سوال
ہم نے پڑھا ہے کہ مالی جرمانہ منسوخ ہوچکا ہے اور منسوخ پر عمل حرام ہے۔ اس ضمن میں عرض ہے کہ مختلف تعلیمی بورڈ مثلا تنظیم المدارس ،کنز المدارس وغیرہ امتحانی فارم کی لیٹ فیس کا اعلان بھی کرتے ہیں، جیسے ابھی گزشتہ ماہ بھی ان بورڈز کے امتحانی فارم بھرے گئے، جس میں ہفتہ وار اور روزانہ وار لیٹ فیس بھی درج تھی ۔برائے کرم اس کا جواب عطا فرمادیں۔
سائل: یاسر رضا۔
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
اَلْجَوَابُ بِعَوْنِ الْمَلِکِ الْوَھَّابِ اَللّٰھُمَّ ھِدَايَةَ الْحَقِّ وَ الصَّوَابِ
مذہبِ مختار و مفتیٰ بہ میں مالی جرمانہ کسی کام پر جائز نہیں بلکہ ناجائز و حرام ہےاور یہ باطل طریقے سے دوسرے کا مال کھانا ہے اور اللہ تبارک و تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں ایک دوسرے کا مال باطل طریقے سے کھانے سے منع فرمایا ہے۔
قال الله تعالى: وَ لَا تَاْكُلُوْۤا اَمْوَالَكُمْ بَیْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ.ترجمہ: اور آپس میں ایک دوسرے کا مال ناحق نہ کھاؤ۔(البقرة: 188)
اس آیت کے تحت تفسیر ابی السعود میں ہے: "والمرادُ بالباطل ما يخالف الشرعَ كالغصب والسرقةِ والخيانةِ والقِمارِ وعقودِ الربا وغير ذلك مما لم يُبِحْه الشرعُ أي لا يأكل بعضكم أموال بعض بغير طريقٍ شرعي". ترجمہ: (مذکورہ آیت میں باطل سے مراد) ہر وہ طریقہ ہےجو شریعت کے مخالف ہو جیسے، غصب، چوری، خیانت، جوئے، سودی لین دین، اور اس کے علاوہ ہر اس طریقے سے مال حاصل کرنا جس کو شریعت نے حرام قراردیا ہو، (آیت کامعنی یہ ہےکہ )تم میں کوئی بھی کسی کا مال شرعی طریقے کے بغیر حاصل نہ کرے۔(تفسیر ابی السعود، 2/170، تحت سورۃ البقرۃ: 188، دار إحياء التراث العربي، بيروت)
خاتم المحققین علامہ سید محمد بن عمر ابن عابدین الشامی (المتوفی: 1252ھ) فرماتے ہیں: "وَفِي شَرْحِ الْآثَارِ: التَّعْزِيرُ بِالْمَالِ كَانَ فِي ابْتِدَاءِ الْإِسْلَامِ ثُمَّ نُسِخَ اهـ.وَالْحَاصِلُ أَنَّ الْمَذْهَبَ عَدَمُ التَّعْزِيرِ بِأَخْذِ الْمَالِ".ترجمہ: شرح الآثار میں ہے کہ مالی تعزیر ابتدائے اسلام میں تھی پھر منسوخ ہوگئی۔ حاصل کلام یہ ہے کہ اصل مذہب حنفی میں مال لے کر تعزیر نہیں۔(رد المحتار، کتاب الحدود، باب التعزیر، 4/61، دارالفکر)
البتہ پوچھی گئی صورت مالی جرمانہ کی نہیں کیونکہ وہاں ہر بار مخصوص فیس طے کی جاتی ہے، مثلاً: پہلی طے شدہ تاریخ پر فیس 1000 روپے دوسری تاریخ پر 2000 اور تیسری تاریخ پر 3000، یعنی ایسا نہیں کہ اصلا فیس 1000 روپے تھی پھر پہلی تاریخ گزرنے پر اصل فیس کے ساتھ جرمانہ کے طورپر 1000 روپے اضافی لئے جارہے ہیں، بلکہ ہر بار فیس کی نئی رقم طے کی جاتی ہے جو کہ اجرت ہونے کی وجہ سے جائز ہے۔یہ ایسا ہی ہے جیسے کسی چیز کی قیمت نقد میں 1000 اور ادھار میں 2000 طے کی جائے تو ادھار والی صورت میں کوئی مالی جرمانہ نہیں کہ وہاں بھی عوض مبیع موجود ہے ،محض مدت کے مقابل رقم نہیں۔لیٹ فیس کی حکمت اداراتی قوانین کا پابند کرنا ہوتا ہے۔
اس قسم کا فتوی فتاوی مرکز تربیت افتاءمیں بھی موجود ہے کہ جہاں مدرسے کی قانونی مخالفت پر لیٹ فیس کو مالی جرمانہ کے بجائے درست محمل بیان ہوا، چنانچہ لکھا ہے:’’بعض مدارس میں رخصت معینہ پر تاخیر کرنے والے طالب علم سے فی یوم ۵۰ روپے کے حساب سے یاکم وبیش جو لیٹ فیس وصول کی جاتی ہے وہ جائز ودرست ہے کہ یہ مدرسے کی جانب سے طالب علم کو ملنے والی قیام وطعام کی سہولت کا معاوضہ ہے اور یہ تعزیر باالمال نہیں جو منسوخ و ناجائز ہے۔بلکہ یہ مدرسے کے قانون کی خلاف ورزی کرنے والے طلبہ سے مفت سہولیات کو چند دنوں کے لئے بند کردینا ہے تاکہ وہ بلاوجہ ناغہ نہ کرے اور محنت سے پڑھے‘‘۔ (فتاوی مرکز تربیت افتاء،2/421، فقیہ ملت اکیڈمی ہند)
ادھار میں چیز مہنگی بیچنے سے متعلق امام ابو عیسی ترمذی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: "وَقَدْ فَسَّرَ بَعْضُ أَهْلِ العِلْمِ قَالُوا: بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ أَنْ يَقُولَ: أَبِيعُكَ هَذَا الثَّوْبَ بِنَقْدٍ بِعَشَرَةٍ، وَبِنَسِيئَةٍ بِعِشْرِينَ، وَلَا يُفَارِقُهُ عَلَى أَحَدِ البَيْعَيْنِ، فَإِذَا فَارَقَهُ عَلَى أَحَدِهِمَا فَلَا بَأْسَ إِذَا كَانَتِ العُقْدَةُ عَلَى أَحَدٍ مِنْهُمَا".ترجمہ: بعض اہل علم اس حدیث کی تشریح ان الفاظ میں کی ہے کہ ایک بیع میں دو بیع سے مراد یہ ہے کہ بائع کہے کہ میں تم کو یہ کپڑا نقد دس درہم میں بیچتا ہوں اور ادھار بیس درھم میں اور ان میں سے کسی بھی بیع کے تعین پر جدائی نہ ہوئی اور اگر کسی کو متعین کرنے کے بعد جدائی ہوئی ہو تو اس میں کوئی حرج نہیں ،کیونکہ معاملہ ایک بیع پر طے ہوگیا۔ (سنن الترمذی ،کتاب البیوع،3/525،الرقم:1231،مصطفى البابی)
شمس الآئمہ محمد بن احمد السرخسی (المتوفی:483ھ) فرماتے ہیں: "وَإِذَا عَقَدَ الْعَقْدَ عَلَى أَنَّهُ إلَى أَجَلِ كَذَا بِكَذَا وَبِالنَّقْدِ بِكَذَا أَوْ قَالَ إلَى شَهْرٍ بِكَذَا أَوْ إلَى شَهْرَيْنِ بِكَذَا فَهُوَ فَاسِدٌ؛ لِأَنَّهُ لَمْ يُعَاطِهِ عَلَى ثَمَنٍ مَعْلُومٍ وَلِنَهْيِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ شَرْطَيْنِ فِي بِيَعٍ وَهَذَا هُوَ تَفْسِيرُ الشَّرْطَيْنِ فِي بِيَعٍ وَمُطْلَقُ النَّهْيِ يُوجِبُ الْفَسَادَ فِي الْعُقُودِ الشَّرْعِيَّةِ وَهَذَا إذَا افْتَرَقَا عَلَى هَذَا فَإِنْ كَانَ يَتَرَاضَيَانِ بَيْنَهُمَا وَلَمْ يَتَفَرَّقَا حَتَّى قَاطَعَهُ عَلَى ثَمَنٍ مَعْلُومٍ، وَأَتَمَّا الْعَقْدَ عَلَيْهِ فَهُوَ جَائِزٌ؛ لِأَنَّهُمَا مَا افْتَرَقَا إلَّا بَعْدَ تَمَامِ شَرَطِ صِحَّةِ الْعَقْدِ".ترجمہ: اگر معاملہ اس طرح طے کیا جائے کہ ’ایک مقررہ مدّت تک قیمت اتنی ہوگی اور نقد دینے پر اتنی‘یا یوں کہا جائے کہ ’ایک مہینے کی معیاد پر اتنی قیمت اور دو مہینے کی معیاد پر اتنی قیمت‘تو یہ عقد فاسد ہے، کیونکہ خریدار اور فروخت کنندہ نے کوئی متعین قیمت طے نہیں کی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک بیع میں دو شرطیں لگانے سے منع فرمایا ہے۔ یہی حدیثِ نبوی میں مذکور ’دو شرطوں والے بیع‘کی تشریح ہے۔ شریعت میں مطلق ممانعت عقد کو فاسد کر دیتی ہے۔ یہ حکم اُس صورت میں ہے جب فریقین اسی حالت پر جدا ہو جائیں۔ البتہ اگر وہ دونوں مجلس میں ہی رضامند رہتے ہوئے جدا نہ ہوں، بلکہ کسی ایک متعین قیمت پر اتفاق کر لیں اور عقد اسی پر مکمل کریں، تو معاملہ جائز ہو گا، کیونکہ وہ شرطِ صحتِ عقد پوری کرنے کے بعد ہی جدا ہوئے ہیں۔ (المبسوط للسرخسي ، باب البیوع الفاسدۃ،13/ 7-8،دار المعرفۃ بیروت)
فتح القدیر میں علامہ کمال الدین محمد بن عبد الواحد ابن الہمام (المتوفی:861ھ) فرماتے ہیں: "كَوْنُ الثَّمَنِ عَلَى تَقْدِيرِ النَّقْدِ أَلْفًا وَعَلَى تَقْدِيرِ النَّسِيئَةِ أَلْفَيْنِ لَيْسَ فِي مَعْنَى الرِّبَا".ترجمہ: نقد کی صورت میں ثمن ایک ہزار ہونا اور ادھار کی صورت میں ثمن دو ہزار ہونا سود کے حکم میں نہیں ہے۔(فتح القدیر ،6/81، رشیدیہ کوئٹہ)
فقیہ ملت مفتی جلال الدین احمد امجدی (المتوفی:1422ھ) فرماتے ہیں:”کوئی بھی سامان اس طرح بیچنا کہ اگر نقد قیمت فوراً ادا کردے تو تین سو قیمت لے اور اگر ادھار سامان کوئی لے تو اس سے تین سو پچاس روپیہ اسی سامان کی قیمت لے۔ یہ شریعت میں جائز ہے سود نہیں ہے نقد اور ادھار کا الگ الگ بھاؤ رکھنا شریعت میں جائز ہے مگر یہ ضروری ہے کہ سامان بیچتے وقت ہی یہ طے کردے کہ اس سامان کی قیمت نقد خریدو تو اتنی ہے اور ادھار خریدو تو اتنی ہے“۔(فتاویٰ فیض رسول، 2/381، شبیر برادرز لاہور)۔
واللہ تعالٰی اعلم بالصواب
کتبـــــــــــــــــــــــــــہ:ابو امیر خسرو سید باسق رضا
الجـــــواب صحــــیـح:ابو الحسنین مفتی وسیم اختر المدنی
تاريخ اجراء:7جمادی الاولی 1447ھ/30 أكتوبر 2025ء