سے شوہر کا پہلے ہی انتقال ہوگیا اسکے علاوہ 5 بیٹے (امین، شریف،عتیق، سلیم،اور رئیس)اورتین بیٹیاں (سائرہ، شاہین، عشفیہ) تھی۔ جس میں سے ایک بیٹی(عشفیہ) کا انتقال پہلے ہوگیا، جبکہ ایک بیٹے(شریف) کا بعد میں ، اس بیٹے کے ورثاء میں ایک بیوی(فاطمہ) ایک بیٹا(عبداللہ) اور ایک بیٹی (زینب) ہیں ۔
جبکہ دو بیٹیاں امینہ اور سبینہ حیات ہیں ۔ وراثت میں ایک مکان ہے جو کہ والد صاحب کو گورنمنٹ کی طرف سے ملا تھا۔اس میں سب بہن بھائی رہ رہے تھے اسکے بعد سب بہنوں کی شادی ہوگئی اور سب اپنے اپنے گھر کی ہوگئیں۔پھراس گھر پر میرے لڑکوں نے اپنے پیسوں سے دو منزلہ تعمیرات کی۔ اب تیسرے نمبر کی بہن اپنے حصے کا تقاضا کررہی ہے معلوم یہ کرنا ہے کہ ترکہ کی تقسیم کیسے ہوگی ؟ مکان کی کونسی قیمت کا اعتبار ہوگا موجودہ کا یا سابقہ کا جب اس پر تعمیرات نہ ہوئی تھی۔ نیز کیا مجھے شرعا یہ اختیار حاصل ہے کہ میں ایک ایک کرکے بہنوں کا حصہ دوں کیونکہ میرے پاس اتنے وسائل نہیں کہ سب کو ایک ساتھ دے سکوں ۔
سائل:اقبال حسین :کراچی ۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
پوچھی گئی صورت میں مرحومین پراگرکوئی قرض تھا تو ان کے چھوڑے ہوئے مال میں سے پہلے اس کی ادائیگی اور اگر کوئی جائز وصیت کی تھی تو بقیہ مال کی تہائی سے وصیت نافذ کرنے کے بعد گھر،ان تمام ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم کیا جائے گا،جو مورث کی موت کے وقت حیات تھے ۔ پہلے انتقال کر جانے والوں کو حصہ نہیں ملے گا۔
والد کے گھر پر جو دو منزلہ عمارت تعمیر کی گئی ہے، اسکی تقسیم اس طرح ہوگی والد کےسابقہ مکان کی ،بعد میں کی جانے والی
والی تعمیرات کے ساتھ اور اس تعمیرات کے بغیر دونوں طرح موجودہ مارکیٹ ویلیو لگوائی جائے ، قیمت میں جو تفاوت آئےگا وہ تعمیرات کرنے والوں کو دیا جائےگا ۔ مثلا سابقہ مکان( یعنی تعمیرات کے بغیر)کی قیمت ایک لاکھ ہے اور تعمیرات کے ساتھ تین لاکھ تو ایک لاکھ تمام ورثاء میں انکے شرعی حصص کے مطابق تقسیم ہونگے اور دو لاکھ تعمیر کرنے والوں کے ہوں گے۔
نیز تمام ورثاء کا حصہ فورا دینا لازم ہے، خواہ اسکے لئے اس گھر کو ہی کیوں نہ بیچنا پڑے البتہ اگر ورثاء خود سے رضا مندی کا اظہار کردیں تو اس صورت میں قسطوں کی صورت میں دینے میں کوئی حرج نہیں ۔
تقسیم کی تفصیل یہ ہے کہ کل مالِ وراثت کے 4320 حصے کیے جائیں گے ۔ہر وارث کا حصہ درج ذیل ہے:
اقبال:1440 ،امینہ: 720 ، سبینہ:720 ، رونق:144 ، یونس:144 ، جاید:144 ، ساجد: 144، شمیم، 72 ، ساجدہ ،72 ، امین:120 ،عتیق:120، سلیم:120، رئیس:120
سائرہ:60 ، شاہین:60 ، فاطمہ:15، عبداللہ:70، زینب: 35
وراثت صرف ان میں تقسیم ہوتی ہے جو مورث کے وصال کے وقت زندہ ہوں۔ ہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی میں ہے:ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ومن مات قبل ذلك لم يرث منه :ترجمہ: اور میت کا مال اس کے ان ورثاء میں تقسیم ہوگا جو اسکی موت کے وقت موجود (زندہ) تھے اور جو ا س کی موتسے پہلے مرگئے وہ اس کے وارث نہیں ہونگے،(لہذا ان میں وراثت تقسیم نہیں ہوگی)۔( الہدایۃ شرح بدایۃ المبتدی کتاب المفقود جلد 2ص 424)
یوں ہی البنایہ شرح الہدایہ میں اسی کے تحت ہے:وقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت: أي وقت الحكم بالموت۔ ترجمہ:اور اسکا مال اسکے ان ورثاء میں تقسیم کیا جائے گا جو اس(مورث) کی موت کے وقت موجود ہوں۔ (البنایۃ ، شرح الہدایہ جلد 7ص367)
فائدہ:رقم تقسیم کرنے کاحسابی طریقہ: گھر کی تمام رقم کو فتوی میں بیان کردہ کل حصوں کو (4320) پر تقسیم کریں جو جواب آئے اس جواب کو محفوظ کرلیں اور پھر اس محفوظ جواب کو ہر وارث کے حصہ سے ضرب کریں جو جواب آئے گا وہ ہر وارث کی رقم ہوگی جو بطورِ وراثت اسے اپنے مورث سے مل رہی ہے۔پھر آخر میں تمام ورثاء کی رقم کو ملاکر چیک کرلیں اگر وہ کل مجموعہ کل جائیداد کی رقم کے برابر ہے تو تقسیم درست ہے ورنہ نہیں۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:محمد زوہیب رضا قادری
الجواب الصحیح:ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاریخ اجراء:11 محرم الحرام 1443 ھ/20 اگست 2021 ء