نوٹوں کا ہار پہننا کیسا
    تاریخ: 25 نومبر، 2025
    مشاہدات: 64
    حوالہ: 246

    سوال

    نوٹوں کا ہار پہننا و پہنانا کیسا ہے؟کیا اس میں تصویر کی تعظیم ہے؟

    سائل: سید انس امجدی۔

    بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

    اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ

    نوٹوں کا ہار پہننا یا پہنانا دونوں جائز ہے ،اس میں تصویر کی تعظیم نہیں کہ تعظیم کا مدار عرف پر ہے جو کہ ہمارے ہاں مفقود ہے والحکم یدور مع العلۃ۔البتہ اختلافِ علماء سے بچتے ہوئے ازروئے تقوی و احتیاط ایسا ہار نہ پہنچا جائے۔

    نفس مسئلہ کی علّت تعظیم ہے کہ تصویر رکھنے سے متعلق تمام تر جزئیات میں جہاں بھی تعظیم پائی جائے گی وہاں حکم ممانعت آئے گا۔امام اہلسنت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن (المتوفی:1340ھ) نے اپنے رسالے ’’العطایا القدیرفی حکم التصویر‘‘میں تصویر رکھنے سے متعلق علّت اس تصویر کی تعظیم بمعنی تشبہ عبادت بیان فرمائی جو تصویر بت کے معنی میں ہو۔

    فتاوی رضویہ شریف میں ہے:’’مغز تحقیق یہ ہے کہ اصل علت تعظیم ہے ‘‘۔(فتاوی رضویہ،604/24،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    پھر امام اہلسنت رحمہ اللہ نےچار مقامات پر تعظیم کا معنی بیان کیا ہے:

    پہلا مقام: ’’تعظیم تصویر تشبہ عبادت کومستلزم‘‘۔(فتاوی رضویہ،599/24)

    دوسرے مقام پر فرمایا: ’’ثم اقول جبکہ ہرتعظیم تشبّہ عبادت صورت ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ،605/24)

    تیسرے مقام پر فرمایا:’’ علت کراہۃ تشبّہ عبادت ہے خاص ہویاعام ، توضرور ہے کہ وہ تصویرجنس مایعبدہ المشرکون سے ہوکہ جسے مشرکین پوجتے ہی نہیں وہ بت کے حکم میں نہیں کہ اس کے بروجہ تعظیم رکھنے یا اس کی طرف نمازپڑھنے میں معاذاﷲ عبادت بت سے تشبہ ہو، ولہٰذا جابجا کراہت کو عبادت اور اس کے عدم کو عدم سے تعلیل فرماتے ہیں کہ یہ مشرک اس کی عبادت نہیں کرتے، لہٰذا کراہت نہیں‘‘۔(فتاوی رضویہ،617/24)

    تشبہ خاص یعنی نماز کی حالت میں تصویر ممنوع اور تشبہ عام یعنی محض تصویر رکھنا۔تشبہ خاص و عام کا یہ معنی امام نے بیان فرمایا:’’تشبہ دو قسم ہے،ایک عام کہ مطلقاً تصویر ممنوع کو بروجہ تعظیم رکھنے سے حاصل ہوتا ہے... دوسرا تشبہ خاص کہ اسکے علاوہ نفس نماز میں مصلی کے کسی فعل یا ہیات سے ظاہر ہو‘‘۔(فتاوی رضویہ،609/24)

    چوتھے مقام پر آکر امام اہلسنت نے علّتِ تعظیم کا حقیقی معنی واضح کیا کہ ایسی تصویر کو رکھنا منع ہے جو بت کے معنی میں ہو،چانچہ فرمایا:’’فاقول : وباﷲ التوفیقیہاں مناط ِمنع، نہ صورت کی عبادت ہوناہے نہ ذوالصورۃ کی، نہ اس کی نوع نہ جنس قریب کی۔ نہ اس کا اس حالت پرہونا کہ ذوالصورۃ اس حال پر ہو تو زندہ رہے ان میں سے کچھ کسی وجہ پر، نہ وہ سوال مرتفع ہوں نہ فروع ملتئم بلکہ مناط تصویر کا معنیوثن میں ہوناہے جیسا کہ محقق نے فتح میں اشارہ فرمایا : حیث قال کما تقدم لیس لھاحکم الوثن فلاتکرہ فی البیت۔جیسا کہ پہلے گزرچکا(کہ اس حالت میں) تصویر کے لئے حکمِ صنم نہیں، لہٰذا اس کاگھرمیں ہونا مکروہ نہیں‘‘۔( فتاویٰ رضویہ، 24/634)

    تصویر رکھنے میں تعظیم کی مختلف صورتیں ہیں،چند یہ ہیں:

    (۱)باعزاز مکان میں رکھنا۔ (۲)کہیں نصب کرنا۔(۳) چوکھٹوں میں رکھ کردیوارپرلگانا۔ (۴) پردے پر منقوش کرنا۔ (۵) دیوار پر منقوش کرنا۔ (۶) کسی اونچی جگہ رہنے والی شے پر منقوش کرنا۔

    تصویر رکھنے کا حکم: امام اہلسنت رحمہ اللہ نے تصویر رکھنے سے متعلق مختلف جزئیات کا حکم بیان فرمایا:’’یہاں (یعنی تصویر رکھنے میں)صرف اس قدردرکارہے کہ تصویر کسی صورت حیوانیہ کے لئے مرأۃ ملاحظہ ہو اور اس کامدار صرف چہرہ پرہے توقطعاً یہ سب تصویریں معنی بت میں ہیں اور ان کامکان میں باعزاز رکھنا، نصب کرنا، چوکھٹوں میں رکھ کردیوارپرلگانایاپردے یادیواریاکسی اونچی رہنے والی شے پراس کامنقوش کرنا اگرچہ نیم قدیاصرف چہرہ ہو یادیوارگیروں پرانسان یا حیوان کے چہرے لگانا یاپانی کے نل کے منہ یالاٹھی کی بالائی شام پرکسی حیوان کاچہرہ بنوانا یاایسی کسی بنی ہوئی چیزکورکھنا استعمال کرنا سب ناجائزوحرام ومانع دخول ملائکہ علیہم الصلٰوۃ والسلام‘‘۔( فتاویٰ رضویہ، 24/638)

    البتہ مقامات اہانت و ضرورت اس سے مستثنی ہیں،مثلاً:

    (۱) جوتے اتارنے کی جگہ ۔

    (۲) بستر کی چادر، جس کے اوپر لوگ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔

    (۳) تکیے کے اوپر جس کو لوگ کمر کے نیچے یا ہاتھ کے نیچے دباتے ہیں۔

    (۴) تصویر اتنی چھوٹی ہو کہ زمین پر رکھ کر کھڑے ہوکر دیکھنے سے اعضاء کی تفصیل نظر نہ آئے۔

    (۵)چہرہ بگاڑدیں کاٹ دیں محو کریں۔

    (۶)ضرورت ومجبوری ہو جیسے سکہ کی تصویریں۔

    چونکہ ان صورتوں میں تعظیم کا معنی پایا نہیں گیا یا ضرورت کی وجہ سے تعظیم مقصود نہیں ،لہذا ایسی تصاویر رکھنی جائز ہونگی اگرچہ ایسی تصاویر بنانا اب بھی حرام ہونگی کہ بہرحال مضاہات لخلق اللہ ضرور ہیں۔

    فتاوی رضویہ میں ارشاد ہوا: ’’شک نہیں کہ ذی روح کی تصویر کھینچنی بالاتفاق حرام ہے اگر چہ نصف اعلٰی بلکہ صرف چہرہ کی ہی ہو کہ تصویر چہرہ کا نام ہے۔ امام طحطاوی رحمہ اللہ تعالی شرح معانی الاثار میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے راوی الصورۃ الرأس (سر کی تصویر کے لئے یہ حکم نہیں کیونکہ وہ جائز نہیں، اس لئے کہ تصویر چہرہ ہی کانام ہے) اگر چہ ان کے پاس رکھنے میں خلاف ہے اور صحیح ومعتمد یہ ہے کہ ان کا بھی رکھنا حرام ہے جیسا پوری تصویر کا مگر جبکہ اتنی چھوٹی ہو کہ زمین پر رکھ کر کھڑے ہوکر دیکھنے سے اعضاء کی تفصیل نظر نہ آئے یا ذلت وخواری کی جگہ مثلافرش پا انداز میں ہو یا چہرہ بگاڑدیں کاٹ دیں محو کریں کہ ان صورتوں میں پوری تصویر بھی رکھنی جائزہے یا ضرورت ومجبوری ہوجیسے سکہ کی تصویریں،اس کی کامل تحقیق ہمارے رسالہ ’’عطایا القدیرفی حکم التصویر‘‘میں ہے اور ان صورتوں میں اگر چہ رکھناجائز ہے کھینچنا ان کا بھی حرام ہے‘‘۔(فتاوی رضویہ،21/196،رضا فاؤنڈیشن لاہور)

    مذکورہ بالا تفصیلات پر غور کریں تو معلوم ہو کہ نفس مسئلہ میں علّت تعظیم نہیں پائی جاتی۔

    اوّلاً: نوٹوں کے ہار میں موجود تصویر کو کوئی بھی سنی صحیح العقیدہ مسلمان بت کے معنی میں نہیں لیتا،جو کہ علّت ِتعظیم کی اصل ہے۔

    امام اہلسنت رحمہ اللہ فرماتے ہیں:’’تعظیم و توہین کا مدار عرف پر ہے‘‘۔( فتاویٰ رضویہ ، 6/634)

    ثانیاً: ہمارے دور میں نوٹوں کے ہار کو صرف دولہے کی خوشی کیلئے پہنایا جاتا ہے، فی نفسہ اسکی کوئی تعظیم نہیں ہوتی،تعظیم تو دور بعض اوقات اہانت بھی پائی جاتی ہے کہ لوگوں کے پاؤں میں یا بیٹھنے میں یہ ہار دب بھی جاتے ہیں اور ہار بنانے میں نوٹوں کو موڑ ا تروڑا بھی جاتا ہے جس میں اہانت واضح ہے اور تفصیل گزری کہ اہانت کی صورتوں میں تصویر کی ممانعت نہیں۔

    ثالثا: نوٹوں کے ہار میں تصویر کی تعظیم مقصود نہیں ہوتی،کہ کوئی یہ نہیں کہتا کہ ’’واہ مجھے قائد اعظم کی اتنی تصویریں پہنائیں گئیں‘‘،بلکہ کہتا ہے ’’مجھے 100 کے نوٹ والا ہار پہنایا یا 500 کے نوٹ والا ہار پہنایا‘‘۔

    روپوں کے متعلق امام اہلسنت رحمہ اللہ نے فرمایا:’’روپے کوسنبھال کررکھنا زمین پرپھینک نہ دینا کہ یہ بوجہ تصویرنہیں بلکہ بہ سبب مال، اگرسکہ میں تصویر نہ ہوتی جب بھی وہ ایسی ہی احتیاط سے رکھاجاتا، یہ بحال ضرورت جائز ہے جس طرح روپے میں کہ تکریم تصویر مقصود نہیں اوربے تصویرکایہاں چلنانہیں اور اس پرسے تصویرمٹائیں توچلے گانہیں الضرورات تبیح المحظورات یعنی ضرورتیں ممنوع کاموں کومباح کردیتی ہیں۔ ( فتاویٰ رضویہ ، 24/640)

    اسکی دوسری نظیر قدم بوسی کیلئے جھکنا ہے جو کہ جائز و سنت ہے کیونکہ یہاں مقصود جھکنا نہیں بلکہ قدم بوسی ہے،ایسا ہی نوٹوں کے ہار کا معاملہ ہے کہ مقصود نوٹوں کی تصویر نہیں ۔

    سیدی اعلیٰ حضرت نے فرمایا:’’انحناء یعنی جھکنا دو قسم ہے،مقصود و وسیلہ ۔ اگر خود نفسِ انحناء سے تعظیم مقصود نہیں بلکہ دوسرے فعل سے جس کا یہ ذریعہ ہے تو اس صورت میں اس کا حکم اس فعل کا حکم ہوگا۔ قدمبوسی جائز بلکہ مسنون ہے تو اس کے لیے جھکنا بھی مباح بلکہ سنت ہے اور غیر خدا کو سجدہ تحیت حرام ہے تو اس کے لئے جھکنا بھی حرام ہے۔ دوسری قسم کہ نفسِ انحناء سے تعظیم مقصود ہویہ اگر رکوع تک ہے ناجائز و گناہ ہے, اور اس سے کم ہے تو حرج نہیں ۔(فتاوی رضویہ ، 22 /550)

    اشکال(۱): بعض مفتیان کرام کا نوٹوں کے ہار کو ناجائز لکھناکس معنی میں ہے؟

    جواب: ہند کے علماء کرام نے عدم جواز کا فتویٰ بالیقین اپنےعرف کی بنیاد پر دیا اور وہ اپنے بلاد کے عرف کو ہم سے زیادہ جانتے ہیں۔مزید یہ کہ ہندوستان کی نوٹوں میں گاندھی کی تصویر ہوتی ہے جو کہ مسلمان نہیں جس سے ایک عام مسلمان بھی کراہت محسوس کرتا ہے،گویا ان لوگوں کے عرف کے مطابق نوٹ میں رجہان تصویر کی طرف منجر ہوا جبکہ ہمارے ملک پاکستان میں نوٹ پر کسی غیر مسلم کی تصویر نہیں جس کی وجہ سے مرکزِ توجہ تصویر کے بجائے مال ہوتا ہے،اسی لئے ان ہاروں کو پہننے والا کوئی یہ نہیں کہتا کہ مجھے اتنی اتنی تصویریں پہنائیں گئیں۔

    اشکال(۲): نوٹوں کے ہارکو سنبھالا جاتا ہے لہذا تعظیم پائی گئی۔

    جواب:کسی چیز کو سنبھالنا اسے معظم نہیں بناتا مثلا جیب میں سنبھلے نوٹ کہ یہ معظم نہیں۔

    روپوں کو سنبھالنے کے متعلق یہی حکم امام اہلسنت رحمہ اللہ نے بھی بیان فرمایا :’’دوم جس چیزمیں تصویرہو اسے بلااہانت رکھنا مگروہ ترک اہانت بوجہ تصویرنہ ہو بلکہ اور سبب سے جیسے روپے کوسنبھال کررکھنا زمین پرپھینک نہ دینا کہ یہ بوجہ تصویرنہیں بلکہ بہ سبب مال، اگرسکہ میں تصویر نہ ہوتی جب بھی وہ ایسی ہی احتیاط سے رکھاجاتا، یہ بحال ضرورت جائز ہے‘‘۔( فتاویٰ رضویہ ، 24/640)

    خلاصہ کلام یہ ہے کہ جن بلاد میں عرفا نوٹ پر تصویر کو تعظیم سمجھا جاتا ہو وہاں عرف کی وجہ سے منع ہوگا اور جہاں ایسا نہیں تو حکم ممانعت بھی نہیں جیسا کہ ہمارے ہاں۔البتہ اختلاف علماء سے بچتے ہوئے ازروئے تقوی و احتیاط ایسا ہار نہ ہی پہنا جائے تو بہت اچھا ۔هذا ما ظهر لي

    واللہ تعالٰی اعلم بالصواب

    کتبـــــــــــــــہ: ابو امیر خسرو سید باسق رضا

    الجواب صحیح : ابوالحسنین مفتی وسیم اختر المدنی

    تاریخ اجراء:9 جمادی الاول1444 ھ/24 نومبر2023ء